اٹلی نے غزہ کے محصور عوام کے لیے امداد لے جانے والے بحری قافلے ’صمود فلوٹیلا‘ کے گرفتار ارکان کے ساتھ ہونے والے برے سلوک پر سخت ردعمل ظاہر کیا ہے۔ اطالوی حکومت نے اس معاملے پر شدید احتجاج ریکارڈ کرواتے ہوئے وضاحت کے لیے اسرائیلی سفیر کو وزارتِ خارجہ طلب کرلیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: اسرائیل کا غزہ جانے والے صمود فلوٹیلا پر حملہ، پاکستانیوں سمیت 430 رضاکار گرفتار
اطالوی حکومت کی جانب سے جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ غزہ امداد لے جانے والے قافلے کے گرفتار ارکان کے ساتھ اسرائیل کا روا رکھا جانے والا رویہ کسی طور پر بھی قابلِ قبول نہیں ہے۔ واضح رہے کہ عالمی صمود فلوٹیلا کی تمام کشتیاں اس وقت اسرائیل کی تحویل میں ہیں اور مختلف ممالک سے تعلق رکھنے والے 430 رضاکاروں کو گرفتار کیا جا چکا ہے۔
اطالوی وزیراعظم جورجیا میلونی اور وزیر خارجہ انتونیو تجانی نے ایک مشترکہ بیان جاری کرتے ہوئے اس اسرائیلی کارروائی کی سخت ترین الفاظ میں مذمت کی ہے۔ انہوں نے واضح کیا ہے کہ اٹلی فلوٹیلا کے ارکان کے ساتھ ہونے والے اس توہین آمیز سلوک پر تل ابیب سے باقاعدہ معافی کا مطالبہ کرتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: سابق سینیٹر مشتاق احمد سمیت صمود فلوٹیلا کے بیشتر کارکنان رہا، 2 تفتیش کے لیے اسرائیل منتقل
دونوں اطالوی رہنماؤں نے اپنے مشترکہ بیان میں مزید کہا کہ انسانی ہمدردی کی بنیاد پر کام کرنے والے رضاکاروں کے خلاف یہ اسرائیلی کارروائی دراصل اطالوی حکومت کی جانب سے کی جانے والی مسلسل درخواستوں کی کھلی بے عزتی ہے۔ اس واقعے کے بعد دونوں ممالک کے سفارتی تعلقات میں شدید تناؤ پیدا ہو گیا ہے۔














