وفاقی آئینی عدالت نے 29 برس سے جیل میں قید سزائے موت کے مجرم جہانزیب خان کی سزا عمر قید میں تبدیل کرنے کی درخواست خارج کر دی، جبکہ سماعت کے دوران یہ انکشاف بھی سامنے آیا کہ سپریم کورٹ میں 2005 سے زیرالتواء نظرثانی درخواست کا سراغ نہیں مل سکا۔ عدالت نے قرار دیا کہ جب نظرثانی درخواست پہلے ہی زیرالتواء ہے تو آئینی عدالت اس معاملے میں مداخلت نہیں کر سکتی۔
چیف جسٹس وفاقی آئینی عدالت جسٹس امین الدین خان کی سربراہی میں سماعت ہوئی۔ درخواست گزار کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ جہانزیب خان کو 1997 میں مردان میں قتل کے الزام میں گرفتار کیا گیا تھا، جبکہ مردان کی ٹرائل کورٹ نے 2000 میں انہیں سزائے موت سنائی تھی، جسے بعد ازاں اپیلوں میں بھی برقرار رکھا گیا۔
یہ بھی پڑھیے4 بہنوں کا حصہ ایک ہی بہن کو کیوں ملا؟ وفاقی آئینی عدالت میں جائیداد تقسیم کیس کی سماعت
وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ سپریم کورٹ نے 2005 میں سزا برقرار رکھی تھی، جس کے بعد نظرثانی درخواست دائر کی گئی، تاہم آج تک اس درخواست کا کوئی سراغ نہیں مل سکا۔ ان کے مطابق جیل حکام نے 2020 میں بھی سپریم کورٹ کو خط لکھ کر نظرثانی درخواست کا اسٹیٹس معلوم کرنے کی کوشش کی، لیکن کوئی جواب موصول نہیں ہوا۔
درخواست گزار کے وکیل نے کہا کہ سپریم کورٹ سے جواب نہ ملنے کے باعث سزا کو عمر قید میں تبدیل کرنے کی استدعا کی گئی۔ انہوں نے مزید بتایا کہ پشاور ہائیکورٹ نے بھی یہ مؤقف اختیار کیا تھا کہ چونکہ سپریم کورٹ سزا برقرار رکھ چکی ہے، اس لیے وہ اس میں تبدیلی نہیں کر سکتی۔
سماعت کے دوران چیف جسٹس امین الدین خان نے ریمارکس دیے کہ اپیل 79 روز کی تاخیر سے دائر کی گئی ہے، جبکہ تاخیر کی وجوہات زبانی مؤقف اور درخواست میں درج مؤقف سے مختلف ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جو وجوہات درخواست میں لکھی گئی ہیں، ان کی بنیاد پر تاخیر نظرانداز نہیں کی جا سکتی۔
اس موقع پر وکیل درخواست گزار نے مؤقف اختیار کیا کہ تاخیر سے متعلق متفرق درخواست سابق وکیل نے دائر کی تھی۔
یہ بھی پڑھیے وفاقی آئینی عدالت کا بڑا فیصلہ، 1985 سے جاری جائیداد تنازع ختم
چیف جسٹس نے مزید ریمارکس دیے کہ اگر نظرثانی درخواست سپریم کورٹ میں زیرالتواء ہے تو وفاقی آئینی عدالت اس معاملے میں کیسے مداخلت کر سکتی ہے۔
جسٹس علی باقر نجفی نے بھی ریمارکس دیے کہ مناسب یہی ہوگا کہ درخواست گزار سپریم کورٹ میں زیرالتواء نظرثانی درخواست کی پیروی کرے، کیونکہ ممکنہ ریلیف وہیں سے مل سکتا ہے۔
بعد ازاں عدالت نے سزا کو عمر قید میں تبدیل کرنے کی درخواست خارج کر دی۔














