29 سال سے قید سزائے موت کے مجرم کی اپیل خارج، نظرثانی درخواست گم ہونے کا انکشاف

جمعرات 21 مئی 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

وفاقی آئینی عدالت نے 29 برس سے جیل میں قید سزائے موت کے مجرم جہانزیب خان کی سزا عمر قید میں تبدیل کرنے کی درخواست خارج کر دی، جبکہ سماعت کے دوران یہ انکشاف بھی سامنے آیا کہ سپریم کورٹ میں 2005 سے زیرالتواء نظرثانی درخواست کا سراغ نہیں مل سکا۔ عدالت نے قرار دیا کہ جب نظرثانی درخواست پہلے ہی زیرالتواء ہے تو آئینی عدالت اس معاملے میں مداخلت نہیں کر سکتی۔

چیف جسٹس وفاقی آئینی عدالت جسٹس امین الدین خان کی سربراہی میں سماعت ہوئی۔ درخواست گزار کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ جہانزیب خان کو 1997 میں مردان میں قتل کے الزام میں گرفتار کیا گیا تھا، جبکہ مردان کی ٹرائل کورٹ نے 2000 میں انہیں سزائے موت سنائی تھی، جسے بعد ازاں اپیلوں میں بھی برقرار رکھا گیا۔

یہ بھی پڑھیے4 بہنوں کا حصہ ایک ہی بہن کو کیوں ملا؟ وفاقی آئینی عدالت میں جائیداد تقسیم کیس کی سماعت

وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ سپریم کورٹ نے 2005 میں سزا برقرار رکھی تھی، جس کے بعد نظرثانی درخواست دائر کی گئی، تاہم آج تک اس درخواست کا کوئی سراغ نہیں مل سکا۔ ان کے مطابق جیل حکام نے 2020 میں بھی سپریم کورٹ کو خط لکھ کر نظرثانی درخواست کا اسٹیٹس معلوم کرنے کی کوشش کی، لیکن کوئی جواب موصول نہیں ہوا۔

درخواست گزار کے وکیل نے کہا کہ سپریم کورٹ سے جواب نہ ملنے کے باعث سزا کو عمر قید میں تبدیل کرنے کی استدعا کی گئی۔ انہوں نے مزید بتایا کہ پشاور ہائیکورٹ نے بھی یہ مؤقف اختیار کیا تھا کہ چونکہ سپریم کورٹ سزا برقرار رکھ چکی ہے، اس لیے وہ اس میں تبدیلی نہیں کر سکتی۔

سماعت کے دوران چیف جسٹس امین الدین خان نے ریمارکس دیے کہ اپیل 79 روز کی تاخیر سے دائر کی گئی ہے، جبکہ تاخیر کی وجوہات زبانی مؤقف اور درخواست میں درج مؤقف سے مختلف ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جو وجوہات درخواست میں لکھی گئی ہیں، ان کی بنیاد پر تاخیر نظرانداز نہیں کی جا سکتی۔

اس موقع پر وکیل درخواست گزار نے مؤقف اختیار کیا کہ تاخیر سے متعلق متفرق درخواست سابق وکیل نے دائر کی تھی۔

یہ بھی پڑھیے وفاقی آئینی عدالت کا بڑا فیصلہ، 1985 سے جاری جائیداد تنازع ختم

چیف جسٹس نے مزید ریمارکس دیے کہ اگر نظرثانی درخواست سپریم کورٹ میں زیرالتواء ہے تو وفاقی آئینی عدالت اس معاملے میں کیسے مداخلت کر سکتی ہے۔

جسٹس علی باقر نجفی نے بھی ریمارکس دیے کہ مناسب یہی ہوگا کہ درخواست گزار سپریم کورٹ میں زیرالتواء نظرثانی درخواست کی پیروی کرے، کیونکہ ممکنہ ریلیف وہیں سے مل سکتا ہے۔

بعد ازاں عدالت نے سزا کو عمر قید میں تبدیل کرنے کی درخواست خارج کر دی۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

سعودی عرب کا شمالی سرحدی علاقہ لائیو اسٹاک کا بڑا مرکز بن گیا، غذائی تحفظ کے مشن میں اہم پیشرفت

بھارت اور اسرائیل کو پاکستان کی اسٹریٹجیک کامیابیاں ہضم نہیں ہورہیں، ایکس سروس مین سوسائٹی

بھارت نے سلال ڈیم کھول دیا، دریائے چناب میں سیلاب کا خطرہ، الرٹ جاری

جدہ میں گرینڈ حج سمپوزیم، دنیا بھر سے وزرائے مذہبی امور اور حج وفود کی شرکت

پاکستان سے حج پروازوں کی روانگی کا آخری دن، 3ہزار 296 عازمینِ سعودی عرب روانہ ہوں گے

ویڈیو

دہشتگردی کے خلاف جنگ پوری قومی قوت اور غیر متزلزل عزم کے ساتھ جاری رکھی جائے گی، فیلڈ مارشل عاصم منیر

پشاور کی مویشی منڈی: جانور اور قیمتیں زیادہ، خریدار پریشان

مسئلہ کشمیر مہاجرین کی وجہ سے زندہ، پیپلز پارٹی اور ایکشن کمیٹی الیکشن ملتوی کرانے کے لیے ایک پیج پر ہیں، احمد رضا قادری

کالم / تجزیہ

عورت اور مرد کی کشمکش

کامیابی کی سب سے بڑی غلط فہمی

سندھ طاس: ثالثی عدالت کے فیصلے کے بعد کیا ہو گا؟