سعودی عرب کے نئے ہیلتھ ریگولیشنز کے پیشِ نظر، پاکستان نے اس سال حج کے دوران اپنے عازمین کو شدید گرمی اور وبائی امراض سے محفوظ رکھنے کے لیے تاریخ کے سب سے بڑے اور وسیع ترین طبی آپریشن کا آغاز کردیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ’حجاج اللہ کے مہمان ہیں‘، وزیراعظم کا سعودی عرب میں پاکستانی حج مشن کو خصوصی ہدایات
مکہ مکرمہ، مدینہ منورہ اور جدہ میں سینکڑوں پاکستانی ہیلتھ کیئر ورکرز چوبیس گھنٹے عازمینِ حج کی دیکھ بھال اور طبی امداد کی فراہمی میں مصروف ہیں۔ یہ اہم طبی مشن ایک ایسے وقت میں پوری صلاحیت کے ساتھ کام کر رہا ہے جب تقریباً ایک لاکھ اناسی ہزار پاکستانی عازمینِ حج سعودی عرب میں موجود ہیں، جہاں شدید گرمی، تھکن اور غیر معمولی ہجوم کی وجہ سے مختلف امراض پھیلنے کا خدشہ رہتا ہے۔
سعودی عرب کی جانب سے نافذ کیے گئے نئے قواعد و ضوابط کے مطابق ہر پانچ ہزار عازمینِ حج کے گروپ کے لیے مخصوص طبی سہولیات کا ہونا لازمی قرار دیا گیا ہے، جس کے بعد پاکستان نے اپنے ہیلتھ کیئر سسٹم کو غیر معمولی طور پر اپ گریڈ کیا ہے۔

پاکستان حج میڈیکل مشن کے ڈائریکٹر ڈاکٹر محمد توقیر ملک نے میڈیا کو بتایا کہ نئے قوانین کے تحت مکہ مکرمہ میں چونتیس، مدینہ منورہ میں تین اور جدہ میں ایک ڈسپنسری قائم کی گئی ہے۔
انہوں نے بتایا کہ اس وقت چار سو بائیس رکنی میڈیکل مشن میدان میں موجود ہے، جس میں ایک سو ساٹھ تجربہ کار ڈاکٹرز، نرسیں، پیرامیڈیکس اور فارماسسٹ شامل ہیں، جنہیں وزارتِ مذہبی امور کی مکمل لاجسٹک سپورٹ حاصل ہے۔
یہ بھی پڑھیں: سعودی وزارت حج و عمرہ کی حجاج کرام کے لیے مثالی انتظامات کرنے پر پاکستانی حج مشن کو خراج تحسین
مریضوں کے بڑھتے ہوئے دباؤ کو سنبھالنے کے لیے مکہ مکرمہ میں ایک پرانی اور چھوٹی عمارت کی جگہ جدید ترین مرکزی اسپتال قائم کیا گیا ہے۔ اس اسپتال میں حجاج کو ریڈیولوجی، الٹراساؤنڈ، جدید ایکس رے یونٹس، ایک مخصوص لیبارٹری، ڈینٹل کلینک اور فزیوتھراپی جیسی تمام اہم سہولیات فراہم کی جارہی ہیں، جبکہ دور دراز قائم ڈسپنسریوں کو بھی ای سی جی مشینوں سے لیس کیا گیا ہے تاکہ دل کی ایمرجنسی کی صورت میں فوری تشخیص ممکن ہوسکے۔

دوسری جانب تیزی سے بڑھتے ہوئے درجہ حرارت کی وجہ سے کلینکس میں روزانہ ہزاروں مریض رپورٹ ہو رہے ہیں، جن میں زیادہ تر عازمین سانس کی نالی کے انفیکشن، ڈی ہائیڈریشن، ہیٹ اسٹروک، جسمانی تھکن اور پٹھوں کے درد کا شکار ہورہے ہیں۔
مکہ مکرمہ کے ایک مصروف کلینک میں تعینات ڈاکٹر ہنا سیدہ نے بتایا کہ خواتین میں زیادہ تر سانس کی تکلیف، پیٹ کے مسائل، کمزوری اور گلے کی خرابی کی شکایات سامنے آ رہی ہیں، جس کے لیے عازمین کو مشورہ دیا جارہا ہے کہ وہ ہجوم والی جگہوں پر لازمی ماسک کا استعمال کریں تاکہ وائرل انفیکشنز کو پھیلنے سے روکا جاسکے۔
پاکستانی کلینکس میں نظم و ضبط برقرار رکھنے کے لیے ایک جدید ڈیجیٹل رجسٹریشن سسٹم استعمال کیا جارہا ہے، جہاں مریض کا بلڈ پریشر، شوگر اور درجہ حرارت کمپیوٹر میں درج کرنے کے بعد الیکٹرانک نسخے کے ذریعے آن سائٹ فارمیسی سے مفت ادویات فراہم کی جاتی ہیں، جبکہ خواتین کی پرائیویسی کے لیے علیحدہ علاج گاہیں بنائی گئی ہیں۔
باہمی معاہدوں اور سعودی وزارتِ صحت کے قوانین کے تحت پاکستانی میڈیکل ٹیمیں صرف پاکستانی شہریوں کا علاج کرنے کی پابند ہیں اور کسی دوسری نیشنلٹی کے مریض کو دیکھنے کی اجازت نہیں ہے۔

دل کا دورہ پڑنے یا انتہائی تشویشناک حالت کی صورت میں مریض کو ‘سعودی ریڈ کریسنٹ سوسائٹی’ کے ذریعے فوری طور پر بڑے سعودی اسپتالوں میں منتقل کیا جاتا ہے، جبکہ چکن پاکس، ممپس یا ہربیز جیسی چھوت کی بیماریوں میں مبتلا مریضوں کو سعودی حکام فوری طور پر اپنی تحویل میں لے کر مخصوص آئسولیشن وارڈز میں منتقل کردیتے ہیں۔
ڈائریکٹر میڈیکل مشن نے سعودی حکومت کے تعاون کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان بہترین ورکنگ ریلیشن قائم ہے۔ حج کے اگلے مراحل چونکہ جسمانی طور پر مزید مشکل اور گرم ترین دنوں میں ہونے والے ہیں، اس لیے پاکستانی حج مشن نے الرٹ جاری کرتے ہوئے عازمین کی حفاظت کے لیے تمام تر تیاریاں سخت کردی ہیں۔













