بنگلہ دیش کے ضلع گوالگنج سے تعلق رکھنے والے 3 نوجوانوں کے اہلخانہ نے الزام عائد کیا ہے کہ انہیں روس میں اعلیٰ تنخواہ والی تعمیراتی ملازمتوں کا جھانسہ دے کر لے جایا گیا، تاہم بعد ازاں انہیں مبینہ طور پر یوکرین کی سرحد کے قریب فوجی کیمپوں میں منتقل کر دیا گیا۔
متاثرہ افراد کی شناخت پلاش شیخ، رونی اور سوراو مولا کے ناموں سے کی گئی ہے، جنہیں مبینہ طور پر ڈھاکہ کی ایک ریکروٹمنٹ ایجنسی کے ذریعے رواں ماہ کے آغاز میں روس بھیجا گیا تھا۔ اہلخانہ کے مطابق ہر فرد سے تقریباً 7 لاکھ ٹکا وصول کیے گئے جبکہ انہیں ماہانہ ایک لاکھ 20 ہزار ٹکا تنخواہ کا وعدہ کیا گیا تھا۔
یہ بھی پڑھیں:بنگلہ دیشی: 15 اعلیٰ افسران کی تقرریاں متنازع، سول انتظامیہ میں بے یقینی
خاندانوں کا کہنا ہے کہ یہ نوجوان 7 مئی کو روس روانہ ہوئے، تاہم وہاں پہنچنے کے بعد ان سے رابطہ منقطع ہو گیا، جس کی وجہ مبینہ طور پر ان کے موبائل فونز کی ضبطی بتائی جاتی ہے۔
بعد ازاں اہلخانہ کو ایس ایم ایس اور آڈیو پیغامات موصول ہوئے جن میں نوجوانوں نے دعویٰ کیا کہ انہیں یوکرین کی سرحد کے قریب ایک حساس فوجی علاقے میں منتقل کر دیا گیا ہے۔ ان کے مطابق انہیں زبردستی دستاویزات پر دستخط کرائے گئے، فوجی وردیاں پہنائی گئیں اور مسلح نگرانی میں رکھا گیا۔
ایک اہلخانہ کے مطابق کیمپ کے قریب فائرنگ کی آوازیں بھی سنی گئیں، جس سے صورتحال مزید تشویشناک ہو گئی ہے۔
اہلخانہ نے ڈھاکہ کی ایک ریکروٹمنٹ کمپنی’جبل نور انٹرنیشنل لمیٹڈ‘ پر انسانی اسمگلنگ اور دھوکہ دہی کا الزام عائد کرتے ہوئے پولیس میں شکایت درج کرائی ہے۔ حکام کے مطابق یہ معاملہ بیورو آف مین پاور، ایمپلائمنٹ اینڈ ٹریننگ کے دائرہ اختیار میں بھی آتا ہے۔
پولیس حکام نے کہا ہے کہ نوجوانوں کی واپسی کے لیے وزارتِ خارجہ کی مدد درکار ہوگی تاکہ روسی حکام سے رابطہ کیا جا سکے۔
یہ بھی پڑھیں:بنگلہ دیش میں خسرہ کی ویکسین کی قلت، یونیسیف کے انتباہ کو نگران حکومت نے نظرانداز کیا
دوسری جانب ریکروٹمنٹ ایجنسی کے چیئرمین نے الزامات کی تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ کمپنی کی جانب سے جان بوجھ کر کوئی دھوکہ نہیں دیا گیا، اور یہ کہ متاثرہ افراد روس پہنچنے کے بعد مبینہ طور پر خود ایک مشکل صورتحال کا شکار ہوئے۔ ان کے مطابق بنگلہ دیشی سفارت خانے کے تعاون سے نوجوانوں کی واپسی یا مناسب روزگار کے لیے کوششیں جاری ہیں۔
بنگلہ دیشی حکام کا کہنا ہے کہ وہ صورتحال پر نظر رکھے ہوئے ہیں اور نوجوانوں کی محفوظ واپسی کے لیے اعلیٰ سطح پر رابطہ کاری جاری ہے۔
یہ واقعہ ایک بار پھر اس تشویش کو اجاگر کرتا ہے کہ روس-یوکرین جنگ کے تناظر میں جنوبی ایشیائی ممالک کے نوجوانوں کو مبینہ طور پر غیر قانونی بھرتی اور انسانی اسمگلنگ نیٹ ورکس کے ذریعے نشانہ بنایا جا رہا ہے۔













