بنگلہ دیشی: 15 اعلیٰ افسران کی تقرریاں متنازع، سول انتظامیہ میں بے یقینی

جمعرات 21 مئی 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

بنگلہ دیش میں انتظامی تبادلوں اور تقرریوں کے نظام میں بڑھتی ہوئی بے قاعدگیوں اور افراتفری پر حکومت کو شدید تنقید کا سامنا ہے، جہاں حالیہ مہینوں میں کئی اعلیٰ سطحی تقرریاں نوٹیفکیشن جاری ہونے کے فوراً بعد منسوخ کر دی گئیں۔

مقامی میڈیا رپورٹس کے مطابق گزشتہ 2 ماہ کے دوران کم از کم 15 اعلیٰ افسران کو اہم عہدوں پر تعینات یا منتقل کیا گیا، تاہم بعد ازاں ان تقرریوں کو یا تو منسوخ کر دیا گیا یا متعلقہ افسران کو مختلف تنازعات، عوامی تنقید یا ماضی سے جڑے الزامات کے باعث ہٹا دیا گیا۔

ان متاثرہ عہدوں میں سیکریٹریز، وائس چانسلرز، پولیس سپرنٹنڈنٹس اور مختلف سرکاری اداروں کے سربراہان شامل تھے۔

یہ بھی پڑھیں: محفوظ عالم کی فیس بک پوسٹ، بنگلہ دیش سیاست میں نئی بحث چھڑ گئی

ماہرین کے مطابق بار بار تقرریوں کی منسوخی سے حکومتی اسکریننگ اور ویٹنگ سسٹم کی کمزوریاں سامنے آ رہی ہیں، جس کے باعث سول انتظامیہ میں غیر یقینی صورتحال اور عدم استحکام پیدا ہو رہا ہے۔

بعض حلقوں نے یہ خدشہ بھی ظاہر کیا ہے کہ سوشل میڈیا مہمات اور آن لائن سرگرم گروہ سرکاری فیصلوں پر اثر انداز ہو رہے ہیں۔

ایک نمایاں کیس میں عبدالرشید میاں کو لوکل گورنمنٹ انجینئرنگ ڈیپارٹمنٹ کا چیف انجینئر مقرر کیا گیا تھا، تاہم کرپشن کے الزامات اور جاری تحقیقات کے باعث ان کی کنٹریکٹ پر مبنی تقرری صرف 5 دن بعد ہی منسوخ کر دی گئی۔

مزید پڑھیں: بنگلہ دیش کے اعلیٰ سول افسران کے وفد کا وزارت خارجہ کا دورہ، اسحاق ڈار کا خیرمقدم

اسی طرح وزارتِ زراعت نے امین الاسلام کو بنگلہ دیش رائس ریسرچ انسٹیٹیوٹ کا ڈائریکٹر جنرل مقرر کرنے کا فیصلہ صرف 2 دن بعد واپس لے لیا۔

ایک اور واقعے میں وزارتِ تعلیم نے ڈھاکہ یونیورسٹی کے پروفیسر ڈاکٹر ایم انیس الرحمن کو بیگم رقیہ یونیورسٹی کا وائس چانسلر مقرر کرنے کا اعلان کیا تھا، تاہم چند گھنٹوں بعد ہی یہ تقرری بھی واپس لے لی گئی۔

بنگلہ دیش پولیس میں بھی اچانک تبدیلیاں دیکھنے میں آئیں، جہاں حال ہی میں منتقل کیے گئے 3 پولیس سپرنٹنڈنٹس کو ان کے ماضی کے کردار پر تنقید کے بعد واپس بلا لیا گیا۔

مزید پڑھیں: انسانی ہمدردی کے تحت 170 بنگلہ دیشی شہریوں کو لیبیا سے وطن واپس منتقل کردیا گیا

تاہم ان فیصلوں کی کوئی باضابطہ وضاحت جاری نہیں کی گئی۔

رپورٹ کے مطابق اسی نوعیت کی انتظامی الجھنیں سابق عبوری حکومت کے دور میں بھی دیکھی گئی تھیں، جب سیکریٹریز اور ڈپٹی کمشنرز سمیت اہم عہدوں پر تقرریوں کے خلاف بیوروکریسی میں احتجاج سامنے آیا تھا۔

انتظامی ماہرین کا کہنا ہے کہ تقرریوں کی بار بار منسوخی حکومت کی ساکھ کو نقصان پہنچاتی ہے اور بیوروکریسی کے اندر گروہ بندی کو فروغ دیتی ہے۔

مزید پڑھیں: سلہٹ سرحد پر بھارتی فائرنگ پر بنگلہ دیشی بارڈر گارڈز کی جوابی کارروائی

ان کے مطابق تقرریوں سے قبل سخت اسکریننگ اور شفاف ویٹنگ نظام ناگزیر ہے۔

مزید یہ کہ کئی سینئر افسران مبینہ طور پر تبادلوں کے احکامات پر عمل درآمد میں تاخیر یا انکار کر رہے ہیں۔

26 اپریل کو مختلف اداروں میں تعینات کیے گئے 15 ایڈیشنل سیکریٹریز میں سے کم از کم 7 افسران ایک ماہ گزرنے کے باوجود اپنی نئی ذمہ داریوں پر رپورٹ نہیں کر سکے۔

مزید پڑھیں:

سابق کابینہ سیکریٹری محمد مشرف حسین بھوئیاں نے کہا کہ تبادلوں کے لیے افسران کی رضامندی لینا قانونی طور پر ضروری نہیں۔

اعلیٰ سطح کی تقرریوں کی حتمی منظوری وزیر اعظم کی جانب سے پبلک ایڈمنسٹریشن وزارت کی سفارشات کے بعد دی جاتی ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

غلط سرجری کیس: وفاقی آئینی عدالت کا پنجاب ہیلتھ کیئر کمیشن اور سرجن کو نوٹس جاری

لاہور کی سونیا سے عائشہ بننے والی خاتون کیس کا فیصلہ، وفاقی آئینی عدالت نے والدین کی حوالگی کی درخواست خارج کردی

پیٹرولیم بحران: سبسڈی ادائیگی کیس پر بڑا عدالتی حکمنامہ معطل

اسلام آباد: عیدالاضحیٰ کے موقع پر ٹریفک کی روانی برقرار رکھنے کے لیے خصوصی ٹریفک پلان جاری

ایران معاملے پر ٹرمپ اور نیتن یاہو میں اختلافات شدت اختیار کرگئے

ویڈیو

پشاور کی مویشی منڈی: جانور اور قیمتیں زیادہ، خریدار پریشان

مسئلہ کشمیر مہاجرین کی وجہ سے زندہ، پیپلز پارٹی اور ایکشن کمیٹی الیکشن ملتوی کرانے کے لیے ایک پیج پر ہیں، احمد رضا قادری

28ویں آئینی ترمیم کب پیش ہوگی؟ ن لیگ اور پیپلز پارٹی سمیت تمام جماعتیں کھل کر بات کرنے سے گریزاں

کالم / تجزیہ

عورت اور مرد کی کشمکش

کامیابی کی سب سے بڑی غلط فہمی

سندھ طاس: ثالثی عدالت کے فیصلے کے بعد کیا ہو گا؟