اسلام آباد میں پاک چین سفارتی تعلقات کے 75 سال مکمل ہونے کے سلسلے میں منعقدہ خصوصی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم شہباز شریف اور صدر مملکت آصف زرداری نے پاکستان اور چین کی لازوال دوستی کو خطے کے استحکام، ترقی اور باہمی اعتماد کی روشن مثال قرار دیا۔ تقریب میں چینی وفد، وفاقی وزرا، اعلیٰ سرکاری حکام اور مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والی اہم شخصیات نے شرکت کی۔
Prime Minister Shehbaz Sharif says Pakistan and China are celebrating 75 years of historic diplomatic relations, calling the friendship between the two nations “second to none.” He was speaking at a ceremony held here to mark the milestone anniversary. PM Shehbaz… pic.twitter.com/5fZZjNXHky
— Pakistan TV (@PakTVGlobal) May 21, 2026
وزیراعظم شہباز شریف نے اپنے خطاب میں کہا کہ پاکستان اور چین کے درمیان تعلقات گزشتہ 75 برسوں میں باہمی اعتماد، احترام اور مشترکہ ترقی کی بنیاد پر مضبوط ہوئے ہیں۔ انہوں نے چینی وفد کو خوش آمدید کہتے ہوئے کہا کہ دونوں ممالک کی دوستی ہر آزمائش پر پوری اتری ہے اور وقت کے ساتھ مزید مستحکم ہوئی ہے۔
وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان اور چین کے تعلقات اب تجارت، سرمایہ کاری، انفراسٹرکچر، دفاع، سائنس و ٹیکنالوجی، زراعت، تعلیم، ثقافت اور عوامی روابط سمیت متعدد شعبوں تک پھیل چکے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ چین کے ساتھ دوستی پاکستان کی خارجہ پالیسی کا بنیادی ستون ہے، جسے ملک میں مکمل عوامی، سیاسی اور ادارہ جاتی حمایت حاصل ہے۔
یہ بھی پڑھیں:پاک چین سفارتی تعلقات کی 75ویں سالگرہ: صدر مملکت آصف علی زرداری کا خصوصی پیغام
شہباز شریف نے چینی صدر شی جن پنگ کی قیادت کو سراہتے ہوئے کہا کہ ان کے وژن اور مضبوط قیادت نے پاک چین تعلقات کو نئی بلندیوں تک پہنچایا ہے۔ انہوں نے کہا کہ چین نے جدیدیت، جدت، غربت کے خاتمے اور قومی ترقی کے میدان میں غیر معمولی کامیابیاں حاصل کی ہیں۔
وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان برآمدات، زراعت اور خصوصی اقتصادی زونز کے شعبوں میں چین کے ساتھ تعاون کو مزید وسعت دینا چاہتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کو درپیش معاشی چیلنجز کو چین کی شراکت داری کے ذریعے مواقع میں تبدیل کیا جا سکتا ہے۔
President Asif Ali Zardari says 75 years ago, Pakistan and China began a journey rooted in mutual respect and today this friendship has evolved into an all-weather strategic cooperation between the two nations. He was speaking at a ceremony held here to commemorate 75… pic.twitter.com/kWRIoXkZhF
— Pakistan TV (@PakTVGlobal) May 21, 2026
انہوں نے کہا کہ پاکستان میں مقیم چینی شہریوں کی سیکیورٹی حکومت کی اولین ترجیح ہے اور انہیں اعلیٰ ترین تحفظ فراہم کرنے کے لیے کوئی کسر نہیں چھوڑی جائے گی۔ وزیراعظم کے مطابق چینی شہریوں کا تحفظ پاکستان کے لیے ’عقیدے کا معاملہ‘ ہے۔
شہباز شریف نے مزید کہا کہ پاکستان اور چین انسداد دہشتگردی کے شعبے میں تعاون کو مزید مؤثر بنانے کے لیے بھی مل کر کام کر رہے ہیں تاکہ دونوں ممالک کی سکیورٹی شراکت داری مزید مضبوط ہو سکے۔
بعد ازاں صدر مملکت آصف علی زرداری نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پاک چین تعلقات وقت کے ساتھ مزید گہرے اور مضبوط ہوئے ہیں اور دونوں ممالک نے ہمیشہ ایک دوسرے کے بنیادی مفادات کی حمایت کی ہے۔
یہ بھی پڑھیں:پاک چین دوستی علاقائی امن، ترقی اور عالمی استحکام کے لیے ناگزیر ہے، نائب وزیر اعظم اسحاق ڈارکا قومی اسمبلی میں خطاب
صدر زرداری نے کہا کہ 75 برس قبل شروع ہونے والا یہ سفارتی سفر آج ایک منفرد ’آل ویدر اسٹریٹجک کوآپریٹو پارٹنرشپ‘ میں تبدیل ہو چکا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان اور چین نے ہر مشکل وقت میں ایک دوسرے کا ساتھ دیا اور یہی اعتماد دونوں ممالک کے تعلقات کی اصل طاقت ہے۔
صدر مملکت نے کہا کہ چین کے ساتھ تعلقات کو پاکستان میں ہر سطح پر مکمل تسلسل حاصل رہا ہے، چاہے حکومتیں تبدیل ہوتی رہیں، مگر دوطرفہ دوستی ہمیشہ مضبوط رہی۔
انہوں نے چینی قیادت خصوصاً صدر شی جن پنگ کی پالیسیوں اور وژن کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ چین نے ترقی، اختراع اور غربت میں کمی کے میدان میں دنیا کے لیے مثال قائم کی ہے، جبکہ پاکستان چین کے ساتھ اپنے تعاون کو مزید فروغ دینے کا خواہاں ہے۔

صدر مملکت آصف علی زرداری نے اپنے خطاب میں کہا کہ پاکستان عالمی امن، ترقی اور استحکام کے فروغ کے لیے چین کے کردار کو انتہائی قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہے۔ انہوں نے گلوبل ڈیولپمنٹ انیشی ایٹو، گلوبل سکیورٹی انیشی ایٹو، گلوبل سولائزیشن انیشی ایٹو اور گلوبل گورننس انیشی ایٹو سمیت مختلف چینی اقدامات کو عالمی ترقی کے لیے اہم قرار دیا۔
صدر زرداری نے کہا کہ اپنے گزشتہ دورِ صدارت میں انہوں نے چین کے 14 دورے کیے، جنہوں نے پاکستان چین اقتصادی راہداری (سی پیک) کی بنیاد مضبوط کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔ انہوں نے گوادر پورٹ کی تعمیر میں چین کے تعاون کو پاکستان پر ایک عظیم احسان قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ منصوبہ مستقبل میں دونوں ممالک کی معیشتوں کے لیے گیم چینجر ثابت ہوگا۔
یہ بھی پڑھیں:پاک چین دوستی کے 75 سال: پاکستان 75 روپے کا خصوصی سکہ جاری کرے گا
انہوں نے کہا کہ سی پیک باہمی مفاد، رابطہ کاری، خوشحالی اور جامع ترقی کے مشترکہ وژن کی روشن مثال ہے، جس نے پاکستان کی معاشی اور سماجی ترقی میں نمایاں کردار ادا کیا اور خطے میں تعاون کے نئے مواقع پیدا کیے۔
صدر مملکت نے کہا کہ انہیں یقین ہے کہ مستقبل میں سی پیک اور ’ون بیلٹ ون روڈ‘ منصوبہ دنیا کو مزید قریب لانے میں اہم کردار ادا کرے گا۔
آصف علی زرداری نے کہا کہ رواں برس انہوں نے دو مرتبہ چین کا دورہ کیا، جہاں صوبہ ہونان اور ہائنان کی قیادت، کاروباری شخصیات سے ملاقاتیں کیں اور چیئرمین ماؤ کے آبائی علاقے کا دورہ بھی کیا، جو ان کے لیے ایک جذباتی اور یادگار تجربہ تھا۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان اپنی خودمختاری، علاقائی سالمیت اور معاشی ترقی کے لیے چین کی مستقل حمایت کو بہت اہمیت دیتا ہے، جبکہ چین نے ہمیشہ مسئلہ کشمیر پر پاکستان کے اصولی مؤقف کی حمایت کی ہے۔
صدر زرداری نے دوٹوک انداز میں کہا کہ پاکستان ’ون چائنا پالیسی‘ پر ہمیشہ قائم رہے گا اور چین کے بنیادی قومی مفادات سے متعلق ہر معاملے پر اس کے شانہ بشانہ کھڑا رہے گا۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان اور چین عالمی امن، استحکام اور ترقی کے فروغ کے لیے قریبی تعاون جاری رکھے ہوئے ہیں اور دونوں ممالک اقوام متحدہ کے منشور کے اصولوں، مذاکرات، تعاون اور باہمی احترام کے ذریعے عالمی چیلنجز کے حل پر یقین رکھتے ہیں۔
پاک چین دوستی باہمی اعتماد، غیر متزلزل حمایت اور بھائی چارے کی روشن مثال ہے، اسحاق ڈار
اسلام آباد: نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے پاکستان اور چین کے سفارتی تعلقات کے قیام کی 75ویں سالگرہ پر اپنے خصوصی پیغام میں دونوں ممالک اور عوام کو مبارکباد دیتے ہوئے کہا ہے کہ پاک چین دوستی باہمی اعتماد، غیر متزلزل حمایت اور بھائی چارے کی روشن مثال ہے۔
انہوں نے کہا کہ 21 مئی 1951 کو قائم ہونے والے سفارتی تعلقات آج ’ہمہ موسمی اسٹریٹجک تعاون پر مبنی شراکت داری‘ میں تبدیل ہو چکے ہیں، جو وقت کے ساتھ مزید مضبوط ہوئی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان اور چین نے ہمیشہ ہر مشکل وقت میں ایک دوسرے کا ساتھ دیا اور دوطرفہ تعلقات سیاست، دفاع، تجارت، تعلیم، سائنس و ٹیکنالوجی اور ثقافت سمیت مختلف شعبوں میں نمایاں ترقی کر چکے ہیں۔

اسحاق ڈار نے کہا کہ چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) دونوں ممالک کے اقتصادی تعاون کا نمایاں منصوبہ ہے، جس نے پاکستان کے انفراسٹرکچر، توانائی اور رابطہ کاری کے نظام میں اہم تبدیلیاں لائی ہیں، جبکہ سی پیک کا دوسرا مرحلہ صنعتی تعاون، زراعت، ٹیکنالوجی اور سماجی ترقی پر مرکوز ہوگا۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان اور چین عالمی و علاقائی استحکام، کثیرالجہتی تعاون اور اقوام متحدہ کے اصولوں کے فروغ کے لیے قریبی تعاون جاری رکھے ہوئے ہیں، جبکہ مستقبل میں نئی ٹیکنالوجی، سبز توانائی اور ڈیجیٹل معیشت دونوں ممالک کی شراکت داری کے اہم شعبے ہوں گے۔
نائب وزیراعظم نے اپنے پیغام کے اختتام پر کہا کہ پاکستان اور چین کی ’آہنی دوستی‘ آنے والے برسوں میں مزید مضبوط اور وسیع ہوگی۔












