سیکیورٹی فورسز کی خیبر پختونخوا کے مختلف علاقوں میں انٹیلیجنس پر مبنی کارروائیاں کرتے ہوئے فتنہ الخوارج کے 23 دہشتگردوں کو ہلاک کردیا ہے۔
پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق دہشتگردی کے خطرات کے خاتمے اور فتنہ الخوارج کے نیٹ ورکس کو تباہ کرنے کے لیے سیکیورٹی فورسز نے معتبر خفیہ اطلاعات کی بنیاد پر صوبہ خیبر پختونخوا میں انٹیلیجنس پر مبنی کارروائیوں کا سلسلہ جاری رکھا ہوا ہے۔ ان کارروائیوں کا دائرہ کار بنوں، دتہ خیل اور اسپن وام جیسے حساس علاقوں تک پھیلا دیا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: سیکیورٹی فوسز نے فتنہ الخوارج کے دہشتگردوں کی پاکستان میں داخل ہونے کی کوشش ناکام بنادی، طالبان چوکیاں تباہ
آئی ایس پی آر کے مطابق گزشتہ 48 گھنٹوں کے دوران سیکیورٹی فورسز نے خوارج کے متعدد ٹھکانوں کو مؤثر طریقے سے نشانہ بنایا۔ شدید فائرنگ کے تبادلے کے بعد بھارت کی پشت پناہی حاصل کرنے والے فتنہ الخوارج کے 23 دہشت گرد ہلاک کر دیے گئے ہیں، جس سے ان علاقوں میں سرگرم نیٹ ورکس کو شدید دھچکا پہنچا ہے۔

ہلاک ہونے والوں میں انتہائی مطلوب خارجہ سرغنہ جان میر عرف طور ثاقب بھی شامل ہے، جس کی زندہ یا مردہ گرفتاری پر حکومت نے انعام مقرر کر رکھا تھا اور وہ سیکیورٹی اہلکاروں سمیت معصوم شہریوں کے قتل اور دہشتگردی کی متعدد وارداتوں میں ملوث تھا۔
یہ بھی پڑھیں: بنوں آپریشن میں افغان حمایت بے نقاب، فتنہ الخوارج کے خلاف پاکستان کا فیصلہ کن اقدام
کارروائی کے دوران ہلاک ہونے والے دہشتگردوں کے قبضے سے بھاری مقدار میں اسلحہ، گولہ بارود اور پہلے سے تیار شدہ دھماکہ خیز مواد برآمد کر لیا گیا ہے۔ مزید برآں، علاقے کو پاک کرنے کی مہم کے دوران سیکیورٹی فورسز نے خوارج کے زیرِ زمین سرنگوں اور بنکروں کے ایک پیچیدہ نیٹ ورک کو بھی دریافت کر کے تباہ کردیا ہے۔
وفاقی ایپکس کمیٹی برائے نیشنل ایکشن پلان کے منظور شدہ عزمِ استحکام وژن کے تحت سیکیورٹی فورسز اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کا انسدادِ دہشتگردی آپریشن پوری قوت کے ساتھ جاری رہے گا تاکہ ملک سے غیر ملکی فنڈنگ سے چلنے والی دہشتگردی کا مکمل خاتمہ کیا جاسکے۔













