افغانستان میں طالبان رجیم کے نئے عائلی قانون نے عالمی سطح پر تشویش پیدا کر دی ہے۔ اقوام متحدہ نے خبردار کیا ہے کہ میاں بیوی کی علیحدگی سے متعلق طالبان کے حالیہ فرمان سے افغان خواتین اور بچیوں کے حقوق مزید محدود ہوں گے اور ملک میں صنفی امتیاز کو قانونی تحفظ ملے گا۔
مئی کے وسط میں جاری ہونے والے 31 نکاتی ضابطے میں ازدواجی علیحدگی کی مختلف وجوہات بیان کی گئی ہیں، جن میں شوہر کا طویل عرصے تک لاپتا رہنا، میاں بیوی کے درمیان ’عدم مطابقت‘، اسلام ترک کرنا اور شوہر کی جانب سے ازدواجی ذمہ داریاں پوری نہ کرنا شامل ہیں۔
یہ فرمان افغانستان کے سرکاری گزٹ میں شائع کیا گیا، جس میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ کسی نابالغ لڑکے یا لڑکی کی جانب سے ان کے رشتہ داروں کے ذریعے کیے گئے نکاح کو بعد میں منسوخ کیا جا سکتا ہے۔ اقوام متحدہ کے مطابق اس شق سے یہ تاثر ملتا ہے کہ افغانستان میں کم عمری کی شادی کو قانونی حیثیت حاصل ہے۔
اقوام متحدہ کے مطابق زیادہ تر معاملات میں علیحدگی حاصل کرنے کے لیے خواتین کو مردوں کے مقابلے میں کہیں زیادہ پیچیدہ قانونی مراحل سے گزرنا پڑے گا۔
اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل کی نائب خصوصی نمائندہ جورجیٹ گیگنن نے کہا کہ طالبان کے سپریم لیڈر ہیبت اللہ اخوندزادہ کی منظوری سے جاری ہونے والا یہ فرمان اس وسیع تر اور تشویشناک سلسلے کا حصہ ہے جس کے تحت افغان خواتین اور لڑکیوں کے حقوق مسلسل سلب کیے جا رہے ہیں۔
اقوام متحدہ کے بیان میں کہا گیا ہے کہ اس قانون سے ’قانونی اور عملی سطح پر منظم امتیازی سلوک مزید مضبوط ہوگا‘ جبکہ خواتین اور بچیوں کو ’خودمختاری، مواقع اور انصاف تک رسائی‘ سے محروم کیا جا رہا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:افغانستان میں انسانی حقوق کا بحران شدت اختیار کر گیا، عالمی رپورٹ
طالبان کے 2021 میں دوبارہ اقتدار میں آنے کے بعد سے خواتین اور لڑکیوں پر متعدد پابندیاں عائد کی جا چکی ہیں۔ لڑکیوں کی پرائمری سطح سے آگے تعلیم پر پابندی لگا دی گئی، خواتین کے پارکس، جم، سوئمنگ پولز اور بیوٹی پارلرز جانے پر قدغن عائد کی گئی، جبکہ انہیں سر سے پاؤں تک مکمل پردہ کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ خواتین کو کئی شعبوں میں ملازمتوں سے بھی محروم کر دیا گیا ہے۔
طالبان قوانین کی خلاف ورزی کی صورت میں گرفتاری اور قید کی سزائیں بھی دی جا سکتی ہیں۔
افغانستان میں اقوام متحدہ کے مشن نے کہا کہ طالبان نے 2021 کے ایک فرمان میں خواتین کے بعض حقوق، بشمول شادی کے لیے رضامندی کے حق کو تسلیم کیا تھا، تاہم بعد میں بنائے گئے قوانین نے ان تحفظات کو عملاً ختم کر دیا۔
خصوصی طور پر فرمان کی دفعہ 5 پر شدید تنقید کی جا رہی ہے۔ اس میں نابالغ بچوں کے نکاح سے متعلق طریقہ کار بیان کیا گیا ہے، جہاں خاندان کے افراد ان کی جانب سے شادی کا معاہدہ کر سکتے ہیں، جس سے کم عمری کی شادی کی اجازت کا تاثر ملتا ہے۔
فرمان کے مطابق اگر والد یا دادا کے علاوہ کوئی اور رشتہ دار کسی نابالغ لڑکے یا لڑکی کا نکاح ’مناسب شریک حیات‘ اور روایتی حق مہر کے تحت طے کرے تو یہ نکاح درست تصور ہوگا۔ تاہم بلوغت کی عمر کو پہنچنے کے بعد لڑکا یا لڑکی عدالت کی منظوری سے اس نکاح کو ختم کرنے کا اختیار رکھیں گے۔
افغانستان کے بعض علاقوں میں کئی دہائیوں سے ایک روایت موجود ہے جس کے تحت خاندان اپنے بچوں کی مستقبل میں آپس میں شادی کا وعدہ کر دیتے ہیں، البتہ اسلامی قانون کے تحت بلوغت سے پہلے ازدواجی تعلقات کی اجازت نہیں ہوتی، اس لیے باقاعدہ نکاح بعد میں کیا جاتا ہے۔
خبر رساں ادارے اے ایف پی نے جب طالبان حکومت کی وزارت انصاف سے پوچھا کہ آیا نابالغ بچے یا بچی کو کسی بھی عمر میں شریک حیات کے ساتھ رہنا لازم ہوگا یا نہیں، تو وزارت کی جانب سے کوئی جواب نہیں دیا گیا۔
طالبان کے اقتدار میں واپسی سے قبل افغانستان کے قانون کے مطابق لڑکیوں کی شادی کے لیے کم از کم عمر 16 سال مقرر تھی۔
نئے فرمان میں لڑکوں اور لڑکیوں کے حقوق میں بھی فرق رکھا گیا ہے۔ اس کے مطابق اگر کوئی ’کنواری لڑکی‘ خاموش رہے تو اس کی جانب سے بعد میں نکاح ختم کرنے کا حق ختم تصور ہوگا، جبکہ لڑکوں کے لیے ایسی خاموشی ان کے حق کو متاثر نہیں کرے گی۔
یہ بھی پڑھیے افغانستان میں کم عمری کی شادیوں سے متعلق نئے قواعد پر تشویش، طالبان کی قانونی منظوری کا دعویٰ
طالبان رجیم کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے اس قانون پر ہونے والی تنقید کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ یہ اعتراضات اسلام دشمن عناصر کی جانب سے کیے جا رہے ہیں۔ سرکاری ٹی وی آر ٹی اے سے گفتگو میں انہوں نے والدین اور دادا کو بچوں کے معاملات میں اختیار دینے کا دفاع کیا اور کہا کہ اگر وہ ’مہربان اور صحت مند‘ ہوں تو انہیں نکاح طے کرنے کا حق حاصل ہے۔
تاہم انہوں نے دعویٰ کیا کہ ایسے معاملات کم ہی ہوں گے کیونکہ طالبان ’لڑکی کی رضامندی کے بغیر شادی کی اجازت نہیں دیتے۔‘
فرمان میں یہ بھی واضح کیا گیا ہے کہ اگر کسی عورت کا شوہر لاپتا ہو جائے تو وہ کن حالات میں دوبارہ شادی کر سکتی ہے، تاہم جنگ کے دوران لاپتا ہونے والے شوہر کے معاملے میں صورتحال مختلف ہوگی۔
ایسے معاملات میں خاتون کو اس وقت تک انتظار کرنا ہوگا جب تک شوہر کی موت یقینی نہ ہو جائے یا اس کے ہم عمر تمام افراد وفات نہ پا جائیں۔
مزید یہ کہ اگر لاپتا شوہر بعد میں واپس آ جائے اور خاتون دوسری شادی کر چکی ہو تو فیصلہ شوہر کے اختیار میں ہوگا کہ وہ بیوی کو اپنے پاس رکھنا چاہتا ہے، طلاق دینا چاہتا ہے یا باہمی علیحدگی پر رضامند ہوتا ہے۔













