۔
۔
غزہ کی ناکہ بندی توڑنے کے لیے روانہ ہونے والے فلوٹیلا کے غیر ملکی کارکنوں کو حراست میں لینے کے بعد اسرائیل نے انہیں ملک بدر کرنا شروع کر دیا ہے۔ پہلی کھیپ ترکیہ پہنچ گئی جہاں فلسطینی پرچم اٹھائے حامیوں نے ان کا استقبال کیا، جبکہ کارکنوں نے اسرائیلی فورسز پر تشدد اور بدسلوکی کے سنگین الزامات عائد کیے ہیں۔
اسرائیل نے جمعرات کے روز اعلان کیا کہ غزہ جانے والے فلوٹیلا سے گرفتار کیے گئے تمام غیر ملکی کارکنوں کو ملک بدر کر دیا گیا ہے، جبکہ ان میں شامل پہلی ٹیم ترکیہ پہنچ گئی۔
یہ پیش رفت ایسے وقت سامنے آئی ہے جب اسرائیلی حراست میں کارکنوں کے ساتھ مبینہ بدسلوکی کی ویڈیوز اور اطلاعات پر دنیا بھر میں شدید ردعمل دیکھنے میں آ رہا ہے۔
یہ بھی پڑھیے اسرائیل نے ’گلوبل صمود فلوٹیلا‘ کے تمام ارکان رہا کردیے
پیر کے روز اسرائیلی بحریہ نے غزہ کی ناکہ بندی توڑنے کی کوشش کرنے والے فلوٹیلا کو سمندر میں روک لیا تھا، جس کے بعد مختلف ممالک سے تعلق رکھنے والے سیکڑوں کارکنوں کو حراست میں لے لیا گیا۔
ترک وزارت خارجہ کے ذرائع کے مطابق 422 کارکنوں، جن میں 85 ترک شہری بھی شامل ہیں، کو جنوبی اسرائیل سے انقرہ کی جانب سے چارٹر کیے گئے 3 طیاروں کے ذریعے ترکیہ منتقل کیا گیا۔
Activists from the Global Sumud Flotilla arrived in Istanbul aboard three flights after being unlawfully detained by Israeli forces in international waters while attempting to break the siege on Gaza.
Members of the flotilla described widespread physical abuse, psychological… pic.twitter.com/Wk1FBnnkJj
— TRT World (@trtworld) May 22, 2026
فریڈم فلوٹیلا کولیشن نے بھی ان پروازوں کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ بعض دیگر کارکنوں کو براہِ راست ان کے آبائی ممالک بھی بھیج دیا گیا ہے۔
استنبول ایئرپورٹ کے وی آئی پی ٹرمینل پر پہنچنے والے کارکنوں کا فلسطینی پرچم اٹھائے حامیوں نے استقبال کیا۔ موقع پر موجود خبر رساں ادارے اے ایف پی کے نمائندے کے مطابق فضا فلسطین کے حق میں نعروں سے گونجتی رہی۔
ترک شہری بلال کتاب نے استنبول پہنچنے کے بعد بتایا کہ اسرائیلی فورسز نے ان پر حملہ کیا۔
انہوں نے کہا،
’ہم سب کو مارا گیا، خواتین اور مردوں سب کے ساتھ تشدد کیا گیا۔ فلسطینی روزانہ اسی ظلم کا سامنا کرتے ہیں۔‘
اسرائیل کے انتہائی دائیں بازو سے تعلق رکھنے والے قومی سلامتی کے وزیر اتمار بن گویر نے بدھ کو ایک ویڈیو جاری کی تھی جس میں زیر حراست کارکنوں کے ہاتھ بندھے ہوئے اور ان کے سر زمین کی طرف جھکے ہوئے دکھائے گئے۔ اس ویڈیو پر عالمی سطح پر شدید مذمت اور سفارتی ردعمل سامنے آیا۔
اسرائیلی وزارت خارجہ کے ترجمان اورین مارمورسٹین نے جمعرات کو کہا کہ
’پی آر فلوٹیلا سے تعلق رکھنے والے تمام غیر ملکی کارکنوں کو اسرائیل سے بے دخل کر دیا گیا ہے۔‘
انہوں نے مزید کہا کہ اسرائیل غزہ کی ’قانونی بحری ناکہ بندی‘کی کسی خلاف ورزی کی اجازت نہیں دے گا۔
استنبول پہنچنے والے ایک کارکن نے ایئرپورٹ پر نعرہ لگایا،
’فلسطینی عوام تنہا نہیں ہیں!‘
انہوں نے کہا،
’ہمیں تشدد کا نشانہ بنایا گیا، گرفتار کیا گیا، بین الاقوامی پانیوں میں حراست میں لیا گیا، مگر ہم ہار نہیں مانیں گے۔ ہم واپس آئیں گے۔ فلسطین دریا سے سمندر تک آزاد ہوگا۔‘
فلوٹیلا کارکنوں کی قانونی نمائندگی کرنے والے ادارے ’عدالہ‘ نے بتایا کہ زیادہ تر کارکنوں کو اسرائیل کے جنوبی علاقے میں واقع رامون ایئرپورٹ سے ملک بدر کیا گیا۔
ادارے کے مطابق انہیں غزہ کے قریب صحرائے نقب میں واقع کتزیعوت جیل میں رکھا گیا تھا۔
عدالہ کے ترجمان نے بتایا کہ مصر سے تعلق رکھنے والے کارکنوں کو مصر اسرائیل سرحد پر طابا منتقل کیا گیا جبکہ اردن کے کارکنوں کو عقبہ بھیجا گیا۔
فریڈم فلوٹیلا کولیشن کے مطابق 2 جنوبی کوریائی شہریوں کو بھی ان کے ملک واپس بھیج دیا گیا جبکہ ایک اسرائیلی شہری کو اسرائیل کے اندر ہی رہا کر دیا گیا۔
’اشتعال انگیز ویڈیو‘ پر عالمی غصہ
غزہ کی ناکہ بندی توڑنے کے لیے ’گلوبل صمود فلوٹیلا‘ کے تحت تقریباً 50 کشتیوں نے گزشتہ ہفتے ترکیہ سے روانگی اختیار کی تھی۔ یہ گزشتہ ماہ اسرائیل کی جانب سے ایک اور امدادی قافلے کو روکنے کے بعد کارکنوں کی تازہ کوشش تھی۔
ملک بدری کا عمل اس وقت شروع ہوا جب اتمار بن گویر کی جانب سے جاری کی گئی ویڈیو، جس پر ’اسرائیل میں خوش آمدید‘ لکھا گیا تھا، دنیا بھر میں غم و غصے کا باعث بنی۔ ویڈیو میں بن گویر زیر حراست کارکنوں کے درمیان اسرائیلی پرچم لہراتے اور انہیں اشتعال دلاتے دکھائی دیے۔
اس ویڈیو پر اٹلی، اسپین، آسٹریلیا اور کینیڈا سمیت کئی ممالک نے شدید ردعمل ظاہر کیا۔
بن گویر کو اسرائیل کے اندر بھی تنقید کا سامنا کرنا پڑا، جہاں وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو، وزیر خارجہ گیڈون ساعر اور اسرائیل میں امریکی سفیر مائیک ہکابی نے بھی ان کے رویے پر اعتراض کیا۔
اٹلی اور اسپین نے یورپی یونین سے مطالبہ کیا ہے کہ بن گویر پر پابندیاں عائد کی جائیں۔ اطالوی وزیر خارجہ انتونیو تاجانی اور ہسپانوی وزیراعظم پیڈرو سانچیز نے کارکنوں کے ساتھ سلوک کو ’ناقابل قبول‘ قرار دیا۔
یہ بھی پڑھیے اسرائیل کا غزہ جانے والے صمود فلوٹیلا پر حملہ، پاکستانیوں سمیت 430 رضاکار گرفتار
آئرلینڈ میں لیک ہونے والے ایک خط سے معلوم ہوا کہ وزیراعظم مائیکل مارٹن نے یورپی یونین کی قیادت سے اسرائیل کے خلاف مزید اقدامات کا مطالبہ کیا ہے، جن میں اسرائیلی بستیوں کی مصنوعات پر پابندی اور یورپی یونین و اسرائیل کے معاہدے کی جزوی یا مکمل معطلی شامل ہے۔
برطانیہ نے بھی ’اشتعال انگیز ویڈیو‘ کے بعد اسرائیل کے اعلیٰ سفارتکار کو طلب کر لیا۔
’انہوں نے ہمیں لاتیں اور گھونسے مارے‘
عدالہ کی قانونی ڈائریکٹر سہاڈ بشارہ نے اے ایف پی کو بتایا کہ تنظیم کے وکلا نے متعدد کارکنوں کو قانونی معاونت فراہم کی، تاہم بعض افراد کو قانونی نمائندگی کے بغیر ہی عدالتوں میں پیش کیا گیا۔
انہوں نے کہا کہ کم از کم 2 کارکنوں کو اسپتال منتقل کیا گیا کیونکہ انہیں ربڑ کی گولیوں کا نشانہ بنایا گیا تھا، جبکہ بعض دیگر کارکنوں کو پسلیاں ٹوٹنے کا خدشہ تھا۔
اطالوی صحافی الیساندرو مانتووانی، جنہیں دیگر کارکنوں سے پہلے ملک بدر کیا گیا، نے اٹلی پہنچ کر صحافیوں کو بتایا کہ انہیں ہتھکڑیاں لگا کر اور پاؤں میں زنجیریں ڈال کر بن گوریون ایئرپورٹ لے جایا گیا۔
انہوں نے کہا،
’انہوں نے ہمیں مارا پیٹا، لاتیں اور گھونسے مارے اور ساتھ یہ کہتے رہے: ‘اسرائیل میں خوش آمدید’۔‘
واضح رہے کہ اسرائیل 2007 سے غزہ کے تمام داخلی راستوں کا کنٹرول اپنے ہاتھ میں رکھے ہوئے ہے اور علاقے کی ناکہ بندی جاری ہے۔
7 اکتوبر 2023 کے بعد شروع ہونے والی جنگ کے دوران غزہ کو خوراک، ادویات اور دیگر بنیادی ضروریات کی شدید قلت کا سامنا ہے، جبکہ اسرائیل بعض اوقات امدادی سامان کی ترسیل بھی مکمل طور پر روک دیتا ہے۔












