کیا عمران خان عید کے بعد رہا ہو سکتے ہیں؟

ہفتہ 30 مئی 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

اس سال 5 اگست تک بانی پاکستان تحریکِ انصاف عمران خان اگر جیل سے رہا نہیں ہوتے تو انہیں قید میں 3 سال مکمل ہو جائیں گے۔

اس وقت عمران خان 2 مقدمات میں دی گئی سزاؤں کی وجہ سے جیل میں ہیں، ان میں ایک القادر ٹرسٹ کیس اور دوسرا توشہ خانہ ٹو کیس ہے جو بلغاری جیولری سیٹ سے متعلق ہے۔

القادر ٹرسٹ کیس کی آخری سماعت 20 مئی کو ہوئی تھی جسے غیر معینہ مدت کے لیے ملتوی کر دیا گیا تھا اور اب یہ مقدمہ عید کے بعد سماعت کے لیے مقرر ہوگا۔

یہ بھی پڑھیں: کیا تحریک انصاف عمران خان کو جلد رہا کروالے گی؟

جہاں تک توشہ خانہ ٹو مقدمے کا تعلق ہے، اس میں بھی عمران خان کی اپیل اسلام آباد ہائیکورٹ میں زیرِ سماعت ہے۔

ان دونوں مقدمات میں اگر اسلام آباد ہائیکورٹ سزائیں معطل کر دیتی ہے تو عمران خان کی رہائی کا امکان موجود ہے۔

القادر ٹرسٹ کیس کی آخری سماعت پر کیا ہوا؟

اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس سرفراز ڈوگر نے مقدمے کی سماعت کی، عمران خان کے وکیل سلمان صفدر کی جانب سے ایک درخواست پیش کی گئی جس میں انہوں نے مؤقف اختیار کیا کہ خرابئ صحت کے باعث مقدمے کو غیر معینہ مدت کے لیے ملتوی کیا جائے۔

اس پر چیف جسٹس نے کہا کہ اگلی سماعت پر عمران خان کے وکیل دلائل دیں، اگر سلمان صفدر دستیاب نہ ہوں تو کوئی اور وکیل عمران خان اور بشریٰ بی بی کی جانب سے عدالت میں پیش ہو، ورنہ قانون اپنا راستہ خود اختیار کرے گا۔

مزید پڑھیں: عمران خان کی رہائی کے لیے احتجاج، کیا خیبرپختونخوا اسمبلی کا اجلاس اب اڈیالہ جیل کے باہر ہوگا؟

یہ بات بھی قابلِ ذکر ہے کہ اس مقدمے کی 20 مئی سے قبل ہونے والی سماعت پر بھی عمران خان کے وکیل نے التوا کی درخواست کی تھی۔

پاکستان تحریکِ انصاف کے سینیٹر اور عمران خان کے وکیل بیرسٹر علی ظفر نے وی نیوز کو دیے گئے ایک خصوصی انٹرویو میں کہا کہ بطور قانون دان اگر القادر ٹرسٹ کیس کا جائزہ لیا جائے تو اس میں کوئی جان نہیں۔

ان کے مطابق یہ کیس بے بنیاد ہے اور اسے سیاسی انتقام کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے۔

مزید پڑھیں: جیل کے باہر نعرے لگانے والے خود نہیں چاہتے عمران خان سے ملاقات ہو، شیر افضل مروت

پی ڈی ایم دورِ حکومت میں نیب قانون میں ہونے والی ترمیم کے مطابق کابینہ کے فیصلوں کو عدالت میں چیلنج نہیں کیا جا سکتا۔

اسی بنیاد پر ٹرائل کورٹ میں بحث ہوئی، تاہم عدالت نے یہ مؤقف مسترد کرتے ہوئے سزا سنا دی۔

تاہم ہائیکورٹ میں اس نکتے پر دوبارہ بحث ہوگی، قانونی ماہرین کے مطابق اگر مقدمے کو مجموعی طور پر دیکھا جائے تو عمران خان کی رہائی کے امکانات پیدا ہ سکتے ہیں۔

توشہ خانہ ٹو کیس

یہ مقدمہ عمران خان کو بطور وزیراعظم سعودی عرب سے ملنے والے بلغاری جیولری سیٹ سے متعلق ہے، اس میں عدالت نے عمران خان اور بشریٰ بی بی دونوں کو 10، 10 سال قید کی سزا سنائی ہے۔

دونوں نے اس سزا کی معطلی کے لیے اسلام آباد ہائیکورٹ سے رجوع کر رکھا ہے، تاہم یہ درخواست ابھی تک سماعت کے لیے مقرر نہیں ہو سکی۔

دیگر زیرِ التوا مقدمات

یہ کیس تحفے میں ملی گھڑی کی فروخت سے متعلق ہے، تاہم اس میں عدالت سزا معطل کر چکی ہے، اس کے علاوہ 9 مئی کے واقعات سے متعلق 8 مقدمات میں سپریم کورٹ انہیں ضمانت دے چکی ہے۔

عمران خان کی رہائی کے امکانات کتنے ہیں؟

اس وقت عمران خان توشہ خانہ ٹو اور القادر ٹرسٹ کیس کی سزاؤں کے باعث جیل میں ہیں، اگر ان دونوں مقدمات میں انہیں ریلیف مل جاتا ہے تو ان کی فوری رہائی ممکن ہے۔

ان کے وکلاء کا مؤقف ہے کہ ان مقدمات میں قانونی بنیاد کمزور ہے اور اگر جلد سماعت ہو تو رہائی کے امکانات موجود ہیں۔

تاہم دوسری جانب یہ بھی سوال اٹھایا جاتا ہے کہ بعض اوقات وکلا خود سماعتوں میں التوا کی درخواستیں دیتے ہیں جس کے باعث مقدمات مزید التوا کا شکار ہوتے ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

یورپی یونین کی خارجہ پالیسی سربراہ کاجا کالاس اسٹریٹجک مذاکرات کے لیے یکم جون کو اسلام آباد پہنچیں گی

یو ایف او فائلز جاری ہونے کے بعد نئی بحث: حقیقت، راز یا محض غلط فہمیاں؟

اگر مختلف چیٹ بوٹس کو انسانوں پر حکومت سونپی جائے تو کیا ہوگا؟ دلچسپ نتائج، گروک نے تباہی مچا دی

ٹیکنالوجی کی دنیا میں ہلچل: اوپن اے آئی کا آئی فون کو ٹکر دینے کے لیے اسمارٹ فون لانے کا فیصلہ

کراچی: ڈکیتی ناکام ہونے پر مبینہ ڈاکو نے خود کا خاتمہ کرلیا، معاملہ شرمندگی کا یا کچھ اور؟

ویڈیو

عرفات منہاس ون ڈے ڈیبیو میں 5 وکٹیں لینے والے پاکستان کے پہلے بولر بن گئے

امریکا کے وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر سے حقیقی دوستی والے تعلقات ہیں، امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ

فلسطینی ریاست کے قیام تک اسرائیل سے تعلقات کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا، اسحاق ڈار کا دوٹوک اعلان

کالم / تجزیہ

اچکزئی صاحب کا مسئلہ کیا ہے؟

بڑے شہر نگل جاتے ہیں

عید الاضحی ، بھارتی مسلمان اور ہندو شاؤنزم