بنگلہ دیشی جیل خانوں میں گنجائش سے دگنے قیدی، متعدد مسائل شدت اختیار کرگئے

جمعہ 22 مئی 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

بنگلہ دیش کا جیل نظام اس وقت ایک سنگین انسانی بحران سے دوچار ہے جہاں قیدیوں کی تعداد سرکاری گنجائش کے مقابلے میں تقریباً دگنی ہو چکی ہے۔

یہ بھی پڑھیں: بنگلہ دیش کا بڑا سفارتی فیصلہ، سول افسران کی تربیت بھارت سے پاکستان منتقل

مقامی میڈیا میں شائع رپورٹ کے مطابق ملک کی 75 جیلوں کی مجموعی گنجائش تقریباً 43 ہزار قیدیوں کی ہے تاہم اس وقت 85 ہزار سے زائد قیدی مختلف جیلوں میں رکھے گئے ہیں۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ سب سے زیادہ سنگین صورتحال بڑے جیل خانوں میں ہے جہاں گنجائش سے کہیں زیادہ قیدی موجود ہیں جس کے باعث گنجائش، صفائی، غذائی قلت اور طبی سہولیات کی کمی جیسے مسائل شدید ہو گئے ہیں۔

ڈھاکہ کی مرکزی جیل میں تقریباً 4 ہزار 600 قیدیوں کی گنجائش کے باوجود 10 ہزار سے زائد افراد کو رکھا گیا ہے جبکہ بندرگاہی شہر چٹاگانگ کی جیل میں ایک ہزار 900 کی گنجائش کے مقابلے میں 6 ہزار 100 سے زیادہ قیدی موجود ہیں۔

مزید پڑھیے: بنگلہ دیش نے تھامس ڈولی کو قومی فٹبال ٹیم کا ہیڈ کوچ مقرر کر دیا

کاشیم پور جیل کمپلیکس اور خواتین کی جیلوں میں بھی اسی نوعیت کی شدید بھیڑ رپورٹ کی گئی ہے جہاں بعض قیدی بچوں کے ساتھ انتہائی مشکل حالات میں رہنے پر مجبور ہیں۔

سونے کی مشکلات، بیت الخلا تک رسائی دشوار

رپورٹس کے مطابق قیدی بنیادی سہولیات جیسے سونے کی جگہ، صفائی اور بیت الخلا تک رسائی کے لیے روزانہ مشکلات کا سامنا کرتے ہیں اور بعض جیلوں میں جگہ کی کمی کے باعث قیدیوں کو باری باری سونا پڑتا ہے۔

کھانے کے معیار پر تحفظات

اگرچہ سرکاری سطح پر جیلوں کے کھانے اور غذائی معیار میں بہتری کے دعوے کیے گئے ہیں لیکن قیدیوں اور مبصرین کے مطابق خوراک کا معیار اب بھی انتہائی ناقص ہے۔

کھانوں میں اکثر پتلی دال، زیادہ پکی ہوئی سبزیاں اور گوشت یا مچھلی کی نہایت کم مقدار شامل ہوتی ہے۔

مزید پڑھیں: بنگلہ دیشی نوجوانوں کو روسی فوجی کیمپوں میں دھوکے سے بھرتی کرنے کا الزام

ماہرین صحت نے خبردار کیا ہے کہ ناقص غذا کے باعث متعدد قیدی وٹامن کی کمی، جلدی امراض، معدے کے مسائل اور تپ دق (ٹی بی) سمیت مختلف بیماریوں کا شکار ہو رہے ہیں۔

رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ غریب قیدی جو اضافی خوراک جیل کینٹین سے خریدنے کی استطاعت نہیں رکھتے سب سے زیادہ متاثر ہیں۔

اندازوں کے مطابق 70 سے 80 فیصد قیدی کم آمدنی والے خاندانوں سے تعلق رکھتے ہیں جو پہلے ہی قانونی اخراجات کے دباؤ کا شکار ہیں۔

ماہرین کے مطابق جیلوں میں بھیڑ کی بڑی وجوہات میں سیاسی عدم استحکام، جرائم کے خلاف سخت کارروائیاں، بڑے پیمانے پر گرفتاریاں، عدالتی تاخیر اور زیر التوا مقدمات کی بھرمار شامل ہے۔

یہ بھی پڑھیے: بنگلہ دیش اور امریکا کے درمیان دفاعی تعاون بڑھانے پر پیشرفت، خطے میں نئی سفارتی بحث

جیل حکام نے بحران کو تسلیم کرتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت کو بہتری کے لیے تجاویز بھیجی گئی ہیں تاہم انسانی حقوق کے کارکنوں کا کہنا ہے کہ عدالتی اصلاحات، مقدمات کے تیز فیصلے اور ضمانت تک آسان رسائی کے بغیر یہ مسئلہ حل نہیں ہو سکتا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

روسی ’شیڈو فلیٹ‘ کے خلاف برطانوی کارروائی، بھارتی کپتان کو 10 سال قید کا سامنا

جو روٹ ٹیسٹ کرکٹ میں سب سے زیادہ کیچز پکڑنے والے فیلڈر بن گئے

نوجوانوں کی مزاحمت نے مودی کو ’جن زی‘ بننے پر مجبور کردیا، سوشل میڈیا مہم مذاق بن گئی،برطانوی میڈیاکی رپورٹ

ایلون مسک نے مصنوعی ذہانت اور روبوٹکس کے ذریعے عالمی نظامِ صحت میں انقلابی تبدیلی کی پیش گوئی کردی

الاسکا میں امریکی فضائیہ کے ریڈار مرکز کے قریب طیارہ تباہ، 8 افراد ہلاک

ویڈیو

کرائے کے جوتے، 6 ہزار میٹر بلند چوٹی: 14 سالہ ملائکہ خلجی کی حیران کن کہانی

ایک سال تک مفت اے آئی سہولت، پاکستانی طلبہ اسے کیسے حاصل کرسکتے ہیں؟

عمران خان کا علاج الشفا انٹرنیشنل کے بجائے پمز سے، حقائق کیا؟ پمز منتقلی کے خلاف پی ٹی آئی کا بڑا اقدام، خان کا سہیل آفریدی کے لیے پیغام

کالم / تجزیہ

سفید جادو، مثبت اور مددگار

عینی آپا ’آگ کا دریا‘ پار کیوں نہ کرسکیں؟

’ايسا ابّا کہاں سے لبھّا تھا‘