پاک چین بی ٹو بی کانفرنس میں 13 ارب ڈالر سے زائد کے معاہدے؛ معاشی سفارت کاری خارجہ پالیسی کا بنیادی محور قرار

اتوار 24 مئی 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

نائب وزیر اعظم اور وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ پاکستان اور چین کے سفارتی تعلقات کی 75 ویں سالگرہ کے موقع پر دونوں ممالک کا لازوال اور مضبوط بھائی چارہ وقت کے ساتھ ساتھ مزید مضبوط ہو رہا ہے۔

نائب وزیر اعظم اور وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار نے اتوار کے روز اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ جہاں پاکستان اور چین اپنے سفارتی تعلقات کی 75 ویں سالگرہ منا رہے ہیں، وہیں ان کا ‘فولادی بھائی چارہ’ ہر گزرتے سال کے ساتھ مزید مضبوط ہو رہا ہے۔

چین کے شہر ہانگژو میں آئی ٹی و ٹیلی کام، بیٹری انرجی اسٹوریج سسٹمز (BESS) اور زراعت کے موضوع پر منعقدہ ‘پاک چین بی ٹو بی انویسٹمنٹ کانفرنس’ سے خطاب کرتے ہوئے نائب وزیر اعظم کا کہنا تھا، ’ہماری دوستی بدلتی ہوئی عالمی حقیقتوں، وقت کی آزمائشوں اور علاقائی چیلنجز کے سامنے ہمیشہ پورا اتری ہے۔ مجھے اس بات پر خاصی مسرت ہے کہ ہمارے تاریخی حکومتی سطح کے (جی ٹو جی) تعلقات کو اب ایک متحرک اور پھیلتی ہوئی تجارتی و کاروباری (بی ٹو بی) شراکت داری سے مزید تقویت مل رہی ہے۔‘

یہ بھی پڑھیے سی پیک فیز ٹو پر کام شروع ہو چکا، پاکستان ون چائنا پالیسی پر پوری طرح کاربند ہے، اسحاق ڈار

نائب وزیر اعظم نے کہا کہ تجربات سے سیکھنے پر مبنی چین کا معاشی ماڈل پاکستان کے لیے بہترین سبق فراہم کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم شہباز شریف کی متحرک قیادت میں حکومت معاشی بحالی، صنعتی توسیع اور پائیدار ترقی کے ایک پرعزم ایجنڈے پر گامزن ہے۔ بیرونی چیلنجز کے باوجود گزشتہ 4 سالوں کے دوران معاشی استحکام حاصل کیا گیا ہے اور آج ملکی معیشت کا رخ مضبوطی سے اوپر کی طرف ہے۔

سینیٹر اسحاق ڈار نے چینی سرمایہ کاروں کو دعوت دیتے ہوئے کہا، ’پاکستان کاروبار کے لیے مکمل طور پر کھلا ہے۔ پاکستان میں اصلاحات ہو رہی ہیں اور پاکستان ابھر رہا ہے۔ وزارتِ خارجہ نے بھی اپنے روایتی کردار کو بنیادی طور پر تبدیل کرتے ہوئے اب معاشی سفارت کاری کو اپنی خارجہ پالیسی کا محور بنا دیا ہے۔ چین کے ساتھ ہمارا بڑھتا ہوا کاروباری (بی ٹو بی) رابطہ اس نئی سمت کی ایک بہترین اور واضح مثال ہے۔‘

دفتر خارجہ کے ترجمان کی جانب سے جاری کردہ پریس ریلیز کے مطابق نائب وزیر اعظم نے بتایا کہ اب تک ہم چین میں 2 اور پاکستان میں 2 بی ٹو بی کانفرنسیں منعقد کر چکے ہیں اور مخصوص شعبوں پر مرکوز یہ اس سلسلے کی پانچویں کانفرنس ہے۔

انہوں نے انکشاف کیا کہ مجموعی طور پر اب تک 300 سے زائد مفاہمت کی یادداشتوں (MoUs) اور تقریباً 3 درجن مشترکہ منصوبوں (Joint Ventures) پر دستخط کیے جا چکے ہیں، جن کی کل مالیت 13 ارب امریکی ڈالر سے تجاوز کر چکی ہے۔

اس موقع پر وزیر اعظم محمد شہباز شریف، صوبہ ژجیانگ کے گورنر لیو جی، وفاقی وزیر برائے آئی ٹی و ٹیلی کمیونیکیشن شیزا فاطمہ خواجہ، وفاقی وزیر برائے نیشنل فوڈ سیکیورٹی اینڈ ریسرچ رانا تنویر حسین، صنعت و پیداوار کے لیے وزیر اعظم کے معاون خصوصی ہارون اختر، چین میں پاکستان کے سفیر خلیل ہاشمی، سروس گروپ آف پاکستان کے سی ای او عمر سعید، لانگ مارچ ٹائر کے چیئرمین جن یونگ شینگ، آئی بی آئی گولیان گوفن کے صدر کیان شیاؤجون اور چائنا کونسل فار دی پروموشن آف انٹرنیشنل ٹریڈ (ژجیانگ پروونشل کمیٹی) کے چیئرمین چن جیان ژانگ بھی موجود تھے۔

یہ بھی پڑھیے اسحاق ڈار کا چین کا دورہ، پاکستان چین سیاسی و اقتصادی تعاون مزید مضبوط بنانے کے عزم کا اظہار

نائب وزیر اعظم نے شرکاء کو بتایا کہ انہوں نے گزشتہ ہفتے ہی اسلام آباد میں ‘آئی بی آئی پاکستان ڈیجیٹل اکانومی ہیڈ کوارٹرز’ کا افتتاح کیا ہے۔ بیجنگ میں وزیر اعظم شہباز شریف کے ساتھ آئی بی آئی کے چیئرمین کیان کی ملاقات کے بعد محض 8 ماہ سے بھی کم عرصے میں آئی بی آئی نے پاکستان میں اپنا دفتر قائم کر کے آپریشنز کا آغاز کر دیا ہے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ آئی بی آئی کے گزشتہ ہفتے دورہ پاکستان کے دوران ایک ارب ڈالر سے زائد کے معاہدوں پر دستخط کیے گئے۔

سینیٹر اسحاق ڈار نے پاکستان کے سروس گروپ اور چین کے لانگ مارچ ٹائرز کے درمیان کامیاب مشترکہ منصوبے کا بھی ذکر کیا، جو 5 سال کے اندر اب پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں لسٹڈ ہونے والی ایک ارب ڈالر کی جائنٹ وینچر کمپنی بننے جا رہی ہے۔

ان کا کہنا تھا، ’یہ تمام کامیابیاں وزیر اعظم کی رہنمائی میں پاکستان کے متعدد اداروں کی مربوط کوششوں کا نتیجہ ہیں۔ میں اس مشن میں حصہ ڈالنے والے ہر فرد اور ادارے کو سراہتا ہوں۔ میں بالخصوص سفیرِ پاکستان خلیل ہاشمی کی تعریف کرنا چاہوں گا جنہوں نے ہمارے ترجیحی شعبوں میں بی ٹو بی کاروباری روابط کو فروغ دینے کے لیے کئی اہم اقدامات کیے۔‘

سینیٹر اسحاق ڈار نے اس بات پر خوشی کا اظہار کیا کہ اس ہال میں دونوں اطراف سے 500 سے زائد کمپنیاں موجود ہیں اور جن شعبوں کو اس کانفرنس کے لیے منتخب کیا گیا ہے، وہ پاکستان کی معاشی تبدیلی اور صنعتی جدید کاری کے لیے انتہائی اہمیت کے حامل ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

ایران سے ممکنہ امن معاہدہ: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے وائٹ ہاؤس میں اہم کابینہ اجلاس طلب کرلیا

نیویارک: وزیر خارجہ اسحاق ڈار کی آذربائیجان اور کمبوڈیا کے ہم منصبوں سے ملاقاتیں، دوطرفہ تعاون کے فروغ پر اتفاق

اقوام متحدہ میں پاکستان کا دوٹوک مؤقف، عالمی امن کے لیے انصاف، مکالمہ اور قانون کی بالادستی ناگزیر قرار

طالبان رجیم کی سرپرستی میں افغان دہشتگرد فرنچائزز کا پھیلاؤ، عالمی خدشات میں اضافہ

مشترکہ اعلامیہ: پاک چین تعلقات نئی اسٹریٹجک بلندی پر، مستقبل کی نئی برادری کے قیام پر اتفاق

ویڈیو

یہ غلط فہمی ہے کہ یورپ میں مقیم پاکستانیوں کی اکثریت عمران خان کی حامی ہے، حافظ عبدالرحمان

عیدالاضحیٰ سیزن: مویشیوں کے چارے، سامان سجاوٹ کے عارضی اسٹالز، کم وقت میں بڑی کمائی کا ذریعہ

حج 2026 کے موقع پر میدان عرفات میں عازمین کے لیے شاندار انتظامات

کالم / تجزیہ

ہر راستہ بیجنگ کی جانب

کراچی میں ہونے والا فضائی حادثہ جس نے پاکستان کے ایوی ایشن نظام کو ہلا کر رکھ دیا

عیدالاضحیٰ: پہل اسلام آباد سے کی جائے؟