سعودی عرب کے بانی شاہ عبدالعزیز بن عبدالرحمٰن آل سعود کے حکم پر تیرہ سو باون ہجری (1933) میں مکہ مکرمہ کی پہلی تاریخی گھڑی نصب کی گئی تھی۔
سعودی پریس ایجنسی کے مطابق یہ گھڑی مسجد الحرام کی ترقی اور توسیع کے لیے سعودی مملکت کی دیرینہ وابستگی کا ایک ابتدائی اور منہ بولتا ثبوت ہے۔
یہ بھی پڑھیں: مسجد الخیف: مکہ مکرمہ کا تاریخی اور مقدس مقام
اس تاریخی گھڑی کو لگانے کی ذمہ داری اس وقت کے وزیرِ خزانہ عبداللہ الحمدان کو سونپی گئی تھی، جبکہ مکہ مکرمہ کے میئر عباس قطان نے اس پورے منصوبے کی نگرانی کی تھی۔ جرمنی سے درآمد کی گئی یہ منفرد اور نمایاں گھڑی ایک سرکاری عمارت کے اوپر تیس میٹر سے زیادہ کی بلندی پر نصب کی گئی تھی۔
اس گھڑی کو 2 روشن چہروں (ڈائلز) کے ساتھ ڈیزائن کیا گیا تھا، جہاں سے مسجد الحرام، اسٹریٹ مسعیٰ اور اجیاد اسٹریٹ واضح طور پر نظر آتی تھیں۔ یہ گھڑی مکہ مکرمہ کے مقامی رہائشیوں اور دُنیا بھر سے آئے ہوئے عازمینِ حج کے لیے نماز کے اوقات کار کو منظم کرنے کا ایک مرکزی ذریعہ تھی۔
یہ بھی پڑھیں: تیل کے چراغوں سے برقی قمقموں تک: مسجد الحرام میں روشنی کے نظام میں تاریخی تبدیلی کیسے وقوع پذیر ہوئی؟
آج کے جدید دور میں بھی اس تاریخی گھڑی کے محفوظ حصوں کو ‘حرمین شریفین کے فنِ تعمیر کی نمائش’ میں عوام کے لیے پیش کیا گیا ہے، یہ تاریخی ٹکڑے اسلام کے مقدس ترین مقامات کی دیکھ بھال اور پاسداری کے حوالے سے سعودی قیادت کی گہری اور دیرینہ خدمات کی دستاویزی گواہی دیتے ہیں۔














