تیل کے چراغوں سے برقی قمقموں تک: مسجد الحرام میں روشنی کے نظام میں تاریخی تبدیلی کیسے وقوع پذیر ہوئی؟

اتوار 24 مئی 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

سعودی عرب کے بانی شاہ عبدالعزیز بن عبدالرحمن آل سعود کے دورِ حکومت میں مسجد الحرام کے روشنی کے نظام میں ایک تاریخی اور انقلابی تبدیلی آئی، جس نے روایتی تیل کے چراغوں اور موم بتیوں کے دور کا خاتمہ کر کے جدید برقی نظام کی بنیاد رکھی۔

یہ عظیم الشان تبدیلی اس غیر معمولی دیکھ بھال اور خدمات کا نقطہ آغاز ثابت ہوئی جو سعودی حکومت آج بھی حرمین شریفین اور وہاں آنے والے لاکھوں زائرین کے لیے مسلسل انجام دے رہی ہے۔

سعودی خبر رساں ادارے ’سپا‘ کی  ایک حالیہ رپورٹ سے پتہ چلتا ہے کہ سعودی سلطنت کے قیام اور اتحاد سے قبل، مسجد الحرام کے اندر روشنی کا انتظام بنیادی طور پر مطاف (کعبہ کے گرد طواف کا علاقہ) تک محدود تھا۔ اس مقدس ترین مقام کو روشن کرنے کے لیے زیادہ تر تیل کے چراغوں، موم بتیوں اور تانبے کے ایسے ستونوں پر انحصار کیا جاتا تھا جنہیں خوبصورتی سے کھجور کے درختوں کی مانند ڈیزائن کیا گیا تھا، اور ان کی دھاتی شاخوں سے چراغ لٹکائے جاتے تھے۔

یہ بھی پڑھیے سعودی عرب کا حج 2026 کے لیے اسمارٹ ٹرانسپورٹ نیٹ ورک مزید وسیع، 20 لاکھ سے زائد عازمین  کی منتقلی کے لیے انتظامات

اس کے علاوہ، برآمدوں کے ستونوں کے درمیان لوہے کے شہتیروں پر بھی چراغ لگائے گئے تھے، جن کی کل تعداد میناروں کی روشنیوں کے علاوہ تقریباً 1,422 بنتی تھی۔ بیت اللہ کے دروازے (بابِ کعبہ) کو روشن کرنے کے لیے سفید دھات کا ایک منفرد فانوس استعمال کیا جاتا تھا۔ اس ابتدائی دور میں بجلی انتہائی نایاب تھی اور مطاف کے ارد گرد صرف چند لالٹینوں کو جلانے کے لیے 3 کلو واٹ کا ایک چھوٹا سا جنریٹر استعمال ہوتا تھا۔

حرم مکی کو جدید ترین سہولیات سے آراستہ کرنے کے ایک نئے اور جامع دور کا آغاز شاہ عبدالعزیز کے دور میں ہوا۔ شعبان 1347 ہجری میں انہوں نے ایک تاریخی شاہی فرمان جاری کیا جس کے تحت پرانے روایتی نظام کو ہٹانے اور مطاف اور برآمدوں کو مکمل طور پر روشن کرنے کے لیے تقریباً 1,000 برقی قمقمے (بجلی کے بلب) نصب کرنے کا حکم دیا گیا۔ اس کے ساتھ ہی، مسجد الحرام کے داخلی راستوں اور ارد گرد کی راہداریوں کو منور کرنے کے لیے 300 واٹ کے 30 اضافی لالٹین بھی لگائے گئے۔ اس مہم کے نتیجے میں اسی سال رمضان المبارک کے مقدس مہینے میں مسجد الحرام پہلی بار مکمل طور پر بجلی کی روشنی سے جگمگا اٹھی۔

یہ بھی پڑھیے حج انتظامات میں انقلاب، 2026 کا حج ماضی سے کیسے مختلف ہوگا؟

انفراسٹرکچر کی اس اپ گریڈیشن کا سلسلہ 1349 ہجری میں بھی جاری رہا، جب شاہ عبدالعزیز نے 13 ہارس پاور کا ایک طاقتور جنریٹر منگوانے کا حکم دیا، جس نے روشنی کے نظام کو مزید جلا بخشی اور مسجد کی تعمیراتی خوبصورتی کو نکھار دیا۔ بعد ازاں، 1369 ہجری میں ایک اور شاہی فرمان کے ذریعے ‘مکہ الیکٹرسٹی کمپنی’ قائم کی گئی، جسے مکہ مکرمہ اور مسجد الحرام کو بجلی فراہم کرنے کا باقاعدہ سرکاری ٹھیکہ دیا گیا۔ اس اقدام نے محلوں کی سطح پر لگے چھوٹے اور بکھرے ہوئے جنریٹرز پر انحصار کا ہمیشہ کے لیے خاتمہ کر دیا۔

ٹیکنالوجی کا یہ سفر اوائل 1373 ہجری میں اس وقت اپنی معراج کو پہنچا جب ‘التنعیم’ کے مقام پر پہلے مرکزی پاور اسٹیشن (بجلی گھر) کا افتتاح ہوا۔ یہ سنگ میل ایک باقاعدہ اور جامع بجلی کے گرڈ (Grid) کا آغاز ثابت ہوا، جس نے مسجد الحرام کو روشنی کے جدید ترین دور میں داخل کر دیا۔

یہ بھی پڑھیے حج 2026: اسمارٹ مانیٹرنگ سے اسمارٹ رہنمائی تک

آج، تاریخی تصاویر اور آرکائیو کا ریکارڈ ان تمام یکے بعد دیگرے آنے والے مراحل کی منہ بولتی تصویر ہیں، جو تیل کے چراغوں کی مدہم لو سے شروع ہو کر پہلے جنریٹر کی گونج اور پھر جدید ادارہ جاتی برقی نظام تک پہنچے۔ یہ سفر نہ صرف ایک شاندار تہذیبی تبدیلی کی عکاسی کرتا ہے بلکہ حرمین شریفین میں فراہم کی جانے والی خدمات کو مسلسل بہتر اور بے عیب بنانے کے لیے سعودی مملکت کے پختہ عزم کو بھی ظاہر کرتا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp