ون کانسٹیٹیوشن ایوینو کیس: اسلام آباد ہائیکورٹ نے سی ڈی اے کو رہائشیوں کے خلاف کارروائی سے روک دیا

پیر 25 مئی 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

اسلام آباد ہائیکورٹ نے ون کانسٹیٹیوشن ایونیو کے رہائشیوں کو بے دخل کرنے سے کیپیٹل ڈیولپمنٹ اتھارٹی (سی ڈی اے) کو روک دیا اور ان کی درخواستیں مسترد کرنے کے خلاف دائر انٹرا کورٹ اپیلوں پر حکمِ امتناع جاری کردیا۔

جسٹس محمد اعظم خان اور جسٹس راجا انعام امین منہاس پر مشتمل ڈویژن بینچ نے ون کانسٹیٹیوشن ایونیو کے رہائشیوں کی جانب سے دائر اپیلوں کی سماعت کی۔

مزید پڑھیں: ون کانسٹیٹیوشن ایونیو کیس، اپارٹمنٹ مالکان کو اسلام آباد ہائیکورٹ سے فوری ریلیف نہ مل سکا

دورانِ سماعت عدالت نے سی ڈی اے کو آئندہ سماعت تک رہائشیوں کے خلاف کسی بھی قسم کی سخت کارروائی سے روک دیا۔

رہائشیوں کے وکیل سردار تیمور اسلم نے عدالت سے کہاکہ ہم چاہتے ہیں کہ سی ڈی اے بورڈ ہمیں سنے اور اپنی بے گناہی ثابت کرنے کا موقع دے۔

جسٹس اعظم خان نے سب لیز کے طریقہ کار کے بارے میں استفسار کیا اور پوچھا کہ آیا یہ کسی ادارے کے ساتھ باقاعدہ دستاویزی شکل میں تھی یا غیر رسمی طور پر کی گئی تھی۔

رہائشیوں کے ایک اور وکیل سینیئر قانون دان علی رضا نے مؤقف اختیار کیاکہ سی ڈی اے نے زمین لیز پر دی تھی اور اصل لیز برقرار رہنے کے دوران سب لیزز کی گئی تھیں۔

انہوں نے عدالت کو بتایا کہ سی ڈی اے کو جزوی ادائیگی موصول ہوچکی تھی جو رہائشی ٹاورز کی تعمیر والی جگہ کے لیے کافی تھی۔

سی ڈی اے کی جانب سے پیش ہونے والے وکیل کاشف علی ملک نے عدالت کو بتایا کہ اتھارٹی زمین کی نگران ہے اور سپریم کورٹ کا 2019 کا حکم، جس میں بلڈر کو 17 ارب روپے ادا کرنے کی ہدایت دی گئی تھی، عوامی ریکارڈ کا حصہ ہے۔

انہوں نے سوال اٹھایا کہ لوگوں نے خطرناک جائیدادوں میں سرمایہ کاری کیوں کی؟

جسٹس راجا انعام امین منہاس نے ریمارکس دیے کہ سی ڈی اے نے بلڈر کو خطوط جاری کیے تھے اور وہ رہائشیوں کی موجودگی سے آگاہ تھی۔

جسٹس اعظم خان نے استفسار کیا کہ آیا سی ڈی اے نے منصوبے کا تکمیلی سرٹیفکیٹ جاری کیا تھا؟ اس پر سی ڈی اے کے وکیل نے جواب دیا کہ آج تک کوئی تکمیلی سرٹیفکیٹ جاری نہیں کیا گیا اور رہائشیوں کے پاس سی ڈی اے کی جانب سے جاری کردہ کوئی دستاویز موجود نہیں۔

جسٹس انعام امین منہاس نے ریمارکس دیے کہ نیشنل پولیس فاؤنڈیشن کیس میں پوری ہاؤسنگ اسکیم کو غیر قانونی قرار دیا گیا تھا، اس کے باوجود رہائشیوں کو بے دخل نہیں کیا گیا تھا۔

بعد ازاں عدالت نے حکمِ امتناع جاری کرتے ہوئے سماعت ملتوی کردی۔

یہ تنازع 2005 میں سی ڈی اے اور بی این پی کے درمیان فائیو اسٹار ہوٹل منصوبے کے لیے ہونے والے لیز معاہدے سے متعلق ہے، جسے بعد میں اسلام آباد کے اہم علاقے میں قائم لگژری رہائشی و تجارتی کمپلیکس ون کانسٹیٹیوشن ایونیو میں تبدیل کردیا گیا۔

یہ لیز ابتدائی طور پر 2016 میں منسوخ کردی گئی تھی تاہم سپریم کورٹ نے 2019 میں سخت مالی شرائط کے ساتھ اسے بحال کردیا تھا، جن میں 17.5 ارب روپے اقساط میں بینک گارنٹی کے ساتھ ادا کرنا شامل تھا۔

گزشتہ ماہ اسلام آباد ہائیکورٹ نے منصوبے کے پیچھے موجود کمپنی کی جانب سے ادائیگیوں میں ناکامی پر عمارت کی لیز منسوخ کرنے کے سی ڈی اے فیصلے کو برقرار رکھا تھا، جس کے بعد سوشل میڈیا پر شدید ردعمل سامنے آیا اور رہائشیوں نے الزام عائد کیا کہ حکام نے بے دخلی کے نوٹس دینے کے لیے ان کے دروازے توڑے۔

مزید پڑھیں: ون کانسٹیٹیوشن ایونیو کیس: اسلام آباد ہائیکورٹ کا سی ڈی اے کو نوٹس، جواب طلب کرلیا

بعد ازاں بینک آف پنجاب (بی او پی) اور متعدد فلیٹ مالکان نے علیحدہ علیحدہ انٹرا کورٹ اپیلیں دائر کیں، جن میں سنگل بینچ کے اس فیصلے کو چیلنج کیا گیا جس میں کہا گیا تھا کہ تیسرے فریق کے خریدار اصل لیز ہولڈر کے ساتھ ڈوبیں گے یا تیر جائیں گے۔

ہفتے کے روز سماعت سے قبل عدالتی ریکارڈ میں کچھ نئے اور دلچسپ حقائق بھی سامنے آئے، جن میں موجودہ وزیر دفاع خواجہ محمد آصف اور فیصل آباد چیمبر آف کامرس کے سابق صدر کی جانب سے 2012 میں جاری کیا گیا عبوری ثالثی ایوارڈ شامل ہے، جس کا مقصد دونوں بڑے شراکت داروں کے درمیان تنازعات حل کرنا تھا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp