اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کا شکر ادا کیا جائے کیونکہ ظلم اور ناشکری کرنے والی قوموں سے نعمتیں چھین لی جاتی ہیں، خطبۂ حج

منگل 26 مئی 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

حج کے رکنِ اعظم وقوفِ عرفات کی ادائیگی کے لیے لاکھوں مسلمان میدانِ عرفات پہنچ گئے، جہاں فضا لبیک اللّٰہم لبیک کی روح پرور صداؤں سے گونج اٹھی۔ امام الحج، مسجدِ نبویؐ کے امام الشیخ عبدالرحمان الحذیفی نے خطبہ حج دیا۔ لاکھوں حجاج کرام نے میدان عرفات میں خطبہ حج سنا، خطبہ حج میں مسلم دنیا کے مسائل کے لیے خصوصی دعائیں کی گئیں۔ خطبہ حج کے بعد مسجد نمرہ میں نماز ظہر اورعصر ایک ساتھ ادا کی گئی جبکہ غروبِ آفتاب تک مناجات، تسبیحات اور خصوصی دعاؤں میں مشغول رہیں گے۔

سورج غروب ہوتے ہی حجاج کے اولین قافلے وادی مزدلفہ کی جانب روانہ ہوں گے، جہاں مغرب اور عشاء کی نمازیں اکٹھی ادا کی جائیں گی۔ حجاج کرام مزدلفہ میں رمی کے لیے کنکریاں جمع کریں گے اور 9 اور 10 ذی الحج کی درمیانی شب وہیں قیام کریں گے۔

خطبۂ حج میں تقویٰ، اتحادِ امت اور بھائی چارے پر زور، عالم اسلام کے لیے خصوصی دعائیں

امام الحج اور مسجدِ نبویؐ کے امام الشیخ عبدالرحمان الحذیفی نے میدانِ عرفات میں خطبۂ حج دیتے ہوئے امتِ مسلمہ کو تقویٰ، صبر، اتحاد اور توحید اختیار کرنے کی تلقین کی۔

لاکھوں حجاج کرام نے میدانِ عرفات میں خطبۂ حج سنا، جبکہ دنیا بھر کے مسلمانوں نے بھی خطبہ حج براہِ راست دیکھا اور سنا۔

خطبے میں امتِ مسلمہ کے اتحاد، بھائی چارے، امن، رواداری اور باہمی احترام پر زور دیا گیا اور عالم اسلام کو اخوت و یکجہتی کا پیغام دیا گیا۔

امام الحج نے کہا کہ اے ایمان والو! اللہ سے ڈرو، تقویٰ اختیار کرو اور اللہ تعالیٰ کے احکامات کے مطابق زندگی گزارو۔ انہوں نے کہا کہ نبی اکرم ﷺ اللہ تعالیٰ کے آخری رسول اور خاتم النبیین ہیں، جبکہ توحید پر عملدرآمد اہلِ ایمان کی پہچان ہے۔

خطبے میں اس بات پر زور دیا گیا کہ کسی کو اللہ تعالیٰ کا شریک نہ ٹھہرایا جائے اور رب کے سوا کسی غیر کی عبادت نہ کی جائے۔ امام الحج نے کہا کہ ایمان والوں کے سامنے جب اللہ کی آیات پیش کی جاتی ہیں تو ان کے دل نرم پڑ جاتے ہیں۔

انہوں نے مسلمانوں کو ہر مصیبت میں صبر اختیار کرنے، سچ بولنے، غلط بیانی، بدعت اور غیبت سے بچنے کی تلقین کرتے ہوئے کہا کہ صبر کرنے والوں کے لیے اللہ تعالیٰ نے اجرِ عظیم کا وعدہ فرمایا ہے۔

خطبۂ حج میں کہا گیا کہ اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کا شکر ادا کیا جائے کیونکہ ظلم اور ناشکری کرنے والی قوموں سے نعمتیں چھین لی جاتی ہیں۔

امام الحج نے حجاج کرام کو ہدایت کی کہ وہ مناسکِ حج بہترین انداز میں ادا کریں، ہر لمحہ مغفرت کی دعا کرتے رہیں اور عرفات سے روانگی کے بعد مزدلفہ جائیں جہاں اللہ کے ذکر اور عبادات میں مشغول رہیں۔

خطبے کے اختتام پر امتِ مسلمہ، مسلم دنیا کے مسائل، امن و استحکام، مسلمانوں کی ہدایت، گناہوں کی مغفرت اور اعمال کی قبولیت کے لیے خصوصی دعائیں کی گئیں۔

امام الحج نے زور دیا کہ حج کے دوران ہر قسم کے جھگڑے اور ایسے اعمال سے اجتناب کیا جائے جو امت کے اتحاد اور وحدت کو نقصان پہنچائیں۔

لاکھوں عازمینِ حج میدانِ عرفات میں موجود ہیں

آج حج کا رکنِ اعظم، یومِ عرفہ، ادا کیا جا رہا ہے اور لاکھوں عازمینِ حج میدانِ عرفات میں موجود ہیں۔

پاکستانی عازمینِ حج کے پہلے قافلے گزشتہ شب نمازِ عشاء کے بعد عرفات روانہ ہوئے، جبکہ دیگر قافلے بھی رات بھر ناظمین کی رہنمائی میں میدانِ عرفات پہنچتے رہے۔

مزید پڑھیں: حج میں جدید ٹیکنالوجی کے ساتھ پاکستانی معاون عملے کی نئی ذمہ داریاں

حکام کے مطابق آج نمازِ ظہر سے قبل تمام عازمین میدانِ عرفات میں پہنچ جائیں گے۔ امسال امیرِ حج کے فرائض مسجدِ نبویؐ کے امام، الشیخ علی الحذیفی انجام دے رہے ہیں۔

عازمینِ حج خطبۂ حج کے بعد اپنے خیموں میں ظہر اور عصر کی نمازیں ادا کریں گے، جبکہ غروبِ آفتاب تک وقوفِ عرفات کے دوران عبادات، دعاؤں اور مناجات میں مشغول رہیں گے۔

مزید پڑھیں: سعید انور اور وسیم اکرم کی حج کے دوران تصاویر سوشل میڈیا کی توجہ کا مرکز بن گئیں

میدانِ عرفات میں دنیا بھر سے آئے لاکھوں فرزندانِ اسلام کی عبادات اور دعاؤں کا سلسلہ جاری ہے۔ وقوفِ عرفات کے بعد حجاج کرام مزدلفہ روانہ ہوں گے۔

یومِ عرفہ کے موقع پر پاکستان، امتِ مسلمہ کے امن، سلامتی اور مغفرت کے لیے خصوصی دعائیں بھی کی جائیں گی۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp