حج صرف عبادات کا مجموعہ نہیں بلکہ انسانی خدمت، نظم اور اجتماعی تعاون کا ایک عظیم منظر بھی ہوتا ہے، ہر سال لاکھوں عازمین کی آمد کے ساتھ ہزاروں افراد خاموشی سے خدمت کے مختلف شعبوں میں متحرک ہوتے ہیں، جن میں طبی عملہ، معاونین، رہنمائی ٹیمیں اور رضاکار شامل ہوتے ہیں۔
حج 2026 میں بھی پاکستانی معاون عملہ اور رضاکار مختلف شعبوں میں خدمات انجام دے رہے ہیں، رضاکاروں کی مجموعی تعداد کے بارے میں وزارتِ مذہبی امور کے ترجمان عمر بٹ کا کہنا ہے اس سال 200 رضا کار وزارتِ مذہبی امور کی جانب سے جبکہ 400 اہلکار حج میڈیکل مشن کے تحت فعال ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: سرکاری حج اسکیم: پاکستانی عازمین کو کھانے میں کیا کچھ دیا جارہا ہے؟
’۔۔۔جبکہ 900 رضاکار یا خادم الحجاج ہیں جو این ٹی ایس کے تحت ہائر کیے گئے ہیں، یوں اس سال پاکستان کی کل رضاکاروں کی تعداد 1600 ہے، جو پاکستانی عازمینِ حج کی خدمت پر مامور ہیں۔‘
پاکستان کی وزارت مذہبی امور و بین المذاہب ہم آہنگی، دفتر امور حجاج پاکستان اور سعودی عرب میں قائم پاکستانی حج مشن ہر سال پاکستانی عازمین کی خدمت کے لیے مختلف معاون ٹیمیں تشکیل دیتے ہیں، جن میں معاونین حجاج، طبی مشن، آئی ٹی عملہ، رہنمائی ٹیمیں اور انتظامی اہلکار شامل ہوتے ہیں۔

پاکستانی میڈیا رپورٹس اور وزارت مذہبی امور کے جاری کردہ بیانات کے مطابق رواں سال بھی پاکستانی حج مشن مکہ مکرمہ، مدینہ منورہ، منیٰ، عرفات اور مزدلفہ میں فعال کردار ادا کر رہا ہے، جہاں اردو بولنے والے معاونین عازمین کی رہنمائی اور سہولت کے لیے تعینات ہوں گے۔
پاکستانی معاون عملہ متعدد سطحوں پر خدمات انجام دیتا ہے، خصوصاً رہنمائی، شکایات کے ازالے، گمشدہ عازمین کی مدد، طبی معاونت اور ڈیجیٹل سہولتوں کے استعمال میں رہنمائی کے شعبوں میں۔
مزید پڑھیں: خطبہ حج دنیا بھر میں 35 زبانوں میں نشر کیا جائے گا
رواں سال حج آپریشن میں ایک نمایاں تبدیلی یہ دیکھی جا رہی ہے کہ پاکستانی معاون عملہ اب روایتی خدمت کے ساتھ ساتھ ڈیجیٹل حج نظام کے ساتھ بھی مربوط ہو چکا ہے۔
نسک کارڈ، توکلنا ایپس اور دیگر اسمارٹ حج پلیٹ فارمز کے استعمال کے باعث معاونین کو عازمین کی رہائش، ٹرانسپورٹ، گروپ معلومات اور نقل وحرکت سے متعلق فوری معلومات تک رسائی حاصل ہے، جس سے مسائل کے حل میں تیزی آئی ہے۔

حرمین شریفین میں پاکستانی معاونین کا کردار خاص طور پر اردو بولنے والے عازمین کے لیے اہم بن جاتا ہے، مسجد الحرام اور مسجد نبوی کے اطراف پاکستانی معاونین راستوں، گیٹس، ٹرانسپورٹ پوائنٹس اور رہائشی مقامات سے متعلق رہنمائی فراہم کرتے دکھائی دیتے ہیں۔
بڑی تعداد میں پاکستانی عازمین پہلی مرتبہ سعودی عرب آتے ہیں، ایسے میں اردو زبان میں فوری رہنمائی ان کے لیے اطمینان اور سہولت کا باعث بنتی ہے۔
مزید پڑھیں: ’حجاج اللہ کے مہمان ہیں‘، وزیراعظم کا سعودی عرب میں پاکستانی حج مشن کو خصوصی ہدایات
منیٰ میں پاکستانی معاون عملہ خیمہ بستیوں میں سرگرم رہتا ہے، جہاں رہائش، راستہ بھول جانے والے افراد اور گمشدہ سامان جیسے معاملات میں مدد فراہم کی جاتی ہے، شدید رش اور گرمی کے ماحول میں معاونین مسلسل مختلف کیمپوں کے درمیان متحرک رہتے ہیں۔ بعض مقامات پر ڈیجیٹل فہرستوں اور موبائل رابطہ نظام کے ذریعے عازمین کو ان کے گروپس تک پہنچانے میں مدد دی جاری ہے۔
عرفات میں طبی خدمات اور ہنگامی معاونت کے شعبے میں بھی پاکستانی عملہ موجود رہتا ہے۔ ہیٹ اسٹروک اور جسمانی تھکن کے خطرات کے دوران معاون ٹیمیں عازمین کی ابتدائی رہنمائی اور طبی مراکز تک رسائی میں مدد فراہم کرتی ہیں، بزرگ عازمین کے لیے وہیل چیئر معاونت اور نقل وحرکت میں سہولت بھی حج آپریشن کا اہم حصہ ہے۔

پاکستانی میڈیا میں ماضی کے بعض رضاکارانہ کرداروں کو بھی نمایاں کوریج ملی تھی، خاص طور پر 2024 کے حج میں پاکستانی رضاکار آصف بشیر کی خدمات کو بین الاقوامی سطح پر سراہا گیا تھا، جنہوں نے شدید گرمی کے دوران متعدد عازمین کی مدد کی تھی۔
رواں سال سعودی عرب نے حج انتظامات میں ڈیجیٹل نظام، مصنوعی ذہانت، اسمارٹ نگرانی اور صحت سے متعلق جدید سہولتوں کو مزید وسعت دی ہے، جس کے باعث پاکستانی معاون عملے کی ذمہ داریوں میں بھی تبدیلی آئی ہے، اب معاونین کو صرف رہنمائی نہیں بلکہ عازمین کو اسمارٹ ایپس، ڈیجیٹل شناخت اور حج ٹیکنالوجی کے استعمال میں بھی مدد فراہم کرنا پڑے گی۔













