بے گھر بچوں کی عید

بدھ 27 مئی 2026
author image

شبیر سومرو

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

’ہم ابھی ادھر تھوڑا رہے گا پھر گھر جائے گا۔ ہماری امی اگر بولے گا کہ باسط اچھا بچہ بن گیا ہے تو اُدھر اپنے گھر میئی رہے گا اور عید بھی اُدھرئی منائے گا، نئے کپڑے پہنے گا، ابا سے عیدی بھی لے گا؛ اگر امی لوگ ہم کو گھر میں نئیں رکھے گا تو پھر واپس ادھر ’ولیچ‘ میں آجائے گا اور ایک بار پھر دوبارہ سے اچھا بچہ بننے کا ’کوشِت‘ کرے گا‘۔

 بھینس کالونی کے سابقہ رہائشی ننھے عبدالرحمان عید پر گھر جانے سے متعلق اپنی امیدیں نہایت شرمیلے انداز میں بتارہے تھے جو کسی طور پوری ہونا ممکن نہیں تھیں۔ اس کے باوجود ان کے معصوم چہرے پر اُمید کی چمک بھی تھی۔ عبدالرحمان کے والد محمد احمد خان مزدوری کرتے ہیں اور زیادہ تر آتے کی بوریاں ٹرکوں سے اتار کر دکانوں اور گوداموں میں پہنچانے کا کام کرتے ہیں۔ ان کے اس بے گھر بیٹے کے بقول، ان کے اپنے گھر میں اتنا وافر آٹا نہیں ہوتا کہ وہ اپنے اُس پیارے سے بچے کو ساتھ رکھ کر 2 روٹی کھلاسکیں، جسے محلے کے لوگوں کے کہنے پر ’اچھا بچہ‘ نہ ہونے کی سند دے کر، ایدھی ولیج میں ڈال گئے تھے۔

’عبدالرحمان! آپ کے ابو اور کیا کام کرتے ہیں؟‘

’وہ گدھا گاڑی چلاتا ہے۔ دکانوں پر آٹے کی بوریاں لے جاتا ہے۔ پھر ادھر سے دکان والا بولتا ہے کہ تم ابھی آٹے کی اتنی بوری اِدھر سے لوگ کے گھر لے جاؤ اور ان سے پیسہ لے آؤ تو  پھر وہ لے جاتا ہے‘۔

’اپنے گھر بھی آٹا لے آتا ہے؟‘

’نئیں۔ وہ بولتا ہے ہمارے گھر میں دوسرا آٹا آئے گا‘۔

’دوسرا کون سا آٹا؟‘

’وہ جو آدھا کلو یا ایک کلو آتا ہے‘۔

یہ بھی پڑھیں: قدم قدم سوئے حرم

باسط کا مطلب تھا کہ اس کے والد لوگوں کو توبوریوں کے حساب سے آٹا پہنچاتے ہیں لیکن اپنے گھر کے لیے وہ آدھا یا ایک کلو لے جاتے ہیں۔

’عید پر تو گھر میں کھانے کی بہت ساری چیزیں بنتی ہیں نا؟‘

’ہم کو نئیں معلوم۔ ہم تو عید پر بھی اِدھر ہوتا ہے نا‘۔

’تو یہاں عید کیسے گزارتے ہیں؟‘

’”اِدھر بس ایک جیسا رنگ کے کپڑے ملتے ہیں سب کو۔ بولتے ہیں کہ وہ جو اچھے لوگ ہوتے ہیں، ان لوگ نے ہمارے لیے بھیجا ہے یہ کپڑا مَپڑا۔ نئی چپل یا کبھی بوٹ بھی دیتے ہیں۔ صبح کو عید کا نماز سے پہلے ہم لوگ تیار ہوکر کپڑا مَپڑا پہنتا ہے، پھر میدان میں مولوی صاحب نماز پڑھاتا ہے۔ ہم لوگ سب لڑکا لوگ ایک دوسرے کو گلے مل کر عید مبارک اور خیر مبارک بولتا ہے۔ پھر ہال میں لے آتے ہیں تو ادھر روٹی، سالن، بریانی کا کھانا ہوتا ہے اور میٹھا حلوہ بھی دیتے ہیں۔ یہ سب باہر کا لوگ دیگوں میں لے کے آتے ہیں‘۔

’عیدی بھی ملتی ہے؟‘

’ابھی عید آئے گا تو معلوم ہوئے گا۔ ابھی نہیں پتا‘

’پچھلی عید پر ملی تھی عیدی؟‘

اس سوال پر وہ نفی میں سر ہلا دیتا ہے۔ مطلب یہ پچھلی بار عیدی نہیں ملی تھی۔

’عید پر گھر سے کون کون ملنے آتا ہے؟‘

’ابھی 2 مہینہ پہلے امی آئی تھی تو بولتی تھی کہ عید پر آؤں گی اور تمھارے لیے چیزیں بھی لے کے آؤں گی۔ ابھی پتا نئیں آئے گی یا نئیں!‘

’اچھا۔ ابو کب ملنے آتے ہیں؟‘

اس پر بھی اس نے سر کو دائیں بائیں ہلایا اور نیچے دیکھنے لگا۔

’عبدالرحمان! آپ ولیج میں کیسے داخل ہوئے؟‘

’ولیچ میں؟ وہ ہم اسکول سے چھپ جاتا تھا بہت۔ اسکول والا ماسٹر بہت مار لگاتا ہے نا۔۔۔ تو ہم روز صبح کو اسکول جانے کے ٹَیم چھپ جاتا تھا۔ پھر ہمارا ابو ہم کو بہت مارا۔ ہمارا ابو کا رشتے دار والا بندہ بولا کہ اس کو پکڑو، ایدھی ولیچ میں ڈال دو۔ اُدھر میرا بچہ بھی اچھا اچھا پڑھتا ہے اور اچھا بچہ بن گیا ہے۔ تو پھر ہمارا ایک چاچا ہم کو پکڑا اور ادھر ولیچ میں لے آیا تو ہم اب ادھر اچھا بچہ بن رہا ہے‘۔

’آپ کے اور بھائی بہن کدھر ہیں؟‘

’میرا 2 بہن ہے، وہ گھر کے ساتھ ہوتا ہے۔ ایک بہن سلمیٰ میرے سے چھوٹا ہے، دوسرا بہن سعدیہ تو اُس سے بھی چھوٹا ہے‘۔

’دوسرے بچوں سے ان کے امی ابو ملنے آتے ہیں تو کیا آپ سے ملنے بھی کوئی آیا تھا؟‘

’امی آیا تھا 2 مہینے پہلے‘۔

’اور کون آیا تھا؟‘

’اس کا ساتھ ایک رشتہ دار آیا۔ اس رشتہ دار کا ایک بچہ آیا۔ وہ اپنا بچہ کو بولتا تھا کہ تم بھی سیدھا ہو جاؤ، نئیں تو اس عبدالرحمان کی طرح تم کو بھی ولیچ میں ڈال دے گا۔ بچہ بولا: ہم سیدھا ہے، ولیچ میں نئیں ڈالو‘۔

’امی نے آپ کو پیار کیا؟‘

’ایک بار کیا‘ وہ شرما کے گردن نیچی کر لیتا ہے۔

مجھے محسوس ہوا کہ وہ روہانسا ہورہا ہے تو میں نے پوچھا:

’کیا امی کی یاد آرہی ہے؟‘

’نئیں، امی پہلے بوہت پیار کرتا تھا، ابھی بوہت دن بعد ملا تھا تو ایک بار پیار کیا۔ ہم ناراض ہو گیا تھا‘۔

’کیوں ناراض ہوگئے تھے؟‘

’امی بولا تم اچھا بچہ بن جاؤ تو تم کو اتوار کو گھر لے جائے گا۔ پر نئیں لے گیا نا‘۔

’مگر آج تو اتوار نہیں ہے۔ امی نے تو آپ کو اتوار پر گھر لے جانے کو کہا تھا نا‘۔

’وہ اتوار بوہت پہلے والا تھا، چلا گیا۔ ابھی بوہت سارا اتوار چلا گیا ہے۔ ہم ابھی تک اچھا بچہ ہے مگر وہ نئیں لے گیا‘۔

یہ بول کر وہ اپنے غصے کا اظہار کرنے کے لیے بند مٹھی سیمنٹ کے بنچ نما چبوترے پر مارتا ہے اور ’سی ای ای…‘ کر کے رہ جاتا ہے۔

’آپ اسکول سے کیوں چھپ رہے تھے؟‘

میں نے اس کی چھوٹی سی مٹھی کھول کر ہاتھ کی پشت سہلائی۔

’ادھر ہمارا استاذ لمبا لمبا مارتا تھا۔ پھر ہم کو پنکھے کے ساتھ باندھا اور مارتا تھا اور مارتا تھا…‘۔

’وہ اسکول کا ماسٹر تھا؟‘

’نئیں۔ اسکول کا ماسٹر بھی مارتا تھا۔ یہ والا مدرسے کا استاذ صاحب تھا۔ فقیر آباد مدرسہ والا‘۔

’اس لیے آپ چھپ جاتے تھے؟‘

اس نے گردن کو ایک بار نیچے اوپر گردش دی اور خاموش رہا۔

’آپ بڑے ہوکر کیا بنیں گے؟‘

’ہم عالم صاحب بنے گا‘۔

’’پھر کیا کریں گے؟‘

’ادھر مدرسہ بنائے گا، بچوں کو پڑھائے گا، جو نئیں پڑھے گا، اس کو نئیں مارے گا۔ سمجھائے گا، ٹوفی دے گا اور بولے گا بھائی! اچھا بچہ بنو، پڑھائی کرو۔ پڑھائی اچھا ہوتا ہے‘۔

عبدالرحمان کے مستقبل کے عزائم اور امیدیں مجھے بہت اچھی لگیں اور اس پر بہت پیار آیا کہ حالانکہ وہ خود مدرسے اور اسکول میں معلم کے تشدد کے باعث باغی ہوکر بھاگ نکلا ہے مگر اس کا کوئی منفی اثر لینے کے بجائے اس نے تعمیری سوچ رکھی ہے کہ وہ بڑا ہو کر معلم (عالم!) بنے گا اور بچوں کو پیار سے پڑھائے گا، تشدد نہیں کرے گا۔

ایدھی ولیج میں اس بچے کے ساتھ بات چیت کے دوران ایک نسبتاً بڑا لڑکا اپنے سانولے چہرے پر سنجیدہ تاثرات لیے غور سے ہمیں سن رہا تھا، اس کے غور و فکر کا یہ عالم تھا کہ اس کا منہ پورا کھلا ہوا تھا مگر اسے احساس نہ تھا۔ عبدالرحمان سامنے سے ہٹا تو میں نے اسے بلا لیا۔ نام پوچھا تو بتایا:

’محمد منیر‘۔

’ابو کا نام کیا ہے بیٹے؟‘

 ’محمد خان‘۔

’وہ کیا کام کرتے ہیں؟‘

’ان کا 2 سال پہلے انتقال ہوگیا‘۔

’اچھا۔ بیٹا! گھر میں اور کون کون ہے؟‘

’امی ہیں، بھائی ہیں، بہنیں ہیں‘۔

’بھائی کیا کرتے ہیں؟‘

’ابھی چھوٹے چھوٹے ہیں، بس پڑھتے ہیں ادھر‘۔

’آپ بھی وہاں پڑھتے تھے؟‘

’جی‘۔

’کس کلاس میں؟‘

’پانچویں میں تھے ہم‘۔

’اسکول کون سا تھا اور کس علاقے میں تھا؟‘

’اسلامیہ اسکول نام تھا، ادھر ملیر کالونی والا‘۔

’وہاں سے یہاں کیسے آگئے؟‘

’ہم پڑھتے نہیں تھے، دل نہیں لگتا تھا اور بھاگ جاتے تھے؟‘

’یہ مدرسہ تھا یا اسکول تھا؟‘

’مدرسہ بھی تھا، اسکول بھی اُدھرئی تھا‘

’پھر آپ کیوں بھاگ جاتے تھے؟‘۔

’مارتے اور سزا بہت دیتے تھے نا وہ لوگ تو ہم چپکے سے چلے جاتے تھے‘۔

’کیسے مارتے تھے؟‘

مزید پڑھیے: امیر ملکوں میں رودالی کلچرکا احیا

’2 بندے ہم کو پکڑ لیتے تھے اور پھر قاری صاحب لوگ جو ہیں وہ پائیپ سے مارتے تھے‘۔

’2 بندے پکڑتے تھے اور استاد پائیپ سے مارتے تھے؟ کس بات پر مارتے تھے؟‘

’ہم چھٹی کر لیتے تھے، پڑھنے میں کمزور تھے، سبق سمجھاتے نہیں تھے، ہم پوچھتے تھے تو بہت مارتے تھے‘۔

’یہاں کیسے آگئے؟‘

’یہاں پر امی لے کے آئی ہیں‘۔

’نام کیا ہے؟‘

’محمد سکینہ۔ او… نئیں، خالی سکینہ‘۔

’امی گھر کیسے چلاتی ہیں، کہیں کام کرنے جاتی ہیں؟‘

اس کے جواب میں انہوں نے ’ہاں‘ میں سر ہلادیا۔

’کیا کام کرنے جاتی ہیں؟‘

’لوگوں کے گھروں میں جھاڑو پوچا کرنے جاتی ہیں‘۔

’کتنے گھروں میں؟‘

’یہ ہم کو نہیں پتا‘۔

’وہاں اسکول میں پڑھتے تھے آپ تو فیس تو امی دیتی ہوںگی نا؟ کچھ بولتی بھی تھیں وہ آپ کو؟‘

’اسکول میں، میں صحیح جاتا اور پڑھتا تھا، بس مدرسے میں… امی بولتی تھی صحیح سے پڑھو، پھر بڑے ہوکر بڑی نوکری کرو تو مل کر رہیں گے‘۔

’ادھر کیسے آئے؟‘

’امی نے بولا تم ادھر داخل ہوجاؤ، ادھر بس بچوں کو صحیح پڑھاتے ہیں‘۔

’امی عید پر ملنے آئیں گی؟‘

’نہیں، کل ہمارے پھوپھا آئے تھے۔ بول رہے تھے عید پر امی کو سیٹھ لوگ چھٹی نہیں دیں گے۔ نہیں آئیں گی‘۔

’پھوپھا سے کیا بات تھی؟‘

’گھر کے جانے کا بولا تھا‘۔

’پھر؟‘

’انھوں نے بولا ٹھیک ہے۔ ہم بولے ہم کو لے چلو، ہم کو گھر کی یاد بہت ’زور‘ سے آرہی ہے‘۔

’انھوں نے کیا کہا؟‘

’انھوں نے کہا کہ امتحان میں پاس ہوجاؤ تم، پھر گھر لے جائیں گے۔۔۔ نہیں تو نہیں‘۔

’اس عید پر بھی نہیں لے جائیں گے؟‘

میں نے وہاں کھڑی ایک ٹیچر سے پوچھا کہ حکومت کے نوٹیفکیشن کے مطابق تیسری کلاس تک تو بچوں کے امتحانات نہیں ہوتے اور محمد منیر تیسری کلاس ہی میں ہیں تو ان کے امتحانات کیسے ہوںگے؟

 مگر وہ اس سلسلے میں کوئی جواب نہ دے سکیں۔

’اچھا، محمدمنیر! پھوپھا جب آئے تھے تو عید کے لیے کچھ لائے تھے؟

مزید پڑھیں: آبنائے ہرمز کھل گئی، جنگ کے بادل چھٹ رہے ہیں

’نہیں۔ میں نے پوچھا کہ امی کیوں مجھ کو ملنے نہیں آئیں تو پھوپھا نے بولا کہ وہ تو اس وقت گھروں پہ کام کرنے جاتی ہے تو ادھر کیسے آئے گی؟۔ پھر میں پوچھا کہ پھر وہ عید پر آئیں گی اِدھر؟ تو وہ بولے کہ اگر اس کو کام سے چھٹی مل گئی تو آئے گی‘۔

’امی جب آتی ہیں تو کیا لے کر آتی ہیں؟‘

’امی کھانا لاتی ہیں، مرغی اور گوشت، روٹی اور بھی چیزیں لاتی ہیں‘۔

’واہ بھائی۔ آپ تو سارے مرغی خور لگتے ہیں۔ سب کے لیے مرغی آتی ہے۔ بڑے مزے ہیں آپ کے‘۔

میں نے بچوں کی سنجیدگی کو ذرا ہلکا کرنے کے خیال سے کہا اور میں اس میں کافی حد تک کامیاب رہا۔ اگلے ہفتے آنے والی عید اور اس کے ساتھ مرغی اور دوسری مرغوب چیزوں کی آمد کے ساتھ نئے کپڑے ملنے کے خیال سے ان کے محروم چہرے جگمگانے لگے۔ یہ بہت اچھی بات ہے کہ ایدھی ولیج میں دونوں وقت گوشت اور دوسری اچھی غذائیں ان کو برابر مل رہی تھیں۔ مگر ان معصوموں کے لیے تو اپنے گھر کی دال بھی مرغی  کے برابر تھی، جو گھر اُن سے چھڑا لی گئی تھی۔

اور عید جیسے تہوار پر جب دیسی پردیسی بھی لوٹ کر اپنے گھر آتے ہیں، اس موقع پر بھی یہ کیسی بدقسمتی ہے کہ والدین زندہ ہونے کے باوجود یہ بچے یتیمی کی زندگی گزار رہے ہیں اور عید پر بھی ان کو گھر کی عافیت اور ماں باپ اور بہن بھائیوں کا ساتھ میسر نہیں ہے۔

ادارے کا کالم نگار کی رائے کے ساتھ متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

بھارت میں عیدالاضحیٰ پر مسلمانوں کو ہراساں کرنے کا سلسہ جاری، ہندوتوا کارکن سور لے آئے

کراچی میں بڑی آفر: گوشت آپ کا ذائقہ ہمارا

ملک بھر میں عیدالاضحیٰ مذہبی عقیدت و احترام کے ساتھ منائی جا رہی ہے، صدر، وزیراعظم اور مسلح افواج کی مبارکباد؛ اتحاد، قربانی اور قومی یکجہتی پر زور

موسمی اتار چڑھاؤ کے پیش نظر حکومت بلوچستان کا ہنگامی لائحہ عمل تیار، پلان میں کیا خاص ہے؟

سعودی عرب سے پاکستانیوں کے لیے اس سال قربانی کے کتنے جانوروں کا گوشت آئے گا؟

ویڈیو

کراچی میں بڑی آفر: گوشت آپ کا ذائقہ ہمارا

ملک بھر میں عیدالاضحیٰ مذہبی عقیدت و احترام کے ساتھ منائی جا رہی ہے، صدر، وزیراعظم اور مسلح افواج کی مبارکباد؛ اتحاد، قربانی اور قومی یکجہتی پر زور

یہ غلط فہمی ہے کہ یورپ میں مقیم پاکستانیوں کی اکثریت عمران خان کی حامی ہے، حافظ عبدالرحمان

کالم / تجزیہ

عید الاضحیٰ کے دن ایک خوش کن بات

ہر راستہ بیجنگ کی جانب

کراچی میں ہونے والا فضائی حادثہ جس نے پاکستان کے ایوی ایشن نظام کو ہلا کر رکھ دیا