امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو کے بھارت کے دورے اور روانگی کے موقع پر پروٹوکول کے انتظامات سے متعلق مختلف الزامات اور تنقید سامنے آ رہی ہے۔ بعض حلقوں کے مطابق اس واقعے نے بھارت کی سفارتی تیاری اور مہمان نوازی کے معیار پر بحث چھیڑ دی ہے، تاہم اس حوالے سے سرکاری سطح پر تفصیلات محدود ہیں۔
یہ بھی پڑھیں:پاکستان ثالثی میں سرگرم، امید ہےایران سےمعاہدہ ہوجائیگا، امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو
امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو بھارت میں اعلیٰ سطحی مذاکرات کے لیے موجود رہے، جہاں علاقائی سلامتی، اسٹریٹجک تعاون اور انڈو پیسفک امور پر بات چیت کی گئی۔
روانگی کے وقت سفارتی پروٹوکول سے متعلق مختلف دعوے کیے جا رہے ہیں کہ کسی اعلیٰ مرکزی وزیر یا سینیئر بیوروکریٹ کی موجودگی میں ان کو رسمی طور پر رخصت نہیں کیا گیا، جس پر بعض حلقوں نے اسے سفارتی روایات کے برعکس قرار دیا ہے۔

مزید یہ بھی دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ ہوائی اڈے پر محدود سطح کے عملے کی موجودگی رہی، تاہم اس کی آزاد ذرائع سے تصدیق نہیں ہو سکی۔ اس معاملے پر بھارتی اور امریکی حکام کی جانب سے تفصیلی باضابطہ وضاحت بھی سامنے نہیں آئی۔
بھارتی میڈیا میں اس حوالے سے مختلف سوالات اور بحث جاری ہے، جبکہ کچھ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ایسے واقعات سفارتی پروٹوکول اور ریاستی تاثر پر اثر ڈال سکتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں:ایران جنگ کا خاتمہ قریب، معاہدہ آج ہی قبول کیے جانے کی توقع ہے، امریکی وزیرِ خارجہ مارکو روبیو
دوسری جانب یہ بھی حقیقت ہے کہ اعلیٰ سطحی بین الاقوامی دوروں میں پروٹوکول کی نوعیت اکثر شیڈول، سیکیورٹی اور باہمی انتظامی فیصلوں کے مطابق طے کی جاتی ہے۔
مجموعی طور پر اس واقعے نے سفارتی حلقوں میں بحث کو جنم دیا ہے، اور مزید تفصیلات کا انتظار کیا جا رہا ہے۔













