امریکی فیڈرل ایوی ایشن ایڈمنسٹریشن یعنی ایف اے اے نے اعلان کیا ہے کہ فیفا ورلڈ کپ 2026 کے میچز اور متعلقہ فین ایونٹس کے دوران امریکا بھر میں ڈرونز اڑانے پر پابندی ہوگی تاکہ سیکیورٹی
کو مزید مؤثر بنایا جا سکے۔
ایف اے اے کے مطابق میچ کے دنوں میں اسٹیڈیمز کے گرد 3 ناٹیکل میل کے دائرے اور زمین سے 3 ہزار فٹ کی بلندی تک ہر قسم کی فضائی سرگرمی، بشمول ڈرونز، ممنوع ہوگی، الا یہ کہ ایئر
ٹریفک کنٹرولرز کی جانب سے خصوصی اجازت دی گئی ہو۔
یہ بھی پڑھیں: فیفا ورلڈ کپ: امریکا نے ایرانی فٹبال ٹیم کو قیام کی اجازت نہیں دی، ٹیم میکسیکو میں رہے گی
اسی طرح ملک بھر میں ہونے والے فین ایونٹس کے اطراف ایک ناٹیکل میل کے دائرے اور ایک ہزار فٹ کی بلندی تک ڈرونز کے استعمال پر پابندی عائد رہے گی۔
ایف اے اے نے خبردار کیا ہے کہ بغیر اجازت ممنوعہ فضائی حدود میں داخل ہونے والے ڈرون آپریٹرز کو ایک لاکھ ڈالر تک جرمانے، فوجداری مقدمات اور ڈرون ضبط کیے جانے کا سامنا کرنا پڑ
سکتا ہے۔
US Bans Use Of Drones At World Cup Matches, Eventshttps://t.co/dzvCFTWzyf pic.twitter.com/jJ6UTgKCMV
— Channels Television (@channelstv) May 28, 2026
ادھر ایف بی آئی نے بھی اعلان کیا ہے کہ ورلڈ کپ اسٹیڈیمز کے اطراف اضافی سکیورٹی کیلئے خصوصی ڈرون مانیٹرنگ ٹیمیں تعینات کی جائیں گی۔
نیویارک پولیس کمشنر جیسیکا ٹش نے گزشتہ ہفتے کہا تھا کہ محکمہ پولیس کو وفاقی اداروں کے ساتھ مل کر بڑے ایونٹس کے دوران ممکنہ ڈرون خطرات سے نمٹنے کے نئے اختیارات دیے گئے ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ گزشتہ چند ماہ کے دوران 6.5 ملین ڈالر مالیت کا ڈرون مخالف سازوسامان خریدا گیا ہے۔
مزید پڑھیں: فٹبال ورلڈ کپ 2026: سائنسدان 8 برسوں سے کونسی غیر معمولی چیز تیار کر رہے ہیں؟
انہوں نے کہا کہ ڈرونز کو آسانی سے ‘جنگی ہتھیار’ میں تبدیل کیا جا سکتا ہے، اسی لیے امریکا کی 250ویں سالگرہ سمیت مختلف بڑے ایونٹس کے دوران نیویارک ہائی الرٹ پر ہے۔
واضح رہے کہ ماضی میں ایئرپورٹس اور کھیلوں کے مقابلوں کے قریب ڈرونز کے واقعات پر قانون سازوں اور حکام کی جانب سے تشویش کا اظہار کیا جاتا رہا ہے۔
گزشتہ برس ایک شخص نے بالٹی مور میں جنوری 2025 کے این ایف ایل اے ایف سی چیمپئن شپ میچ کے دوران ممنوعہ فضائی حدود میں ڈرون اڑانے کا جرم قبول کیا تھا۔














