ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ روزانہ بہت کم یا بہت زیادہ نیند لینا جسم کے مختلف اعضا کی حیاتیاتی عمر بڑھانے کا سبب بن سکتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: صحت اور سکون کے لگژری پروگرامز کا نیا رجحان: بہتر نیند اور کم تناؤ کے دعوے
نئی تحقیق کے مطابق روزانہ 6.4 سے 7.8 گھنٹے کی نیند صحت مند بڑھاپے اور جسمانی افعال کو بہتر رکھنے کے لیے زیادہ موزوں ہو سکتی ہے۔
سائنسی جریدے نیچر میں شائع ہونے والی ایک تحقیق میں بتایا گیا کہ نیند کا دورانیہ صرف دماغ ہی نہیں بلکہ جسم کے تقریباً تمام اہم اعضا کی عمر بڑھنے کی رفتار سے جڑا ہوا ہے۔ تحقیق کے لیے برطانیہ کے 5 لاکھ سے زائد افراد کے ڈیٹا کا جائزہ لیا گیا۔
محققین نے مصنوعی ذہانت اور جدید حیاتیاتی پیمانوں کی مدد سے جسم کے 17 مختلف اعضا کے عمر بڑھنے کے عمل کا تجزیہ کیا۔ نتائج سے معلوم ہوا کہ جو افراد روزانہ 6 گھنٹے سے کم یا 8 گھنٹے سے زیادہ سوتے ہیں ان میں حیاتیاتی عمر تیزی سے بڑھنے کے آثار زیادہ پائے گئے۔
مزید پڑھیے: والدین آج کل پہلے سے زیادہ تھکن اور نیند کی کمی کیوں محسوس کرتے ہیں؟
ماہرین کے مطابق حیاتیاتی عمر سے مراد جسم کے خلیات اور بافتوں کی اصل حالت ہے جو ضروری نہیں کہ انسان کی اصل عمر کے برابر ہو۔ بعض افراد کی عمر کم ہونے کے باوجود ان کے اعضا زیادہ تیزی سے بوڑھے ہو سکتے ہیں۔
تحقیق میں یہ بھی سامنے آیا کہ کم نیند لینے والوں میں ڈپریشن، بے چینی، موٹاپا، ٹائپ ٹو ذیابیطس، بلند فشار خون اور دل کے امراض کا خطرہ زیادہ پایا گیا۔ دوسری جانب بہت زیادہ نیند لینے کا تعلق بھی دمہ، پھیپھڑوں کے امراض اور معدے کی بعض بیماریوں سے دیکھا گیا۔
مزید پڑھیں: کیا اسمارٹ فون کی نیلی روشنی واقعی آپ کی نیند خراب کرتی ہے؟
ماہرین کا کہنا ہے کہ کم نیند جسم میں سوزش بڑھا سکتی ہے، مدافعتی نظام کو متاثر کر سکتی ہے اور خلیاتی مرمت کے عمل میں رکاوٹ ڈال سکتی ہے۔ اسی طرح غیر معمولی طور پر زیادہ نیند بعض اوقات کسی پوشیدہ طبی مسئلے کی علامت بھی ہو سکتی ہے۔
امریکی ادارہ سی ڈی سی کے مطابق 18 سے 60 سال کے بالغ افراد کے لیے کم از کم 7 گھنٹے نیند ضروری ہے۔
یہ بھی پڑھیے: کیمپنگ بہتر نیند اور دیرپا مثبت اثرات کے لیے سودمند، چلیں آزماتے ہیں
ماہرین مشورہ دیتے ہیں کہ بہتر نیند کے لیے روزانہ سونے اور جاگنے کا وقت مقرر رکھا جائے، سونے سے پہلے اسکرین کا استعمال کم کیا جائے اور شام کے وقت کیفین یا بھاری غذا سے پرہیز کیا جائے۔













