ایک دہائی قبل بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی نے پاکستان کو عالمی سطح پر تنہا کرنے کا عزم ظاہر کیا تھا، تاہم بین الاقوامی مبصرین اور تجزیہ کار اب یہ سوال اٹھا رہے ہیں کہ آیا یہ حکمت عملی اپنے مقاصد حاصل کر سکی یا نہیں۔ متعدد عالمی تجزیوں کے مطابق آج پاکستان نہ صرف واشنگٹن، بیجنگ، تہران اور ریاض کے ساتھ بیک وقت سفارتی روابط استوار کیے ہوئے ہے بلکہ علاقائی اور بین الاقوامی معاملات میں ایک مؤثر کردار کے طور پر بھی ابھر رہا ہے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق 2016 میں نریندر مودی نے پاکستان کو سفارتی طور پر الگ تھلگ کرنے کی پالیسی اختیار کی تھی، جس کا مقصد صرف سیکیورٹی خدشات کا مقابلہ کرنا نہیں بلکہ پاکستان کو سیاسی اور سفارتی سطح پر حاشیے پر دھکیلنا بھی تھا۔ تاہم 10 سال بعد متعدد بین الاقوامی مبصرین کا خیال ہے کہ یہ حکمت عملی اپنے بنیادی اہداف حاصل کرنے میں ناکام رہی ہے۔

رپورٹس میں کہا گیا ہے کہ پاکستان آج بیک وقت امریکا، چین، ایران، سعودی عرب اور خلیجی ممالک کے ساتھ فعال تعلقات رکھتا ہے، جس کی وجہ سے اسے عالمی منظرنامے میں تنہا یا غیر متعلقہ ریاست کے طور پر پیش کرنا مشکل ہو گیا ہے۔ بعض تجزیہ کاروں کے مطابق جنوبی ایشیا میں اب صورتحال اس کے برعکس دکھائی دیتی ہے، جہاں کئی اہم معاملات پر بھارت کو اپنی سفارتی بیانیہ سازی کے لیے زیادہ مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔
پاکستان کی سفارتی سرگرمیوں میں حالیہ برسوں کے دوران نمایاں اضافہ دیکھا گیا ہے۔ بین الاقوامی مبصرین کے مطابق اسلام آباد اب صرف بحرانوں پر ردعمل دینے والا ملک نہیں رہا بلکہ بعض علاقائی معاملات میں نتائج مرتب کرنے اور سفارتی پیشرفت میں کردار ادا کرنے کی صلاحیت بھی رکھتا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ پاکستان نے ایک جانب چین کے ساتھ اپنے تزویراتی تعلقات برقرار رکھے ہیں تو دوسری جانب امریکا، خلیجی ممالک اور ایران کے ساتھ بھی روابط کو متوازن انداز میں آگے بڑھایا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:پاکستان مذاکراتی عمل میں شاندار رہا، وزیراعظم اور فیلڈ مارشل بہترین شخصیات ہیں، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ
رپورٹس میں 2025 کے پاک بھارت بحران کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ عالمی سطح پر بیانیے کی جنگ میں پاکستان کو سفارتی برتری حاصل ہوئی۔ بعض بین الاقوامی تجزیہ کاروں کے مطابق بھارت پہلگام واقعے کے حوالے سے عالمی برادری کے سامنے ایسے شواہد پیش نہیں کر سکا جن کی بنیاد پر پاکستان کے خلاف فوجی کارروائی کو وسیع عالمی حمایت حاصل ہو سکتی۔ اسی وجہ سے متعدد عالمی دارالحکومتوں نے بھارتی مؤقف کی مکمل توثیق سے گریز کیا۔
تجزیوں میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ پاکستان کی عسکری اور سفارتی سطح پر مؤثر جواب دینے کی صلاحیت نے عالمی توجہ حاصل کی۔ اس بحران کے دوران پاکستان نہ صرف دفاعی محاذ پر متحرک نظر آیا بلکہ سفارتی سطح پر بھی اپنی پوزیشن اجاگر کرنے میں کامیاب رہا۔
رپورٹس کے مطابق سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے بیانات نے بھی نئی سفارتی بحث کو جنم دیا۔ ٹرمپ نے متعدد مواقع پر پاک بھارت جنگ بندی میں اپنے کردار کا ذکر کیا اور اس کا کریڈٹ لیا، جبکہ بھارت مسلسل کسی بھی تیسرے فریق کی ثالثی کے تصور کو مسترد کرتا رہا۔ مبصرین کے مطابق اس اختلاف نے واشنگٹن اور نئی دہلی کے درمیان ایک نمایاں سفارتی خلیج پیدا کی۔

بین الاقوامی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ 2025 کے تنازعے کے بعد پاکستان کی عسکری صلاحیتوں پر عالمی توجہ میں اضافہ ہوا۔ خاص طور پر چین کے ساتھ دفاعی تعاون اور پاکستانی دفاعی سازوسامان کے حوالے سے مختلف ممالک کی دلچسپی بڑھتی ہوئی دکھائی دی۔ بعض ماہرین کے مطابق پاکستان کو اب صرف سکیورٹی صارف نہیں بلکہ ممکنہ سکیورٹی شراکت دار کے طور پر بھی دیکھا جا رہا ہے۔
رپورٹ میں جنوبی ایشیا کی علاقائی تنظیم ’سارک‘ کو بھارت کی پاکستان مخالف حکمت عملی کا سب سے بڑا متاثرہ فریق قرار دیا گیا ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق 2016 میں سارک سربراہی اجلاس کی منسوخی کے بعد خطے کا اہم ترین علاقائی پلیٹ فارم تقریباً غیر فعال ہو گیا، جبکہ بھارت کی جانب سے متبادل علاقائی انتظامات بھی سارک جیسی اہمیت حاصل نہ کر سکے۔
یہ بھی پڑھیں:مشترکہ اعلامیہ: پاک چین تعلقات نئی اسٹریٹجک بلندی پر، مستقبل کی نئی برادری کے قیام پر اتفاق
دوسری جانب پاکستان کے بنگلہ دیش اور خلیجی ممالک کے ساتھ تعلقات میں بھی بہتری کی نشاندہی کی گئی ہے۔ رپورٹ کے مطابق خلیجی ممالک کے ساتھ پاکستان کا دفاعی اور سیکیورٹی تعاون بڑھ رہا ہے، جبکہ بنگلہ دیش کے ساتھ تعلقات میں بھی مثبت پیشرفت دیکھنے میں آئی ہے۔ ماہرین کے مطابق یہ پیشرفت اس تاثر کی نفی کرتی ہے کہ پاکستان خطے میں تنہا یا غیر مؤثر ہو چکا ہے۔
بین الاقوامی مبصرین نے بھارت کی مسلم دنیا میں شبیہ کے حوالے سے بھی سوالات اٹھائے ہیں۔ رپورٹ میں بھارت میں مسلمانوں کے خلاف نفرت انگیز بیانات، مساجد سے متعلق تنازعات اور اقلیتوں کے حقوق کے بارے میں عالمی تنقید کا ذکر کیا گیا ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق ایسے معاملات بعض اوقات خلیجی ممالک میں بھی منفی ردعمل کا باعث بنے، جبکہ پاکستان نے اقوام متحدہ اور اسلامی تعاون تنظیم سمیت مختلف عالمی فورمز پر اسلاموفوبیا کے مسئلے کو مؤثر انداز میں اجاگر کیا۔
رپورٹ کے مطابق امریکی خارجہ پالیسی میں آنے والی تبدیلیوں نے بھی جنوبی ایشیا کی سفارتی حرکیات پر اثر ڈالا ہے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ کا نقطۂ نظر سابق امریکی انتظامیہ سے مختلف رہا، جو بھارت کو چین کے مقابلے میں ایک اہم تزویراتی شراکت دار کے طور پر دیکھتی تھیں۔ اس کے برعکس نئی امریکی ترجیحات میں معدنی وسائل، علاقائی سلامتی اور عملی مفادات کو زیادہ اہمیت دی جا رہی ہے، جس سے پاکستان کو سفارتی مواقع میسر آئے۔

ماہرین کے مطابق ان تبدیلیوں کے نتیجے میں امریکا کی جانب سے پاکستان اور بھارت دونوں کے ساتھ نسبتاً متوازن انداز میں روابط برقرار رکھنے کی کوشش دیکھی جا رہی ہے، جو نئی دہلی کی بعض توقعات کے برعکس ہے۔
رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ بھارت کے اندر سابق سفارت کاروں، ریٹائرڈ فوجی افسران اور تزویراتی ماہرین کی ایک تعداد اب پاکستان کے ساتھ دوبارہ بامعنی مذاکرات کی ضرورت پر زور دے رہی ہے۔ ان حلقوں کا مؤقف ہے کہ مسلسل کشیدگی اور عسکری دباؤ بنیادی تنازعات کے حل میں کامیاب نہیں ہو سکے، اس لیے پائیدار امن کے لیے مذاکرات ناگزیر ہیں۔
یہ بھی پڑھیں:امریکا میں بدعنوانی کا مقدمہ: مودی کے ساتھی گوتم اڈانی کروڑوں ڈالر جرمانہ ادا کرکے جان چھڑانے پر مجبور
تجزیہ کاروں کے مطابق گزشتہ ایک دہائی کا سب سے اہم سبق یہی ہے کہ جنوبی ایشیا میں استحکام کسی ملک کو تنہا کرنے سے حاصل نہیں کیا جا سکتا۔ علاقائی امن، معاشی ترقی اور سیاسی استحکام کے لیے مکالمہ، سفارتی روابط اور زمینی حقائق کو تسلیم کرنا ہی واحد قابلِ عمل راستہ ہے۔
رپورٹ کے اختتام پر کہا گیا ہے کہ ایک دہائی قبل پاکستان کو عالمی سطح پر الگ تھلگ کرنے کا تصور پیش کیا گیا تھا، مگر آج پاکستان واشنگٹن، بیجنگ، تہران اور ریاض کے ساتھ بیک وقت روابط استوار کیے ہوئے ہے۔ بین الاقوامی مبصرین کے مطابق اصل سفارتی کہانی پاکستان کی تنہائی نہیں بلکہ ایک اہم علاقائی کردار کے طور پر اس کی دوبارہ ابھرتی ہوئی حیثیت ہے، جبکہ خطے کی بدلتی ہوئی حقیقتیں بڑی طاقتوں کو اسلام آباد کے ساتھ مسلسل رابطے پر مجبور کر رہی ہیں۔













