وفاقی بورڈ آف ریونیو کو رواں مالی سال 2025-26 کے پہلے 11 مہینوں (جولائی تا مئی) کے دوران ٹیکس وصولیوں میں 868 ارب روپے کے بڑے شارٹ فال کا سامنا کرنا پڑا ہے۔
سرکاری اعداد و شمار کے مطابق ٹیکس ادارے نے اس عرصے کے دوران 12 ہزار 95 ارب روپے کے ترمیمی ہدف کے مقابلے میں 11 ہزار 227 ارب روپے کا ٹیکس جمع کیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: سپر ٹیکس: عدالتی فیصلے کے بعد ایف بی آر متحرک، خسارہ کم کرنے کا تیز رفتار منصوبہ تیار کرلیا
ادارے کے اعلیٰ ذرائع کا کہنا ہے کہ اس ریونیو شارٹ فال کی دو بڑی وجوہات ہیں، جن میں پہلی خلیجی جنگ کے باعث معاشی سرگرمیوں میں سست روی اور دوسری عید کی طویل تعطیلات شامل ہیں، جس کی وجہ سے اکیلے مئی 2026 کے مہینے میں خسارہ 184 ارب روپے تک جا پہنچا۔
مئی کے مہینے میں 1 ہزار 150 ارب روپے کے مقررہ ہدف کے مقابلے میں عبوری طور پر صرف 966 ارب روپے ٹیکس وصول کیا جا سکا ہے۔
اب ٹیکس مشینری کو 30 جون 2026 تک 13 ہزار 979 ارب روپے کا ترمیمی ہدف پورا کرنے کے لیے صرف جون کے مہینے میں 2 ہزار 752 ارب روپے کا خطیر ٹیکس جمع کرنا ہوگا، جو موجودہ کارکردگی کو دیکھتے ہوئے انتہائی مشکل نظر آتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ کم کرنے میں مدد ملی، اب لوگوں کو ٹیکس دینا پڑےگا، وزیر خزانہ
واضح رہے کہ پارلیمنٹ نے آغاز میں 14 ہزار 130 ارب روپے کا ہدف منظور کیا تھا جسے بعد میں عالمی مالیاتی فنڈ نے کم کر کے 13 ہزار 979 ارب روپے کر دیا تھا۔
اب خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ کل شارٹ فال 1000 ارب روپے تک پہنچ سکتا ہے اور اگر ادارہ 13 ہزار ارب کا ہدف بھی چھو لے تو یہ اس کی بڑی کامیابی ہوگی۔
خلیجی جنگ کے اثرات کے باعث آمدنی کے مرحلے پر سیلز ٹیکس کی وصولی شدید متاثر ہوئی ہے جس نے ملکی ٹیکس ادارے کی مشکلات میں مزید اضافہ کردیا ہے۔ تاہم حکام پرامید ہیں کہ عید کی چھٹیوں کی وجہ سے ہونے والا 60 ارب روپے کا نقصان جون میں پورا کر لیا جائے گا جس سے کل وصولی 13000 ارب کے قریب پہنچ سکتی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: بجٹ خسارہ: حکومت نے 600 ارب روپے کےاضافی ٹیکس لگانے کی تیاری کر لی
اب سب سے بڑا سوال یہ اٹھ رہا ہے کہ اس ناقص کارکردگی کے بعد وفاقی بورڈ آف ریونیو بین الاقوامی مالیاتی فنڈ کے مطالبات کے تحت اگلے بجٹ میں 15 ہزار 267 ارب روپے کا بھاری ہدف کیسے حاصل کرے گا، جس کے لیے بورڈ کو تقریباً 2200 ارب روپے کا اضافی ریونیو ہر صورت پیدا کرنا ہوگا۔














