سپریم جوڈیشل کونسل کا بڑا فیصلہ، چیف الیکشن کمشنر کے خلاف پی ٹی آئی کی شکایت خارج

پیر 1 جون 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

سپریم جوڈیشل کونسل نے چیف الیکشن کمشنر سکندر سلطان راجا کے خلاف پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی جانب سے دائر کردہ شکایت کو باقاعدہ طور پر خارج کر دیا ہے۔ کونسل نے اپنے اس فیصلے سے شکایت کنندہ اور پی ٹی آئی کے مرکزی رہنما عمر ایوب کو تحریری طور پر آگاہ کر دیا ہے۔

میڈیا رپورٹ کے مطابق سپریم جوڈیشل کونسل نے اپنے اہم اجلاس میں اس شکایت کا تفصیلی جائزہ لیا۔ یہ شکایت پاکستان تحریک انصاف کے مرکزی رہنما عمر ایوب نے بطور سیکریٹری جنرل پی ٹی آئی دائر کی تھی۔

یہ بھی پڑھیں:چیف الیکشن کمشنر کی تقرری میں مزید تاخیر نہیں ہونی چاہیے، اپوزیشن لیڈر کا وزیراعظم کو مشاورت کے لیے خط

درخواست میں عمر ایوب نے مؤقف اختیار کیا گیا تھا کہ عام انتخابات 2024 میں ’مبینہ منظم دھاندلی‘ کی گئی، لہٰذا اس بنیاد پر چیف الیکشن کمشنر سکندر سلطان راجا کے خلاف آئینی و قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے۔ تاہم کونسل نے تمام پہلوؤں کا جائزہ لینے کے بعد پی ٹی آئی کی اس درخواست کو ناقابلِ سماعت قرار دیتے ہوئے خارج کر دیا۔

پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) اور چیف الیکشن کمشنر سکندر سلطان راجا کے درمیان تناؤ کی تاریخ کافی پرانی ہے۔ فروری 2024 کے عام انتخابات سے قبل ہی، پی ٹی آئی نے الیکشن کمیشن پر جانبداری کے شدید الزامات عائد کیے تھے، جن میں پارٹی کا انتخابی نشان ’بلا‘ واپس لینا اور پارٹی رہنماؤں کے کاغذاتِ نامزدگی مسترد ہونا شامل تھے۔

چیف الیکشن کمشنر پر پی ٹی آئی کے الزامات

انتخابات کے بعد پی ٹی آئی نے نتائج میں مبینہ تبدیلی اور ’فارم 47‘ کے تنازع کو بنیاد بنا کر الیکشن کمیشن کی ساکھ پر سوالات اٹھائے۔ اسی دوران، عمر ایوب کی جانب سے سپریم جوڈیشل کونسل جو اعلیٰ عدلیہ اور بعض آئینی عہدیداروں کے خلاف شکایات کا جائزہ لینے والا واحد مجاز فورم ہے سے رجوع کیا گیا تاکہ چیف الیکشن کمشنر کو ان کے عہدے سے ہٹانے کی کارروائی شروع کی جا سکے۔

مزید پڑھیں؍:اسلام آباد بلدیاتی انتخابات میں تاخیر: الیکشن کمیشن نے سیکریٹری داخلہ کو نوٹس جبکہ وزیر داخلہ کو طلب کرلیا

سپریم جوڈیشل کونسل کا یہ فیصلہ موجودہ سیاسی منظر نامے میں انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔ کونسل کے اس اقدام سے یہ واضح ہوتا ہے کہ صرف سیاسی الزامات یا انتخابی تنازعات کی بنیاد پر کسی آئینی سربراہ کو عہدے سے ہٹانا ممکن نہیں جب تک ٹھوس قانونی شواہد موجود نہ ہوں۔

پی ٹی آئی کے لیے قانونی محاذ پر دھچکا

تحریک انصاف طویل عرصے سے سڑکوں اور عدالتوں میں ’انتخابی دھاندلی‘ کا بیانیہ لے کر چل رہی ہے۔ جوڈیشل کونسل کی جانب سے شکایت کا خارج ہونا پی ٹی آئی کے اس قانونی بیانیے کو کمزور کر سکتا ہے۔

الیکشن کمیشن کے مؤقف کو تقویت

اس فیصلے سے چیف الیکشن کمشنر سکندر سلطان راجا کی پوزیشن مزید مستحکم ہو گئی ہے اور الیکشن کمیشن پر قائم ’مبینہ دھاندلی‘ کے دباؤ میں قانونی حد تک کمی آئے گی۔ تاہم، سیاسی میدان میں پی ٹی آئی اور الیکشن کمیشن کے درمیان محاذ آرائی اب بھی برقرار رہنے کا امکان ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

فلسطینی تاریخ پر بچوں کی کتاب کی اشاعت پینگوئن رینڈم ہاؤس نے روک دی

ناروے کی ملکہ میٹے مارٹ پھیپھڑوں کی پیوندکاری کے بعد منظر عام پر آگئیں

’یہ بات ہے تو چلو بات کر کے دیکھتے ہیں‘: وطن عزیز کی پراسرار وادی اشکومن جہاں ’پریاں‘ رہنمائی کرتی ہیں

’وزیر دفاع ہوں تو کیا خواجہ آصف نہ رہوں؟ سوشل میڈیا اکاؤنٹ خود چلاتا ہوں‘

خیبرپختونخوا میں گورنر راج کے بعد انتظامی سیٹ اپ میں کردار نہ ملنے پر مولانا فضل الرحمان ناراض ہیں، خواجہ آصف

ویڈیو

دیر کالونی اسکول سانحہ: 7 روز میں انکوائری رپورٹ طلب، این او سی اور نقشے کی منظوری دینے والوں کا تعین ہوگا، عامر عبداللہ

ہمارے پھول جیسے بچے شہید ہوئے، مائیں ماننے کو بھی تیار نہیں ـ پشاور اسکول سانحے پر ہر آنکھ اشکبار

پھولوں کے شہر میں پھولوں کے جنازے، کے پی ایمرجنسی میں توسیع، بڑا فیصلہ

کالم / تجزیہ

پشاور میں چھت نہیں، حکومتی نظام گرا ہے

دو قومیں، دو نسلیں

ایمرجنسی کے بعد تحریک انصاف کیا کرے؟