ٹیکنالوجی کمپنی ایپل کے طویل عرصے سے متوقع اسمارٹ چشموں کی لانچنگ میں مزید تاخیر ہو گئی ہے اور اب ان کی رونمائی 2027 کے آخر تک متوقع ہے۔
بلوم برگ کے معروف ٹیکنالوجی تجزیہ کار مارک گورمن کے مطابق اس منصوبے کو ابتدا میں 2026 کے آخر میں متعارف کرانے اور 2027 کے اوائل میں صارفین تک پہنچانے کا ہدف مقرر کیا گیا تھا، تاہم ترقیاتی مراحل میں درپیش تکنیکی مشکلات کے باعث منصوبہ مؤخر کر دیا گیا ہے۔
مزید پڑھیں: آئی پی ایل میں ہائی ٹیک چشموں پر پابندی، بی سی سی آئی نے نئی پابندیاں عائد کردیں
رپورٹ کے مطابق اگرچہ منصوبے کی رفتار سست ہوئی ہے، تاہم ایپل کی قیادت اسے اپنی اہم ترین ترجیحات میں شامل سمجھتی ہے اور اس پر کام جاری ہے۔
ذرائع کے مطابق ایپل ان اسمارٹ چشموں کی قیمت قریباً 200 سے 500 امریکی ڈالر کے درمیان رکھنے پر غور کر رہا ہے۔ اس قیمت کا تعین مارکیٹ میں موجود حریف مصنوعات، خصوصاً میٹا اور رے بین کے اشتراک سے تیار کردہ اسمارٹ چشموں کو مدنظر رکھتے ہوئے کیا جا رہا ہے۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ایپل اس چشمے کو مہنگی لگژری شے کے برعکس روزمرہ استعمال کی جدید ٹیکنالوجی کے طور پر پیش کرنا چاہتا ہے۔
متوقع خصوصیات کے مطابق اسمارٹ چشموں میں تصاویر اور ویڈیو ریکارڈ کرنے کے لیے کیمرے نصب ہوں گے، جبکہ مائیکروفون اور اسپیکرز کے ذریعے صارفین فون کالز سن اور کر سکیں گے، آواز ریکارڈ کر سکیں گے اور سری سے مختلف احکامات بھی دے سکیں گے۔
چشموں میں جدید مصنوعی ذہانت کی سہولت بھی شامل ہوگی، جو صارف کی آواز اور بصری معلومات کو سمجھتے ہوئے مختلف کام انجام دے سکے گی۔ ڈیزائن کے حوالے سے بڑی مستطیل، بیضوی اور گول فریموں سمیت کئی انداز متعارف کرائے جانے کا امکان ہے، جبکہ ایپل منفرد رنگ بھی پیش کرے گا تاکہ یہ مصنوعات مارکیٹ میں نمایاں نظر آئیں۔
مزید پڑھیں:میٹا کے اے آئی چشموں پر خفیہ ریکارڈنگ کے الزامات، پرائیویسی کا بحران؟
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ مستقبل میں یہ اسمارٹ چشمے محض ایک ڈیجیٹل معاون کے بجائے آگمینٹڈ ریئلٹی ٹیکنالوجی سے لیس ہو سکتے ہیں، جو صارف کے بصری تجربے کو مزید بہتر بنانے اور حقیقی دنیا پر ڈیجیٹل معلومات کی تہہ چڑھانے کی صلاحیت رکھتے ہوں گے۔
صنعتی ماہرین کے مطابق ایپل کے اسمارٹ چشمے ٹیکنالوجی کی دنیا میں ایک اہم پیشرفت ثابت ہو سکتے ہیں اور انہیں کمپنی کے مستقبل کے بڑے منصوبوں میں شمار کیا جا رہا ہے۔














