پاکستان کا تنازعات کے حل کے لیے ثالثی کو اولین ترجیح بنانے کا مطالبہ

منگل 2 جون 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

پاکستان نے اقوام متحدہ پر زور دیا ہے کہ تنازعات کی روک تھام کے لیے ثالثی کو بنیادی اصول بنایا جائے، نہ کہ اسے صرف بحران پیدا ہونے کے بعد استعمال کیا جائے۔

اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب سفیر عاصم افتخار احمد نے پیر کے روز تنازعات کے پرامن حل، تنازعات کی روک تھام اور ان کے تصفیے میں ثالثی کے کردار کو مضبوط بنانے کے موضوع پر ہونے والے جنرل مباحثے سے خطاب کیا۔

عاصم افتخار احمد نے کہا کہ تنازعات کا پرامن حل پاکستان کی خارجہ پالیسی کا بنیادی ستون اور اقوام متحدہ کے منشور کے تحت ایک اہم ذمہ داری ہے۔

یہ بھی پڑھیں: پاکستان ثالثی میں سرگرم، امید ہےایران سےمعاہدہ ہوجائیگا، امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو

’امن سے وابستگی کا اصل امتحان یہ نہیں کہ ہم تنازعات کے بعد ان کی مذمت کیسے کرتے ہیں، بلکہ یہ ہے کہ ہم انہیں پیدا ہونے سے پہلے کس حد تک روکنے کے لیے فعال کردار ادا کرتے ہیں۔‘

سفیر عاصم افتخار کے مطابق ثالثی تصادم اور امن کے درمیان ایک پل کا کردار ادا کرتی ہے، جو طاقت کی جگہ دلیل، خاموشی کی جگہ مکالمے اور انسانی مصائب کی جگہ انصاف کو فروغ دیتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ تنازعات اس وقت جنم لیتے ہیں جب سفارت کاری میں تاخیر ہو، مذاکرات سے گریز کیا جائے اور اختلافات کو حل کیے بغیر چھوڑ دیا جائے۔

انہوں نے زور دیا کہ اقوام متحدہ کی پہلی ذمہ داری صرف تنازعات کے بعد ردعمل دینا نہیں بلکہ انہیں انسانی جانوں، خطوں اور نسلوں کو تباہ کرنے سے پہلے روکنا بھی ہے۔

انہوں نے جولائی 2025 میں پاکستان کی جانب سے پیش کی گئی اور متفقہ طور پر منظور ہونے والی سلامتی کونسل کی قرارداد 2788 کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اس قرارداد نے تنازعات کے پرامن حل میں اقوام متحدہ، علاقائی تنظیموں اور ثالثی کے مؤثر استعمال کی اہمیت کو اجاگر کیا تھا۔

پاکستانی مندوب نے کہا کہ ایران کے ایک دوست ہمسایہ، خلیجی ممالک کے برادر شراکت دار اور امریکا کے ساتھ دیرینہ تعلقات رکھنے والے ملک کی حیثیت سے پاکستان خطے اور دنیا میں پائیدار امن و استحکام کے لیے مخلصانہ سفارتی کوششیں جاری رکھے ہوئے ہے۔

مزید پڑھیں: مودی کا پاکستان کو تنہا کرنے کا منصوبہ ناکام، بدلتی علاقائی حقیقتیں اور اسلام آباد کی سفارتی واپسی

انہوں نے ثالثی کے نظام کو مؤثر بنانے کے لیے بروقت انتباہی نظام، احتیاطی سفارت کاری، سیکریٹری جنرل کے خصوصی دفاتر کے استعمال اور اقوام متحدہ کے منشور کے باب ششم کے فعال نفاذ کی تجویز بھی پیش کی۔

دریں اثنا، سفیر عاصم افتخار احمد نے لبنان کی صورتحال پر سلامتی کونسل کے ہنگامی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ لبنان کا تقریباً 20 فیصد علاقہ، جو 2 ہزار مربع کلومیٹر پر مشتمل ہے، اسرائیلی قبضے میں ہے۔

انہوں نے خبردار کیا کہ انخلا کے احکامات کے باعث شہریوں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔

مزید پڑھیں: امریکا اور ایران کے درمیان ثالثی پر پاکستان کی تعریف، امریکی کانگریس میں قرارداد پیش

انہوں نے کہا کہ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ وہی حکمت عملی دہرائی جا رہی ہے جو دیگر مقامات پر بھی دیکھی گئی، جس میں اندھا دھند قتل، جبری نقل مکانی اور قبضہ شامل ہیں۔

ان کے مطابق مارچ سے اب تک 3,400 سے زائد افراد، جن میں خواتین اور بچے بھی شامل ہیں، ہلاک جبکہ 10 ہزار سے زیادہ زخمی ہو چکے ہیں، اس کے علاوہ 10 لاکھ سے زائد افراد بے گھر ہوئے ہیں۔

پاکستانی مندوب نے اقوام متحدہ کے انسانی امدادی رابطہ کار کے بیان کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ لبنان بھر میں شہری تشدد، نقل مکانی اور جانی نقصانات میں خوفناک اضافے کا سامنا کر رہے ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp