وزیراعظم محمد شہباز شریف نے کہا ہے کہ ملکی معیشت کی پائیدار ترقی کے لیے صنعت و حرفت کا فروغ اور بیرونی سرمایہ کاری میں اضافہ ناگزیر ہے، جبکہ صنعتی پیداوار اور برآمدات بڑھانے کے لیے مؤثر پالیسی اقدامات حکومت کی ترجیحات میں شامل ہیں۔
یہ بات انہوں نے سرمایہ کاری میں اضافے اور معیشت کی مجموعی ترقی کے لیے شعبہ جاتی اصلاحات اور پالیسی اقدامات پر جائزہ اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کہی۔
وزیراعظم نے ہدایت کی کہ صنعت، تجارت اور معیشت کے مختلف شعبوں میں اصلاحات طویل المدتی معاشی فوائد اور عوامی فلاح پر مرکوز ہونی چاہئیں۔ انہوں نے کہا کہ حکومت ملک میں کاروباری سرگرمیوں کے فروغ اور سرمایہ کاروں کے اعتماد میں اضافے کے لیے عملی اقدامات کر رہی ہے۔
شہباز شریف نے کہا کہ مستقبل کی توانائی ضروریات کو متبادل ذرائع سے پورا کرنے کے لیے جامع حکمت عملی پر بھرپور انداز میں کام جاری ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ توانائی کے شعبے میں جدت اور پائیداری وقت کی اہم ضرورت ہے۔
وزیراعظم نے کہا کہ توانائی کی بچت اور کم لاگت ٹرانسپورٹ کی ضروریات پوری کرنے کے لیے ایک جامع اور مؤثر الیکٹرک وہیکلز پالیسی ناگزیر ہے، جو مستقبل کے تقاضوں سے ہم آہنگ ہو۔
انہوں نے تمام وزارتوں کو ہدایت کی کہ جدید ٹیکنالوجی کو مختلف شعبوں میں متعارف کرانے کے لیے ماہرین اور متعلقہ اداروں کے ساتھ بامعنی مشاورت کو یقینی بنایا جائے۔
وزیراعظم کا کہنا تھا کہ مؤثر ترقیاتی پالیسیوں کی تشکیل اور نفاذ کے لیے تمام وزارتوں کو باہمی تعاون اور مکمل ہم آہنگی کے ساتھ کام کرنا ہوگا۔ انہوں نے اس امر پر بھی زور دیا کہ تمام اصلاحات اور پالیسی اقدامات میں شفافیت، احتساب اور بہترین کارکردگی کو اولین ترجیح دی جائے۔
اجلاس کو مختلف وزارتوں اور اداروں کی جانب سے زیر غور پالیسی تجاویز اور اصلاحاتی اقدامات پر تفصیلی بریفنگ دی گئی۔
اجلاس میں نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار، وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب، وفاقی وزیر اقتصادی امور احد خان چیمہ، وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطاء اللہ تارڑ، وفاقی وزیر موسمیاتی تبدیلی مصدق ملک، وفاقی وزیر توانائی (پاور ڈویژن) سردار اویس لغاری، وفاقی وزیر پٹرولیم علی پرویز ملک، وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے صنعت و پیداوار ہارون اختر، ڈائریکٹر جنرل ایس آئی ایف سی میجر جنرل اسد الرحمن چیمہ اور متعلقہ اداروں کے اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔














