افغانستان میں طالبان حکومت کے سخت قوانین اور خواتین کے کھیلوں پر عائد پابندیوں کے بعد ملک سے فرار ہونے والی افغان خواتین فٹبالرز نے جلاوطنی میں بین الاقوامی سطح پر اپنی کھیل کی سرگرمیاں دوبارہ بحال کر لی ہیں۔
میڈٰیا رپورٹس کے مطابق آسٹریلیا کے شہر ملبورن میں پناہ لینے والی افغان خواتین فٹبال ٹیم کی کھلاڑیوں نے تمام تر سفارتی اور انتظامی چیلنجز کا سامنا کرنے کے باوجود اپنے عزم کو زندہ رکھا ہے اور اب وہ بین الاقوامی فٹبال فیڈریشنز کے تعاون سے دوبارہ میدانِ عمل میں اتر آئی ہیں، جہاں وہ عالمی سطح پر افغان خواتین اور اپنے پرچم کی نمائندگی جاری رکھنے کے لیے پرعزم ہیں۔
Afghan Women United’s journey continues 🙌
Seven months after their historic victory over Libya, they will face Cook Islands twice in early June:
— FIFA (@FIFAcom) May 15, 2026
افغان کھلاڑیوں نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انکشاف کیا ہے کہ کابل میں اقتدار کی تبدیلی کے بعد ان کے لیے کھیل جاری رکھنا تو دور کی بات، عام زندگی گزارنا بھی ناممکن بنا دیا گیا تھا، جس کے باعث انہیں نہ صرف اپنے خوابوں بلکہ اپنی جانوں کے تحفظ کے لیے بھی ملک چھوڑنے پر مجبور ہونا پڑا۔
یہ بھی پڑھیں: ایشین کپ فٹبال کوالیفائر: پاکستان اور افغانستان کا دوسرا میچ بھی برابر
آسٹریلیا آمد کے بعد مقامی فٹبال کلبز اور انسانی حقوق کی تنظیموں نے ان کی بھرپور معاونت کی، جس کی بدولت انہیں باقاعدہ ٹریننگ اور میچز کھیلنے کے مواقع میسر آئے۔
کھلاڑیوں کے مطابق بین الاقوامی فٹبال کھیلنے کا مقصد محض ایک کھیل کا حصہ بننا نہیں بلکہ دنیا بھر کو یہ پیغام دینا ہے کہ افغان خواتین کے عزم اور ان کی صلاحیتوں کو کسی بھی پابندی کے ذریعے دبایا نہیں جاسکتا۔
Afghan Women United make history as pioneering tournament kicks off
Video news releases (VNR) are available via the FIFA Media Hub.
Photos from match day 1 of the FIFA Unites: Women’s Series 2025 available via https://t.co/OBBeRFnjNQ… pic.twitter.com/1xn8zj1fce
— FIFA Media (@fifamedia) October 26, 2025
انٹرنیشنل اسپورٹس باڈیز اور انسانی حقوق کے سرگرم کارکنان نے افغان خواتین فٹ بال ٹیم کی اس بین الاقوامی واپسی کو دنیا بھر کی مظلوم خواتین کے لیے امید کی ایک روشن کرن قرار دیا ہے۔
پناہ گزین کھلاڑیوں کے اس گروپ کا کہنا ہے کہ وہ مستقبل میں فیفا کے بڑے ایونٹس میں بطورِ متبادل قومی ٹیم شرکت کرنے کے لیے اپنے قانونی اور سفارتی حقوق کی جنگ بھی لڑ رہے ہیں تاکہ ان خواتین کھلاڑیوں کی آواز کو عالمی فورمز پر زندہ رکھا جا سکے جو اس وقت اپنے ہی ملک میں بنیادی حقوق سے محروم کردی گئی ہیں۔














