ترجمان دفتر خارجہ طاہر اندرابی نے ہفتہ وار پریس بریفنگ میں کہا ہے کہ بھارت کی جانب سے دریائے چناب کے پانی کو بیاس کی طرف منتقل کرنے کے مجوزہ آبی منصوبے پر پاکستان نے شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے اسے سندھ طاس معاہدے سمیت متعدد بین الاقوامی آبی قوانین کی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بھارت کے ایسے اقدامات خطے میں پانی کو بطور ہتھیار استعمال کرنے کی کوشش کے مترادف ہیں۔
یہ بھی پڑھیں:خطے میں جنگ کے خاتمے کے لیے سفارتکاری ناگزیر، ترجمان دفتر خارجہ کی بریفنگ
ترجمان کے مطابق پاکستان نے واضح کیا ہے کہ یہ اقدام نہ صرف سندھ طاس معاہدے بلکہ ویانا کنونشن اور اقوام متحدہ کے آبی راستوں سے متعلق کنونشن کی بھی خلاف ورزی ہے، جبکہ یہ 1998 کے سلال معاہدے کی روح کے بھی منافی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان نے بھارتی منصوبے کا نوٹس لیا ہے اور اسے ناقابل قبول سمجھتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان کے پاس تمام آپشنز کھلے ہیں اور 25 کروڑ عوام کے پانی کے حقوق پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔ ترجمان کے مطابق پاکستان مذاکرات کے ذریعے مسائل کے حل کا خواہاں ہے، تاہم یکطرفہ اقدامات خطے میں کشیدگی بڑھاتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں:ترجمان دفتر خارجہ کا اسرائیلی سفیر کے بیان پر سخت ردعمل، الزامات مسترد
دفتر خارجہ کی بریفنگ میں بتایا گیا کہ گزشتہ دو ہفتوں کے دوران پاکستان کی سفارتی سرگرمیاں انتہائی مصروف رہیں۔ وزیراعظم نے 23 سے 26 مئی کے دوران چین کا دورہ کیا جو چینی قیادت کی دعوت پر تھا، جس میں دوطرفہ تعلقات اور علاقائی امور پر تفصیلی بات چیت ہوئی۔
اس کے بعد نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار وزیراعظم کے ہمراہ نیویارک گئے جہاں انہوں نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے اجلاس میں شرکت کی۔ نیویارک اور واشنگٹن میں اعلیٰ سطحی ملاقاتوں کے بعد پاکستان نے مشرق وسطیٰ میں قیام امن کے لیے اپنی سفارتی کوششیں مزید تیز کر دی ہیں۔
ترجمان کے مطابق وزیراعظم کی چار جون کو ایرانی وزیر خارجہ سے ٹیلیفون پر گفتگو ہوئی جبکہ نائب وزیراعظم نے متعدد ممالک کے وزرائے خارجہ سے بھی رابطے کیے۔ پاکستان نے ایران اور امریکا کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کو باعث تشویش قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ وہ خطے میں امن کے لیے بطور ثالث مثبت کردار ادا کر رہا ہے اور اگر دونوں ممالک کے درمیان مذاکرات ہوتے ہیں تو پاکستان میزبانی کے لیے بھی تیار ہے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان کا مؤقف واضح ہے کہ اختلافات کا حل جنگ نہیں بلکہ مذاکرات اور سفارتکاری ہے۔
دفتر خارجہ کے مطابق اس ہفتے یورپی یونین کی اعلیٰ نمائندہ و نائب صدر کایا کالس نے پاکستان کا دورہ کیا، جس کے دوران انہوں نے وزیراعظم، صدر، وزیر خارجہ اور چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف سے ملاقاتیں کیں۔
ترجمان نے بتایا کہ پاکستان اور یورپی یونین کے درمیان اسٹریٹجک ڈائیلاگ کے آٹھویں دور کی مشترکہ صدارت بھی کی گئی جس میں دوطرفہ تعلقات، تعاون کے فروغ اور عالمی امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
بریفنگ میں مشرق وسطیٰ کی صورتحال پر گفتگو کرتے ہوئے ترجمان نے اسرائیلی اقدامات، بالخصوص مسجد اقصیٰ اور مقبوضہ بیت المقدس کی حیثیت تبدیل کرنے کی کوششوں کی مذمت کی اور فلسطینی عوام کے حقِ خودارادیت کی حمایت کا اعادہ کیا۔
یہ بھی پڑھیں:صدر زرداری کے دورہ یو اے ای کے دوران سرمایہ کاری اور تجارتی تعلقات بڑھانے پر زور دیا گیا، ترجمان دفتر خارجہ
افغانستان سے متعلق سوالات پر ترجمان نے کہا کہ پاکستان دہشت گردی کا شکار ہے جو افغان سرزمین سے آتی ہے، اور کوئی بھی ریاست ایسے حالات میں خاموش نہیں رہ سکتی۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان اپنے شہریوں کے تحفظ کے لیے اقدامات جاری رکھے گا، جبکہ افغانستان کے ساتھ تعلقات میں مذاکرات کا راستہ اب بھی کھلا ہے۔
ترجمان نے بھارت اور روس کے درمیان دفاعی معاہدے کا نوٹس لینے کا بھی ذکر کیا اور کہا کہ پاکستان اس پیشرفت کا جائزہ لے رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ جموں و کشمیر ایک بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ متنازعہ علاقہ ہے اور کسی بھی غیر ملکی سفیر کے دورے سے اس کی حیثیت تبدیل نہیں ہوتی۔
بریفنگ کے اختتام پر ترجمان نے کہا کہ پاکستان عالمی سطح پر امن، استحکام اور سفارتکاری کے اصولوں پر کاربند ہے اور تمام تنازعات کا حل مذاکرات کے ذریعے چاہتا ہے۔













