بنگلہ دیش نے بھارت کے ساتھ سرحد پر مسلسل ہونے والی ہلاکتوں پر ایک بار پھر تشویش کا اظہار کیا ہے۔
یہ معاملہ 8 سے 11 جون تک نئی دہلی میں ہونے والی بارڈر گارڈ بنگلہ دیش اور بھارتی بارڈر سیکیورٹی فورس کے درمیان 57ویں ڈائریکٹر جنرل سطح کی کانفرنس میں اہم موضوعات میں شامل ہوگا۔
بنگلہ دیشی انسانی حقوق تنظیم آئین او سالش کیندر کے مطابق 2021 سے 2025 کے دوران سرحدی علاقوں میں کم از کم 134 بنگلہ دیشی شہری ہلاک ہوئے، جبکہ 2026 کے پہلے 5 ماہ میں مزید 8 افراد جان سے گئے۔
یہ بھی پڑھیں: بنگلہ دیش بھارت سرحد پر ہلاکتوں کے خلاف ڈھاکا میں احتجاج کا اعلان
تنظیم کا کہنا ہے کہ زیادہ تر ہلاکتوں میں بارڈر سیکیورٹی فورس یعنی بی ایس ایف کی جانب سے کی گئی فائرنگ کو ذمہ دار ٹھہرایا گیا ہے۔
تازہ واقعہ منگل کی رات ضلع ساتکھیرا کے کلی گنج سرحدی علاقے میں پیش آیا، جہاں مبینہ طور پر بی ایس ایف کی فائرنگ سے 2 بنگلہ دیشی شہری زخمی ہوئے۔
بنگلہ دیش طویل عرصے سے بھارت سے مطالبہ کر رہا ہے کہ سرحدی ہلاکتوں کو مکمل طور پر ختم کیا جائے۔
BSF-Border Guard Bangladesh DG-level talks to be held between June 8-11 in Delhi
The last BSF-BGB border co-ordination conference was held in Dhaka 2025@animesh0712 reportshttps://t.co/dMR8fOfrB5
— The Tribune (@thetribunechd) June 4, 2026
اگرچہ بھارتی حکام متعدد بار مہلک طاقت کے استعمال سے گریز کی یقین دہانی کرا چکے ہیں، تاہم انسانی حقوق کی تنظیموں کا مؤقف ہے کہ زمینی صورتحال میں خاطر خواہ بہتری نہیں آئی۔
اس مسئلے پر نئی بحث اس وقت شروع ہوئی جب بنگلہ دیش کے مشیر برائے داخلہ صلاح الدین احمد نے کہا کہ کسی ملک کی حدود کے اندر غیر قانونی داخلے یا مجرمانہ سرگرمیوں سے متعلق واقعات کو لازماً سرحدی قتل قرار نہیں دیا جا سکتا۔
ان کے اس بیان پر انسانی حقوق کے کارکنوں نے تنقید کرتے ہوئے کہا کہ اصل توجہ قانونی اصطلاحات کے بجائے انسانی جانوں کے تحفظ پر ہونی چاہیے۔
مزید پڑھیں: بھارت اور بنگلہ دیش کی سرحد پر کشیدگی، سینکڑوں افراد ہولڈنگ سینٹرز میں منتقل
انسانی حقوق کے کارکن نور خان لیتون کا کہنا ہے کہ غیر مسلح افراد کو، ان پر عائد الزامات سے قطع نظر، قانونی تحفظ اور منصفانہ عدالتی عمل کا حق حاصل ہے۔
دوسری جانب ہیومن رائٹس سپورٹ سوسائٹی کی ایک رپورٹ کے مطابق گزشتہ 10 برسوں کے دوران بی ایس ایف اہلکاروں کے ہاتھوں کم از کم 305 بنگلہ دیشی شہری ہلاک اور 282 زخمی ہوئے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ عدالتی کارروائی کے بغیر ہونے والی ایسی ہلاکتیں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزی کے زمرے میں آتی ہیں۔
بنگلہ دیش اور بھارت کے درمیان تقریباً 4,100 کلومیٹر طویل سرحد پر شہریوں کی ہلاکتیں اب بھی دونوں ممالک کے تعلقات کا ایک حساس مسئلہ بنی ہوئی ہیں۔














