کوئٹہ سمیت بلوچستان کے مختلف اضلاع میں پیٹرول اور ڈیزل کی قلت نے شدید بحران کی شکل اختیار کر لی ہے۔ شہر کے بیشتر پیٹرول پمپس پر پیٹرول کی عدم دستیابی کے باعث شہریوں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے جبکہ جن پمپس پر پیٹرول دستیاب ہے وہاں گاڑیوں کی طویل قطاریں دیکھی جا رہی ہیں۔
یہ بھی پڑھیں:بلوچستان حکومت کا اسمگل شدہ ایرانی پیٹرول کی قیمت 280 روپے فی لیٹر مقرر کرنے کا فیصلہ
وی نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے کوئٹہ کے باسی رمضان احمد نے بتایا کہ گزشتہ 2 روز سے وہ مختلف پیٹرول پمپس کے چکر لگا رہے ہیں لیکن بیشتر مقامات پر پیٹرول دستیاب نہیں۔ پیٹرول کی عدم دستیابی کی وجہ سے روزمرہ کے معمولات بری طرح متاثر ہو رہے ہیں اور گھنٹوں انتظار کے باوجود پیٹرول حاصل کرنا مشکل ہو چکا ہے۔ شہریوں نے حکومت اور ضلعی انتظامیہ سے مطالبہ کیا ہے کہ پیٹرولیم مصنوعات کی بلا تعطل فراہمی یقینی بنائی جائے تاکہ عوام کو مزید پریشانی کا سامنا نہ کرنا پڑے۔
صدر پیٹرولیم ڈیلرز ایسوسی ایشن بلوچستان قیام الدین آغا نے پیٹرول بحران کی ایک بڑی وجہ منی پیٹرول پمپس کے خلاف حالیہ کارروائیوں کو قرار دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ضلعی انتظامیہ کی جانب سے منی پیٹرول پمپس بند کیے جانے کے بعد شہریوں کا دباؤ رجسٹرڈ پیٹرول پمپس پر منتقل ہو گیا ہے، جس کے نتیجے میں طلب میں غیر معمولی اضافہ ہوا۔

ان کا کہنا تھا کہ عیدالاضحیٰ کے سبب ملکی پیٹرولیم کمپنیوں کی سپلائی میں بھی تاخیر ہوئی جس سے صورتحال مزید پیچیدہ ہو گئی، تاہم جلد ہی نئے اسٹاک کی آمد کے بعد حالات معمول پر آ جائیں گے۔
ادھر ڈپٹی کمشنر کوئٹہ مہراللہ بادینی نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ ضلعی انتظامیہ نے پیٹرولیم مصنوعات کی قلت کا فوری نوٹس لیا ہے اور پیٹرول پمپس مالکان سے مسلسل رابطے میں ہے۔ انہوں نے بتایا کہ بلوچستان کے بیشتر علاقوں میں ایرانی پیٹرول کی غیر قانونی سپلائی پر انحصار کیا جاتا رہا ہے اور اس سپلائی کے بند ہونے سے رجسٹرڈ پیٹرول پمپس پر رش بڑھ گیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:پیٹرول بچاؤ، الیکٹرک بائیکس چلاؤ: حکومت بلوچستان کی الیکٹرک بائیکس اسکیم سے بائیکس کیسے حاصل کی جا سکتی ہیں؟
ڈپٹی کمشنر کے مطابق کوئٹہ میں 60 رجسٹرڈ پیٹرول پمپس موجود ہیں اور ان پر پیٹرول کی فراہمی میں اضافہ کر دیا گیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ گزشتہ روز 400 ہزار لیٹر پیٹرول سپلائی کیا گیا جبکہ آج 600 ہزار لیٹر پیٹرول فراہم کیا جا رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ عوام کو پریشان ہونے کی ضرورت نہیں، پیٹرول کی سپلائی کا سلسلہ جاری رہے گا اور قلت پر جلد قابو پا لیا جائے گا۔
مہراللہ بادینی نے مزید کہا کہ بحران کے دوران بعض عناصر ناجائز منافع خوری کی کوشش کرتے ہیں، اسی لیے ضلعی انتظامیہ نے کم گیج اور دیگر بے ضابطگیوں کے خلاف بھی کارروائی کا آغاز کر دیا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ ایرانی پیٹرول کو قانونی حیثیت حاصل نہیں اور قانون کے مطابق کارروائیاں جاری رہیں گی۔

شہری حلقوں کا کہنا ہے کہ اگرچہ انتظامیہ کی جانب سے سپلائی بڑھانے کے اعلانات حوصلہ افزا ہیں، تاہم زمینی سطح پر صورتحال مکمل طور پر معمول پر آنے تک عوامی مشکلات برقرار رہنے کا خدشہ موجود ہے۔













