ایشیا کے مختلف ممالک میں شدید گرمی اور معمول سے کم بارشوں کے باعث فصلوں کی کاشت متاثر ہو رہی ہے، جس سے دنیا کے سب سے زیادہ آبادی والے خطے میں خوراک کی فراہمی کے حوالے سے خدشات بڑھ گئے ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ 2026 کے دوسرے نصف میں متوقع طاقتور ’ایل نینو‘ موسمیاتی رجحان صورتحال کو مزید سنگین بنا سکتا ہے۔
کسانوں، تجزیہ کاروں اور تاجروں کے مطابق بھارت کے اناج پیدا کرنے والے شمال مغربی علاقوں سے لے کر آسٹریلیا کے مشرقی گندم پیدا کرنے والے خطوں تک، اور تھائی لینڈ کے چاول کے کھیتوں سے انڈونیشیا کے وسیع پام آئل باغات تک، شدید گرمی اور کم بارشیں فصلوں کو نقصان پہنچا رہی ہیں اور کسانوں کو کاشت کا رقبہ کم کرنے پر مجبور کررہی ہیں۔
ایران جنگ کے اثرات اور ایل نینو، کسانوں کے لیے دہرا چیلنج
ایل نینو کے باعث خشک موسم ان کسانوں کے لیے دہرا دھچکا ثابت ہو رہا ہے جو پہلے ہی ایران جنگ کے نتیجے میں کھاد اور ڈیزل کی قلت کا سامنا کررہے ہیں۔
2026 کے آغاز سے اب تک گندم کی قیمتوں میں قریباً 20 فیصد اضافہ ہو چکا ہے، جس کی بڑی وجہ امریکا کے اہم زرعی علاقوں میں خشک سالی کے خدشات ہیں۔
دوسری جانب جنوب مشرقی ایشیا کے بڑے برآمدی مراکز میں چاول کی قیمتیں پیداوار کی بڑھتی لاگت اور رسد میں ممکنہ کمی کے خدشات کے باعث گزشتہ ایک ماہ کے دوران قریباً 15 فیصد بڑھ چکی ہیں۔
2026 میں طاقتور ایل نینو کی پیش گوئی
ماہرین کے مطابق ریکارڈ کے مضبوط ترین ایل نینو موسمی نظاموں میں سے ایک 2026 کے دوسرے نصف میں تشکیل پانے کا امکان ہے، جو ایشیا میں شدید گرم اور خشک موسم جبکہ امریکا میں غیر معمولی بارشوں کا سبب بن سکتا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ عالمی موسمیاتی تبدیلی اس صورتحال کو مزید خراب کر رہی ہے۔
سیٹلائٹ ڈیٹا اور تصاویر فراہم کرنے والی امریکی کمپنی اسکائی فائی کے ماہر موسمیات نے کہاکہ ایل نینو کے عالمی اثرات سب سے پہلے جنوب مشرقی ایشیا، بھارت اور آسٹریلیا میں ظاہر ہوتے ہیں، جس کے بعد اس کے اثرات شمالی اور جنوبی امریکا تک پھیلتے ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ کمپنی کے ہائی ریزولوشن سیٹلائٹ پلیٹ فارم پر ایشیا کے مختلف حصوں میں خشک سالی کی ابتدائی علامات پہلے ہی دیکھی جا رہی ہیں۔
بھارت میں مون سون کی تاخیر سے تشویش
بھارت میں محکمہ موسمیات نے گزشتہ ہفتے 4 ماہ پر مشتمل مون سون سیزن کی پیش گوئی مزید کم کر دی، جبکہ مون سون ملک کی سالانہ بارشوں کا قریباً 70 فیصد فراہم کرتا ہے۔
نئی دہلی میں قائم ایک عالمی تجارتی ادارے کے ڈیلر نے کہاکہ ملک کے بیشتر حصوں میں درجہ حرارت معمول سے کافی زیادہ ہے، جس کے باعث موسم گرما کی فصلوں کی بروقت کاشت کے لیے حالات سازگار نہیں رہے۔
ان کے مطابق مون سون کی تاخیر کے باعث کاشت میں تاخیر متوقع ہے، تاہم اصل تشویش مون سون کے آغاز کے بعد معمول سے کم بارشوں اور طویل خشک وقفوں کے امکان پر ہے۔
بھارت گرمیوں کے موسم میں بنیادی طور پر چاول، سویا بین، دالیں، گنا اور مکئی کی کاشت کرتا ہے۔
جنوب مشرقی ایشیا میں چاول اور پام آئل کی پیداوار متاثر
جنوب مشرقی ایشیائی ممالک میں خشک موسم بعض علاقوں میں چاول اور پام آئل کی پیداوار کو متاثر کررہا ہے۔
تھائی لینڈ کے صوبہ چینات کے کسانوں کے مطابق ہر شخص خشک سالی کے خدشات کے باعث پریشان ہے کیونکہ صورتحال انتہائی خطرناک ہو سکتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ دوسری فصل کے حوالے سے انہیں حالات کا جائزہ لینا ہوگا۔ اگر پانی کی قلت برقرار رہی تو ممکن ہے صرف ایک ہی فصل حاصل ہو سکے۔
تھائی لینڈ اور فلپائن میں چاول کی مرکزی فصل جون اور جولائی میں کاشت کی جاتی ہے، جبکہ ویتنام اور انڈونیشیا میں اس وقت دوسری فصل کی بوائی جاری ہے۔
چاول کی قیمتوں میں اضافہ
چاول کی عالمی قیمتیں بڑھ رہی ہیں، حالانکہ بھارت کے پاس وافر ذخائر موجود ہیں۔ بھارت دنیا کی چاول برآمدات کا قریباً 40 فیصد حصہ فراہم کرتا ہے اور حالیہ برسوں میں ریکارڈ پیداوار کے باعث اس کے پاس بڑے ذخائر موجود ہیں۔
سنگاپور میں قائم ایک بین الاقوامی تجارتی کمپنی کے تاجر نے کہا کہ قیمتوں میں نمایاں اضافے سے بحران کے آثار نمایاں ہیں، حالانکہ کسی بڑی قلت کی صورتحال پیدا نہیں ہوئی۔
انہوں نے کہا کہ بھارت کے پاس ضرورت سے کئی گنا زیادہ چاول موجود ہیں، تاہم خدشہ ہے کہ اگر مون سون کے ابتدائی مرحلے میں مسائل پیدا ہوئے تو بھارت ان ذخائر کو اہم قومی اثاثہ سمجھتے ہوئے برآمدات پر کسی قسم کی پابندی عائد کر سکتا ہے۔
آسٹریلیا میں بھی خدشات برقرار
آسٹریلیا میں حالیہ بارشوں نے خشک زرعی زمینوں میں گندم کی تاخیر سے کاشت کا راستہ ہموار کیا ہے، تاہم کسان آنے والے مہینوں میں ایل نینو کے اثرات کے باعث پیداوار متاثر ہونے کے خدشات سے دوچار ہیں۔
چین اور بحیرہ اسود کے خطے پر محدود اثرات
ماہرین کے مطابق ایل نینو چین اور بحیرہ اسود کے خطے کے لیے نسبتاً غیر جانبدار ثابت ہو سکتا ہے، جبکہ امریکی براعظموں میں زیادہ بارشوں کا امکان موجود ہے۔













