باجوڑ حملے کے بعد داعش کے دعوے کی قلعی کھل گئی، ماہرین نے اصل کہانی بتادی

جمعرات 4 جون 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

پاکستان کے نامور سیکیورٹی اور انٹیلی جنس ماہرین نے باجوڑ کے علاقے ترخو خوارگئی، تحصیل ماموند میں ہونے والے حالیہ دہشتگردانہ حملے میں فتنہ الخوارج ’داعش خراسان کے پی کے‘ کی جانب سے ذمہ داری قبول کرنے کے دعوے کو ٹیکنیکل بنیادوں پر یکسر مسترد کر دیا ہے۔

سیکیورٹی اور انٹیلی جنس ذرائع کا مؤقف ہے کہ اس دعوے کی تاحال کسی بھی آزاد ذرائع سے تصدیق نہیں ہو سکی، اس لیے اسے حقیقت کے طور پر ہرگز تسلیم نہیں کیا جا سکتا۔

باجوڑ واقعہ اور پروپیگنڈا حکمتِ عملی کا معلوماتی خلا

سیکیورٹی حکام کے مطابق باجوڑ میں نامعلوم مسلح افراد نے سیکیورٹی فورسز کے جوانوں پر اندھا دھند فائرنگ کی، جس کے نتیجے میں 2 سیکیورٹی جوان جامِ شہادت نوش کر گئے۔ حملے کے فوراً بعد دہشتگرد تنظیم ’داعش خراسان‘ کی جانب سے سوشل میڈیا پر ذمہ داری قبول کرنے کا ایک باقاعدہ بیان جاری کیا گیا، جسے ماہرین نے شدت پسند تنظیموں کی معروف ’پروپیگنڈا حکمتِ عملی‘ قرار دیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:نائجیریا میں داعش کے اہم عالمی کمانڈر کو ہلاک کر دیا گیا، ٹرمپ کا دعویٰ

ماہرین کا کہنا ہے کہ دہشتگرد تنظیمیں اکثر ایسے ناگہانی واقعات کے فوراً بعد پیدا ہونے والے معلوماتی خلا سے فائدہ اٹھاتی ہیں اور فوری طور پر ذمہ داری کا جھوٹا دعویٰ کر دیتی ہیں تاکہ عالمی سطح پر اپنی موجودگی اور طاقت کا جھوٹا تاثر قائم رکھا جا سکے، چاہے ان کا اس حملے سے زمین پر کوئی براہِ راست تعلق ثابت نہ ہو۔

اقوامِ متحدہ کی رپورٹ اور داعش خراسان کی گرتی ہوئی آپریشنل صلاحیت

سیکیورٹی تجزیہ کاروں نے حالیہ عالمی اور علاقائی جائزوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ داعش خراسان کو گزشتہ چند برسوں میں پاکستان اور خطے میں شدید آپریشنل نقصانات کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ اس سلسلے میں اقوامِ متحدہ (یواین) کی مانیٹرنگ ٹیم کی 37ویں رپورٹ کا حوالہ بھی دیا جا رہا ہے، جس میں واضح طور پر اس تنظیم کے نیٹ ورکس اور قیادت پر بڑھتے ہوئے شدید فوجی دباؤ کی نشاندہی کی گئی ہے۔

متعدد انٹیلی جنس جائزوں کے مطابق مسلسل انسدادِ دہشتگردی کارروائیوں کے باعث داعش خراسان کی مربوط اور پیچیدہ حملے کرنے کی صلاحیت اب انتہائی محدود ہو چکی ہے۔ تنظیم اب اپنی اس کمزور ہوتی ہوئی آپریشنل حیثیت کو چھپانے کے لیے سستے تشہیری بیانیے اور میڈیا پروپیگنڈے پر سب سے زیادہ انحصار کر رہی ہے۔

پاکستان کی مؤثر انسدادِ دہشتگردی حکمتِ عملی اور سرحدی نگرانی

دفاعی ماہرین کا کہنا ہے کہ پاکستان کی مؤثر اور جامع انسدادِ دہشتگردی حکمتِ عملی نے داعش خراسان کو ملک کے اندر بالعموم اور خیبر پختونخوا میں بالخصوص کوئی بھی مستقل جغرافیائی موجودگی قائم کرنے سے زبردست انداز میں روکے رکھا ہے۔

مزید پڑھیں:افغانستان میں داعش خراسان کا پھیلاؤ، ملک میں ایک بار پھر دہشتگردی کے لیے سازگار ماحول بن گیا

انٹیلی جنس کی بنیاد پر ہونے والی کارروائیوں، ٹارگٹڈ آپریشنز اور پاک افغان سرحدی نگرانی کے مؤثر ترین نظام نے اس فتنہ پسند تنظیم کے بھرتی کے ذرائع، لاجسٹک نیٹ ورکس اور معاون ڈھانچوں کو ناقابلِ تلافی نقصان پہنچایا ہے۔

سیکیورٹی مبصرین کے مطابق جب بھی کوئی شدت پسند گروہ آپریشنل سطح پر بالکل کمزور اور مفلوج ہو جاتا ہے، تو وہ انفارمیشن سطح پر خود کو زندہ ظاہر کرنے کی ناکام کوشش کرتا ہے۔ ایسے جھوٹے دعوؤں اور پروپیگنڈے کا واحد مقصد عوام میں خوف و ہراس پیدا کرنا، اپنی اہمیت برقرار رکھنا اور اپنی اندرونی داخلی کمزوریوں سے دنیا کی توجہ ہٹانا ہوتا ہے۔

منتشر نیٹ ورک اور پیچیدہ کارروائیوں میں ناکامی

سیکیورٹی اور انٹیلی جنس ماہرین کا یہ بھی کہنا ہے کہ پاکستانی سیکیورٹی فورسز کو بار بار نشانہ بنانے کے دعوے دراصل اس بات کا واضح اعتراف ہیں کہ ’داعش خراسان‘ کے خلاف ریاستی اقدامات انتہائی مؤثر ثابت ہو رہے ہیں۔ سیکیورٹی فورسز نے اس تنظیم کے ٹھکانوں، مقامی سہولت کاروں اور مواصلاتی نیٹ ورکس کو مسلسل نشانہ بنا کر ان کی نقل و حرکت کو چند کلومیٹرز تک محدود کر دیا ہے۔

ماہرین کے مطابق ایک ایسا منتشر اور کمزور نیٹ ورک، جو لاجسٹک سہولیات، محفوظ پناہ گاہوں اور مؤثر رابطہ کاری سے پوری طرح محروم ہو، وہ اتنے سخت نگرانی والے علاقوں میں کوئی بھی پیچیدہ اور ہدفی کارروائی انجام دینے کی صلاحیت ہی نہیں رکھتا۔

یہ بھی پڑھیں:را کی کٹھ پتلی مذہبی اسکالر سلمان ندوی کا داعش سے طالبان تک کا سفر

سیکیورٹی ماہرین کے مطابق اسی لیے کسی بھی حملے کے بعد کیے جانے والے دعوے کو محض سچ نہیں مانا جا سکتا بلکہ اسے ٹھوس شواہد اور فارنزک تحقیقات کی بنیاد پر جانچنا ضروری ہے۔

دوسری جانب سیکیورٹی حکام کا کہنا ہے کہ باجوڑ واقعے کی باریک بینی سے تحقیقات جاری ہیں اور اس عزم کا اعادہ کیا گیا ہے کہ ملوث عناصر کو قانون کے کٹہرے میں لایا جائے گا اور خطے میں امن و استحکام کے لیے انسدادِ دہشتگردی کے آپریشنز بلا تعطل جاری رہیں گے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

وزیراعظم شہباز شریف کی دعوت، سعودی کمپنیاں متعدد بڑے منصوبوں میں اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری کے لیے تیار

پاکستان اور تاجکستان کے درمیان دوطرفہ تجارتی حجم 200ملین ڈالر تک بڑھانے پر اتفاق

بھارت اسرائیل کی ایک اور سازش بے نقاب، پاکستان کے خلاف ’را‘ اور ’موساد‘ کا پیرس میں خفیہ اجلاس، بی ایل اے کی پشت پناہی کا انکشاف

وی نیوز سے وابستہ سینیئر صحافی عبید اللہ عابد کے جواں سال بیٹے ’انس عبید‘ انتقال کر گئے

بھارتی فوج کی 11 مقامات پر لوگوں کو بنگلہ دیش دھکیلنے کی مبینہ کوششیں ناکام، 28 افراد محصور

ویڈیو

جی بی الیکشن میں پی ٹی آئی کے لیے بُری خبر، سہیل آفریدی کی اہم شخصیت سے ملاقات میں کیا طے پایا؟

بھارت کے متنازع آبی منصوبے سندھ طاس معاہدے کی خلاف ورزی قرار، خطے میں امن کے لیے سفارتکاری جاری، ترجمان دفتر خارجہ

صدر ٹرمپ کو دھچکا،امریکی ایوانِ نمائندگان نے ایران کے خلاف فوجی کارروائی روکنے کی قرارداد منظور کر لی

کالم / تجزیہ

ٹرمپ نیتن یاہو تلخی اور مشرق وسطیٰ کا بدلتا نقشہ

کیا لاہور کو آؤٹ سائیڈرز نے تباہ کیا ہے؟

28 ویں ترمیم تو آنی ہی آنی ہے