پاکستان کے نامور سیکیورٹی اور انٹیلی جنس ماہرین نے باجوڑ کے علاقے ترخو خوارگئی، تحصیل ماموند میں ہونے والے حالیہ دہشتگردانہ حملے میں فتنہ الخوارج ’داعش خراسان کے پی کے‘ کی جانب سے ذمہ داری قبول کرنے کے دعوے کو ٹیکنیکل بنیادوں پر یکسر مسترد کر دیا ہے۔
سیکیورٹی اور انٹیلی جنس ذرائع کا مؤقف ہے کہ اس دعوے کی تاحال کسی بھی آزاد ذرائع سے تصدیق نہیں ہو سکی، اس لیے اسے حقیقت کے طور پر ہرگز تسلیم نہیں کیا جا سکتا۔
باجوڑ واقعہ اور پروپیگنڈا حکمتِ عملی کا معلوماتی خلا
سیکیورٹی حکام کے مطابق باجوڑ میں نامعلوم مسلح افراد نے سیکیورٹی فورسز کے جوانوں پر اندھا دھند فائرنگ کی، جس کے نتیجے میں 2 سیکیورٹی جوان جامِ شہادت نوش کر گئے۔ حملے کے فوراً بعد دہشتگرد تنظیم ’داعش خراسان‘ کی جانب سے سوشل میڈیا پر ذمہ داری قبول کرنے کا ایک باقاعدہ بیان جاری کیا گیا، جسے ماہرین نے شدت پسند تنظیموں کی معروف ’پروپیگنڈا حکمتِ عملی‘ قرار دیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:نائجیریا میں داعش کے اہم عالمی کمانڈر کو ہلاک کر دیا گیا، ٹرمپ کا دعویٰ
ماہرین کا کہنا ہے کہ دہشتگرد تنظیمیں اکثر ایسے ناگہانی واقعات کے فوراً بعد پیدا ہونے والے معلوماتی خلا سے فائدہ اٹھاتی ہیں اور فوری طور پر ذمہ داری کا جھوٹا دعویٰ کر دیتی ہیں تاکہ عالمی سطح پر اپنی موجودگی اور طاقت کا جھوٹا تاثر قائم رکھا جا سکے، چاہے ان کا اس حملے سے زمین پر کوئی براہِ راست تعلق ثابت نہ ہو۔
اقوامِ متحدہ کی رپورٹ اور داعش خراسان کی گرتی ہوئی آپریشنل صلاحیت
سیکیورٹی تجزیہ کاروں نے حالیہ عالمی اور علاقائی جائزوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ داعش خراسان کو گزشتہ چند برسوں میں پاکستان اور خطے میں شدید آپریشنل نقصانات کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ اس سلسلے میں اقوامِ متحدہ (یواین) کی مانیٹرنگ ٹیم کی 37ویں رپورٹ کا حوالہ بھی دیا جا رہا ہے، جس میں واضح طور پر اس تنظیم کے نیٹ ورکس اور قیادت پر بڑھتے ہوئے شدید فوجی دباؤ کی نشاندہی کی گئی ہے۔
متعدد انٹیلی جنس جائزوں کے مطابق مسلسل انسدادِ دہشتگردی کارروائیوں کے باعث داعش خراسان کی مربوط اور پیچیدہ حملے کرنے کی صلاحیت اب انتہائی محدود ہو چکی ہے۔ تنظیم اب اپنی اس کمزور ہوتی ہوئی آپریشنل حیثیت کو چھپانے کے لیے سستے تشہیری بیانیے اور میڈیا پروپیگنڈے پر سب سے زیادہ انحصار کر رہی ہے۔
پاکستان کی مؤثر انسدادِ دہشتگردی حکمتِ عملی اور سرحدی نگرانی
دفاعی ماہرین کا کہنا ہے کہ پاکستان کی مؤثر اور جامع انسدادِ دہشتگردی حکمتِ عملی نے داعش خراسان کو ملک کے اندر بالعموم اور خیبر پختونخوا میں بالخصوص کوئی بھی مستقل جغرافیائی موجودگی قائم کرنے سے زبردست انداز میں روکے رکھا ہے۔
مزید پڑھیں:افغانستان میں داعش خراسان کا پھیلاؤ، ملک میں ایک بار پھر دہشتگردی کے لیے سازگار ماحول بن گیا
انٹیلی جنس کی بنیاد پر ہونے والی کارروائیوں، ٹارگٹڈ آپریشنز اور پاک افغان سرحدی نگرانی کے مؤثر ترین نظام نے اس فتنہ پسند تنظیم کے بھرتی کے ذرائع، لاجسٹک نیٹ ورکس اور معاون ڈھانچوں کو ناقابلِ تلافی نقصان پہنچایا ہے۔
سیکیورٹی مبصرین کے مطابق جب بھی کوئی شدت پسند گروہ آپریشنل سطح پر بالکل کمزور اور مفلوج ہو جاتا ہے، تو وہ انفارمیشن سطح پر خود کو زندہ ظاہر کرنے کی ناکام کوشش کرتا ہے۔ ایسے جھوٹے دعوؤں اور پروپیگنڈے کا واحد مقصد عوام میں خوف و ہراس پیدا کرنا، اپنی اہمیت برقرار رکھنا اور اپنی اندرونی داخلی کمزوریوں سے دنیا کی توجہ ہٹانا ہوتا ہے۔
منتشر نیٹ ورک اور پیچیدہ کارروائیوں میں ناکامی
سیکیورٹی اور انٹیلی جنس ماہرین کا یہ بھی کہنا ہے کہ پاکستانی سیکیورٹی فورسز کو بار بار نشانہ بنانے کے دعوے دراصل اس بات کا واضح اعتراف ہیں کہ ’داعش خراسان‘ کے خلاف ریاستی اقدامات انتہائی مؤثر ثابت ہو رہے ہیں۔ سیکیورٹی فورسز نے اس تنظیم کے ٹھکانوں، مقامی سہولت کاروں اور مواصلاتی نیٹ ورکس کو مسلسل نشانہ بنا کر ان کی نقل و حرکت کو چند کلومیٹرز تک محدود کر دیا ہے۔
ماہرین کے مطابق ایک ایسا منتشر اور کمزور نیٹ ورک، جو لاجسٹک سہولیات، محفوظ پناہ گاہوں اور مؤثر رابطہ کاری سے پوری طرح محروم ہو، وہ اتنے سخت نگرانی والے علاقوں میں کوئی بھی پیچیدہ اور ہدفی کارروائی انجام دینے کی صلاحیت ہی نہیں رکھتا۔
یہ بھی پڑھیں:را کی کٹھ پتلی مذہبی اسکالر سلمان ندوی کا داعش سے طالبان تک کا سفر
سیکیورٹی ماہرین کے مطابق اسی لیے کسی بھی حملے کے بعد کیے جانے والے دعوے کو محض سچ نہیں مانا جا سکتا بلکہ اسے ٹھوس شواہد اور فارنزک تحقیقات کی بنیاد پر جانچنا ضروری ہے۔
دوسری جانب سیکیورٹی حکام کا کہنا ہے کہ باجوڑ واقعے کی باریک بینی سے تحقیقات جاری ہیں اور اس عزم کا اعادہ کیا گیا ہے کہ ملوث عناصر کو قانون کے کٹہرے میں لایا جائے گا اور خطے میں امن و استحکام کے لیے انسدادِ دہشتگردی کے آپریشنز بلا تعطل جاری رہیں گے۔














