امریکی سینیٹ میں بڑا اَپ سیٹ، ڈونلڈ ٹرمپ کا متنازع امیگریشن بل پاس، اپوزیشن ہکا بکا رہ گئی

جمعہ 5 جون 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

امریکی سینیٹ نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی سخت ترین امیگریشن پالیسیوں اور سرحدی کنٹرول سے متعلق ایک انتہائی اہم اور سنگ میل بل کثرتِ رائے سے منظور کر لیا ہے۔

اس بل کی منظوری کے بعد امریکی محکمہ داخلی سلامتی (ہوم لینڈ سیکیورٹی) کو اضافی 70 ارب ڈالر کے بھاری فنڈز فراہم کیے جائیں گے، جن کا بنیادی مقصد سرحدی نگرانی کو فول پروف بنانا اور ملک بھر میں غیر قانونی تارکین وطن کی گرفتاری اور ملک بدری کی مہم کو تیز کرنا ہے۔ عالمی مبصرین کا کہنا ہے کہ یہ بل ٹرمپ انتظامیہ کے سخت گیر ایجنڈے کی کامیابی کی طرف ایک بڑا قدم ہے۔

سینیٹ میں کانٹے کا مقابلہ اور جماعتی تقسیم

سینیٹ میں اس بل پر طویل اور گرما گرم بحث کے بعد ہونے والی ووٹنگ انتہائی سنسنی خیز رہی، جہاں یہ بل 47 کے مقابلے میں 52 ووٹوں سے منظور ہوا۔ رائے دہی کے دوران واضح جماعتی تقسیم دیکھی گئی، جہاں تمام ڈیموکریٹس سینیٹرز نے یکمشت ہو کر بل کی مخالفت میں ووٹ دیا۔

یہ بھی پڑھیں:امریکی شہریت کے قانون پر کشمکش، ٹرمپ کا ممکنہ عدالتی فیصلے پر سخت ردعمل

تاہم سب سے بڑی حیرت اس وقت سامنے آئی جب صدر ٹرمپ کی اپنی جماعت کے اندر سے بھی ایک ری پبلکن سینیٹر نے پارٹی لائن سے انحراف کرتے ہوئے اس بل کے خلاف اپنا ووٹ ریکارڈ کرایا، جس نے سیاسی پنڈتوں کو حیران کر دیا ہے۔

فنڈز کا استعمال اور 3 سالہ ملک بدری کا منصوبہ

اس منظور شدہ تاریخی بل کا بنیادی ہدف غیر قانونی امیگریشن کے خلاف جاری آپریشنز کو مزید سخت اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کو بے پناہ اختیارات دینا ہے۔

بل کے کلیدی نکات میں درج ہے کہ محکمہ داخلی سلامتی کو ملنے والی 70 ارب ڈالر کی خطیر رقم بارڈر پٹرولنگ کارروائیوں کو جدید بنانے پر خرچ ہوگی۔

اس رقم سے میکسیکو سرحد سمیت دیگر حساس سرحدی راستوں پر اضافی نفری اور جدید ترین نگرانی کی ٹیکنالوجی نصب کی جائے گی۔

فنڈز کا ایک بڑا حصہ تارکین وطن کی گرفتاری، حراستی مراکز کی توسیع اور ان کی فوری ملک بدری کے عمل کو تیز کرنے پر استعمال کیا جائے گا۔

یہ خصوصی فنڈنگ طویل مدتی منصوبے کے تحت آئندہ 3 سال کے اخراجات پورے کرنے کے لیے مختص کی گئی ہے۔

’اینٹی ویپنائزیشن فنڈ‘ پر شدید ترین تنازع

سینیٹ کی کارروائی کے دوران سب سے زیادہ سیاسی طوفان 1.8 ارب ڈالر کے ایک متنازع ’اینٹی ویپنائزیشن فنڈ‘ پر دیکھنے میں آیا۔ اس فنڈ کا مبینہ مقصد ایسے افراد کو مالی معاوضہ فراہم کرنا ہے، جو یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ ماضی میں وفاقی حکومت یا اداروں نے سیاسی بنیادوں پر ان کے ساتھ زیادتیاں کیں۔

تاہم ڈیموکریٹس اور آزاد مبصرین نے اس شق پر شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے اسے صدر ٹرمپ کے سیاسی حامیوں اور اتحادیوں کے لیے ایک ’سیاسی فنڈ‘ قرار دیا ہے، جس کے ذریعے مبینہ طور پر انتخابی وفاداریوں کا معاوضہ دیا جائے گا۔

مزید پڑھیں:ٹرمپ کی کڑی تنقید: جنگ بندی کے مطالبے پر ’پوپ لیو‘ جرائم پسند قرار

‘ڈیموکریٹس اور بعض ریپبلکن سینیٹرز نے اس متنازع فنڈ کو بل سے خارج کرنے کی بھرپور کوشش کی، تاہم وہ عددی برتری نہ ہونے کے باعث ناکام رہے۔ بعض سینیٹرز کا ماننا ہے کہ یہ فنڈ کانگریس کے اختیارات اور امریکی آئینی نظام کے لیے ایک مستقل خطرہ بن سکتا ہے۔

ریپبلکن پارٹی میں اندرونی اختلافات اور اگلا مرحلہ

اس بل پر ہونے والی ووٹنگ نے ریپبلکن پارٹی کے اندرونی خطرات اور دھڑے بندیوں کو بھی سطح پر لا کھڑا کیا ہے۔ پارٹی کے کئی اعتدال پسند سینیٹرز اس متنازع فنڈ کے حق میں نہیں تھے، کیونکہ انہیں خدشہ ہے کہ آئندہ وسط مدتی (مڈ ٹرم) انتخابات میں ووٹرز کے سامنے اس فنڈ کی وجہ سے انہیں شدید سیاسی نقصان کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

سینیٹ سے کٹھن مرحلہ طے کرنے کے بعد، اب یہ اہم بل اپنے اگلے اور حتمی مرحلے کے لیے امریکی ایوانِ نمائندگان (ہاؤس آف ریپریزنٹیٹوز) میں بھیجا جائے گا، جہاں ریپبلکنز کو پہلے ہی اکثریت حاصل ہے، تاہم وہاں بھی اپوزیشن کی جانب سے شدید مزاحمت کا سامنا ہو سکتا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

پی آئی اے کا اسلام آباد سے بیجنگ براہِ راست پروازیں دوبارہ شروع کرنے کااعلان، تاریخ سامنے آگئی

لاہور سمیت پنجاب کے مختلف علاقوں میں زلزلے کے جھٹکے، عوام میں خوف و ہراس

فیفا ورلڈ کپ 2026: ویب سائٹ کی غلطی سے مفت جاری ہونے والے ٹکٹ منسوخ، شائقین سے پوری رقم کا مطالبہ

آسٹریلیا کے خلاف ہوم کنڈیشنز کا دفاع: پچز اپنی صوابدید اور فائدے کے مطابق بنانا ہر ٹیم کا حق ہے، شاہین شاہ آفریدی

آزاد کشمیر: ایکشن کمیٹی کی احتجاجی کال، سیاحوں کی واپسی شروع، سیاحتی صنعت کو نقصان کا خدشہ

ویڈیو

گلگت بلتستان الیکشن: سیاسی گہما گہمی عروج پر، عوام جمہوری عمل کے لیے پرجوش

بجٹ میں ریلیف یا مہنگائی کا طوفان؟ ن لیگ اور پیپلز پارٹی میں ڈیڈلاک برقرار

اسلام آباد کے لیے جامع اصلاحاتی پیکیج تیار، دارالحکومت کا اپنا وزیراعلیٰ بھی زیر غور

کالم / تجزیہ

ریاست کے ساتھ کھڑے ہونا جرم نہیں

ٹرمپ نیتن یاہو تلخی اور مشرق وسطیٰ کا بدلتا نقشہ

کیا لاہور کو آؤٹ سائیڈرز نے تباہ کیا ہے؟