آزاد کشمیر: ایکشن کمیٹی کی احتجاجی کال، سیاحوں کی واپسی شروع، سیاحتی صنعت کو نقصان کا خدشہ

جمعہ 5 جون 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

آزاد جموں و کشمیر حکومت نے غیر مقامی افراد کو خطے کا سفر نہ کرنے کی ہدایت جاری کی ہے جبکہ ریاست میں موجود سیاحوں سے فوری طور پر علاقہ چھوڑنے کی درخواست کی گئی ہے۔

یہ سفری ایڈوائزری 5 جون سے 20 جون تک نافذ العمل رہے گی۔ یہ فیصلہ جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی (جے اے اے سی) کی جانب سے 9 جون کو دی گئی ہڑتال کی کال کے تناظر میں کیا گیا ہے۔

مزید پڑھیں: 38 میں سے 36 مطالبات منظور پھر بھی احتجاج کیوں؟ ایکشن کمیٹی کے خلاف سخت کارروائی کے مطالبات بڑھنے لگے

سیاحوں کو آزاد کشمیر سے نکلنے کی ہدایت ایسے وقت میں کی گئی ہے جب ریاست میں سیاحت کا سیزن عروج پر ہے، جس کے باعث اس صنعت سے وابستہ افراد کو مالی نقصان ہونے کا امکان ہے۔

پریس انفارمیشن ڈپارٹمنٹ (پی آئی ڈی) کی جانب سے جاری کردہ بیان میں ایک نامعلوم سرکاری ترجمان نے کہاکہ یہ اقدام ممکنہ غیر متوقع صورتحال اور مشکلات سے بچاؤ کے لیے اٹھایا گیا ہے۔

ترجمان کے مطابق حکومت ان سیاحوں سے بھی درخواست کرتی ہے جو اس وقت علاقے میں موجود ہیں کہ وہ جمعہ کی شام تک علاقہ چھوڑ دیں تاکہ کسی ناخوشگوار صورتحال کا سامنا نہ ہو۔

نیلم ویلی میں ایک گیسٹ ہاؤس کے مالک زاہد اسلم نے بتایا کہ انتظامیہ نے انہیں اپنے مہمانوں کو واپس جانے کا کہا ہے۔ ان کے مطابق گیسٹ ہاؤس 16 جون تک بک تھا، تاہم اب مہمان رقم کی واپسی کا مطالبہ کررہے ہیں۔

جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی ماضی میں بھی معاشی اور سیاسی مطالبات پر بڑے مظاہرے کر چکی ہے، جو مئی 2024 اور ستمبر 2025 میں سیکیورٹی فورسز کے ساتھ جھڑپوں کے دوران پرتشدد شکل اختیار کر گئے تھے۔

اس بار احتجاج کا مرکز وہ مطالبہ ہے جس میں آزاد کشمیر اسمبلی کی 12 نشستوں کو ختم کرنے کا کہا جا رہا ہے، یہ نشستیں 1947 کے بعد پاکستان میں آباد ہونے والے کشمیری مہاجرین کے لیے مخصوص ہیں۔

عوامی ایکشن کمیٹی کا مؤقف ہے کہ ان نشستوں کو اکثر مرکزی سیاسی جماعتیں حکومت سازی پر اثر انداز ہونے کے لیے استعمال کرتی ہیں۔

جمعرات کے روز آزاد جموں و کشمیر قانون ساز اسمبلی نے ان نشستوں کے موجودہ نظام کی بھرپور حمایت کرتے ہوئے کہاکہ مہاجرین کی نشستیں برقرار رہنی چاہییں اور انتخابات مقررہ وقت پر ہونے ضروری ہیں۔

آزاد کشمیر حکومت کی درخواست پر وفاقی حکومت نے نیم فوجی دستے علاقے میں تعینات کردیے ہیں تاکہ پولیس کی معاونت کی جا سکے۔

آزاد کشمیر کے انسپکٹر جنرل پولیس، کیپٹن (ر) لیاقت علی ملک نے وفاق سے 14 ہزار اضافی اہلکاروں کی درخواست کی ہے تاکہ 7 جون سے 21 جون تک سیکیورٹی یقینی بنائی جا سکے۔

انہوں نے شہریوں سے اپیل کی کہ وہ کسی بھی ہجوم کا حصہ نہ بنیں اور اپنے مطالبات پرامن اور جمہوری طریقے سے پیش کریں۔

ایک سینیئر پولیس افسر کے مطابق مطلوبہ نفری 14 ہزار سے بھی زیادہ ہے اور اضافی تعیناتی کے لیے مزید درخواستیں بھی بھیجی گئی ہیں۔

مزید پڑھیں: ایکشن کمیٹی نے مذاکرات کے بجائے محاذ آرائی کا راستہ چنا، امن و امان خراب کرنے پر کارروائی ہوگی، آزاد کشمیر حکومت

اسی دوران سوشل میڈیا پر یہ قیاس آرائیاں بھی جاری رہیں کہ ممکنہ طور پر انٹرنیٹ اور موبائل ڈیٹا سروسز معطل کی جا سکتی ہیں، تاہم اس کی سرکاری تصدیق نہیں ہو سکی۔

ادھر یونیورسٹی آف آزاد جموں و کشمیر نے بھی عوامی ایکشن کمیٹی کی ہڑتال کے باعث 8 جون سے شروع ہونے والے بہار 2026 کے امتحانات غیر معینہ مدت تک ملتوی کردیے ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

سپریم کورٹ کا اہم آئینی فیصلہ: نیب مقدمات میں اپیلیں اور ضمانت کی درخواستیں وفاقی آئینی عدالت ہی سنے گی

پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ، پیٹرول 3 روپے 66 پیسے، ڈیزل 4 روپے 80 پیسے فی لیٹر مہنگا

گلوبل سپر لیگ: لاہور قلندرز نے ڈیزرٹ وائپرز کو 38 رنز سے شکست دے دی

کیا مصنوعی ذہانت انسان کے قابو سے باہر ہو رہی ہے؟ اوپن اے آئی کے ماڈل نے ٹیسٹ کے دوران حدود توڑ دیں

مودی کا مؤقف مسترد، کاکروچ جنتا پارٹی کا احتجاج میں تیزی لانے کا اعلان، حکومت نے پھر مہلت مانگ لی

ویڈیو

پاکستان کا دوٹوک انتباہ، حوثی باغیوں کی خیر نہیں، ایران کا بڑا اعلان، امریکا کی چال بھی ناکام

مودی نے طلبا کے سامنے گھٹنے ٹیک دیے، بھارتی ایجنسی کس طرح پاکستانی صحافیوں کو استعمال کرنے کی کوشش کررہی ہے؟

قدیم انجینیئرنگ سے دنیا حیران، 2 ہزار سال پرانا چینی تالا جسے کھولنے کے لیے محض چابی نہیں بڑا دماغ بھی چاہیے

کالم / تجزیہ

قائداعظم کے بارے میں سازشی تھیوریز نہ گھڑیں

مشرقِ وسطیٰ میں پاکستان کا ابھرتا ہوا کردار

شفاف انتخابات کا فریب