بین الاقوامی خلائی اسٹیشن پر ہوا کے اخراج کی صورتحال اچانک سنگین ہونے کے بعد پانچ خلانوردوں کو تقریباً 2 گھنٹے تک ہنگامی کیپسول میں پناہ لینا پڑی اور انخلا کی تیاریاں کرنی پڑیں، تاہم بعد میں امریکی خلائی ادارے ’ناسا‘ نے یہ الرٹ منسوخ کردیا۔
یہ ہنگامی صورتحال اس وقت پیدا ہوئی جب روس نے خلائی لیبارٹری کے اپنے حصے میں موجود ایک دراڑ کو ٹھیک کرنے کی کوشش کی جس پر ناسا کو شدید تحفظات تھے۔
یہ بھی پڑھیں: اسپیس ایکس: ’کریو 11‘بین الاقوامی خلائی اسٹیشن پہنچ گیا، استقبال کیسا ہوا؟
ناسا کی ترجمان بیتھنی اسٹیونز کے مطابق جمعے کی صبح 9 بج کر 4 منٹ پر ہوسٹن میں قائم مشن کنٹرول نے اسٹیشن پر موجود ’کرو-12‘ مشن کے چار خلانوردوں (2 امریکی، ایک فرانسیسی اور ایک روسی خلاباز) سمیت ایک اور امریکی خلانورد کو فوری طور پر خلائی اسٹیشن کے ساتھ جڑے ’اسپیس ایکس کرو ڈریگن‘ متبادل جہاز میں داخل ہونے کا حکم دیا۔
تقریباً دو گھنٹے بعد جب ہوا کے اخراج کی شرح کا دوبارہ باریک بینی سے جائزہ لیا گیا اور روس نے دراڑ کی مرمت کا کام عارضی طور پر روک دیا، تو ناسا نے اپنا حکم واپس لیتے ہوئے خلانوردوں کو خلائی اسٹیشن پر لوٹنے کی اجازت دے دی۔
رپورٹس کے مطابق ناسا اور روسی خلائی ادارے ’روسی کوسموس‘ کے درمیان خلائی اسٹیشن کے اہم ترین روسی حصے ’زویزدا سروس ماڈیول‘ میں موجود ہوا کے چھوٹے اخراج کی وجوہات اور ان کے حل پر کئی ماہ سے بحث جاری ہے۔
یہ بھی پڑھیں: روسکوسموس پروگریس 88 کارگو خلائی جہاز بین الاقوامی خلائی اسٹیشن پر کامیابی سے لنگر انداز
روسی خلائی ادارے کا کہنا ہے کہ ان کے ماہرین نے اسٹیشن پر دو جگہوں سے اخراج کا پتا لگایا ہے جن میں سے ایک کو فوری طور پر بند کر دیا گیا جبکہ دوسرے کو بند کرنے کی تیاریاں جاری ہیں، اور اس سے عملے یا جہاز کے سسٹمز کو کوئی فوری خطرہ لاحق نہیں ہے۔
ایک اعلیٰ امریکی اہلکار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ گزشتہ چند ماہ سے یہ اخراج معمول کے مطابق تھا لیکن جمعہ کو یہ اچانک ایک پاؤنڈ روزانہ سے بڑھ کر 2 پاؤنڈ روزانہ تک پہنچ گیا۔
کشیدگی اس وقت بڑھی جب روسی خلانورد سرگئی کُد سویرچکوف اور سرگئی میکایوف نے اس دراڑ تک پہنچنے کے لیے ایک آری کا استعمال کرنے کا منصوبہ بنایا، جس سے ناسا کے حکام نے سخت اختلاف کیا اور عملے کی حفاظت کے پیشِ نظر فوری طور پر ’سیف ہیون‘ (محفوظ پناہ گاہ) کے پروٹوکولز لاگو کردیے۔
یہ بھی پڑھیں: ناسا کے خلائی جہاز کی 14 سال بعد زمین پر واپسی، کیا لوگوں کے لیے خطرہ بن سکتا ہے؟
بین الاقوامی خلائی اسٹیشن پر اس وقت 2 مختلف مشنز کے 7 خلانورد موجود ہیں، جن میں فروری میں پہنچنے والے ناسا کے جیسیکا میر، جیک ہتھاوے، یورپی خلائی ادارے کی سوفی ایڈنوٹ، روسی اینڈرے فیڈیایف اور نومبر سے موجود امریکی کرسٹوفر ولیمز شامل ہیں۔
ناسا کی ترجمان نے واضح کیا کہ اب وہ اس مسئلے کے حل کے لیے روس کے ساتھ مل کر ایک مشترکہ اور متفقہ حکمتِ عملی پر کام کرنے کے خواہاں ہیں۔
واضح رہے کہ خلائی اسٹیشن کی 27 سالہ تاریخ میں خلائی ملبے کے ٹکراؤ یا ہوا کے دباؤ میں معمولی تبدیلیوں کے باعث ایسے الرٹ شاذ و نادر ہی جاری کیے جاتے ہیں، تاہم تاریخ میں آج تک کبھی بھی خلانوردوں کو خلائی اسٹیشن کو مکمل طور پر چھوڑ کر زمین پر واپس آنے کی ضرورت پیش نہیں آئی ہے۔














