مصنوعی ذہانت کے شعبے میں بڑھتی ہوئی مسابقت کے دوران گوگل نے ایلون مسک کی کمپنی اسپیس ایکس کے ساتھ تقریباً 30 ارب ڈالر مالیت کا بڑا معاہدہ کر لیا ہے۔ اس معاہدے کے تحت گوگل آئندہ 3 برسوں تک اے آئی کمپیوٹنگ صلاحیت حاصل کرنے کے لیے اسپیس ایکس کو ماہانہ 92 کروڑ ڈالر ادا کرے گا، جس سے دونوں کمپنیوں کے درمیان تعاون کا ایک نیا باب شروع ہو گیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:اسپیس ایکس راکٹ کا ناکارہ حصہ چاند کے مدار میں، اگست میں بڑے ٹکراؤ کا امکان
گوگل اور اسپیس ایکس کے درمیان ہونے والے معاہدے کے مطابق گوگل جون 2029 تک مصنوعی ذہانت کے لیے درکار کمپیوٹنگ صلاحیت حاصل کرنے کی خاطر اسپیس ایکس کو ماہانہ 920 ملین ڈالر ادا کرے گا۔ مجموعی طور پر اس معاہدے کی مالیت تقریباً 30 ارب ڈالر بنتی ہے۔ اس انتظام کے تحت گوگل کو تقریباً ایک لاکھ 10 ہزار این ویڈیا جی پی یوز، سی پی یوز، میموری اور دیگر متعلقہ کمپیوٹنگ وسائل تک رسائی حاصل ہوگی، جو کمپنی کے جدید اے آئی ماڈلز اور خصوصاً اس کے “جیمنی انٹرپرائز” پلیٹ فارم کی بڑھتی ہوئی ضروریات پوری کرنے کے لیے استعمال کیے جائیں گے۔
SpaceX lands Google AI compute deal after Anthropic pact ahead of IPO https://t.co/9mLG3koU15 https://t.co/9mLG3koU15
— Reuters (@Reuters) June 6, 2026
رشیا ٹو ڈے کے مطابق گوگل کا کہنا ہے کہ اسپیس ایکس ایک طویل عرصے سے گوگل کلاؤڈ کا شراکت دار ہے اور یہ معاہدہ مصنوعی ذہانت کی خدمات کی تیزی سے بڑھتی ہوئی طلب کے پیش نظر کیا گیا ہے۔ یہ معاہدہ گزشتہ ماہ AI کمپنی اینتھروپک کی جانب سے اسپیس ایکس کے ساتھ کی گئی ایک اور بڑی ڈیل کے بعد سامنے آیا ہے۔
اینتھروپک، جو ’کلاڈ‘ نامی اے آئی ماڈل تیار کرتی ہے، اسپیس ایکس کے ڈیٹا سینٹرز تک رسائی کے لیے ماہانہ 1.25 ارب ڈالر ادا کرنے پر متفق ہوئی تھی، جبکہ اس معاہدے کی مجموعی مالیت تقریباً 45 ارب ڈالر بتائی جاتی ہے۔
یہ بھی پڑھیں:اسپیس ایکس اور پاکستانی نژاد ماہر صالح آصف کی اے آئی کمپنی کا معاہدہ، 60 ارب ڈالر میں خریداری کا امکان
اسپیس ایکس کے مطابق ان معاہدوں سے کمپنی اپنی اضافی اور غیر استعمال شدہ کمپیوٹنگ صلاحیت کو تجارتی بنیادوں پر استعمال کر سکے گی، جبکہ ضرورت پڑنے پر اسے اپنے داخلی منصوبوں کے لیے دوبارہ مختص کرنے کا اختیار بھی برقرار رہے گا۔ رواں سال جنوری میں اسپیس ایکس کا ایلون مسک کی دیگر کمپنیوں X اور xAI کے ساتھ انضمام بھی عمل میں آ چکا ہے۔ کمپنی نے 2026 کی پہلی سہ ماہی میں تقریباً 4.7 ارب ڈالر آمدن حاصل کی، تاہم اسے 4.3 ارب ڈالر کے قریب خسارے کا سامنا بھی کرنا پڑا۔














