آزاد کشمیر حکومت کی جانب سے کالعدم قرار دی گئی جموں و کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کی حقیقت کھل کر سامنے آگئی ہے۔
ذرائع کے مطابق بھارتی صحافی اور تجزیہ کار ادتیہ راج کول ایک ایسے واٹس ایپ گروپ کے رکن ہیں جس میں برطانیہ میں مقیم عوامی ایکشن کمیٹی کے حامی تارکینِ وطن شامل ہیں۔
مذکورہ واٹس ایپ گروپ میں پاکستان مخالف بیانیے اور مواد شیئر کیا جاتا ہے۔ ادتیہ راج کول نہ صرف اس گروپ کا حصہ ہیں بلکہ وہ بھارتی خفیہ ایجنسی کے ڈیجیٹل اثاثے کے طور پر کام کررہے ہیں۔
یہ حقیقت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب سوشل میڈیا اور مختلف ڈیجیٹل پلیٹ فارمز پر پاکستان سے متعلق بیانیوں اور معلوماتی مہمات کے حوالے سے بحث جاری ہے۔
واضح رہے کہ جموں و کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی 38 نکاتی چارٹر آف ڈیمانڈ میں سے زیادہ مطالبات مانے جانے کے باوجود احتجاج پر بضد ہے، جس کے خلاف حکومت آزاد کشمیر نے اس تنظیم کو کالعدم قرار دے دیا ہے۔
آج مظفرآباد میں پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے تنظیم کا مرکزی دفتر بھی سیل کردیا، جہاں سے اسلحہ بھی برآمد ہوا۔














