ساہیوال اور اوکاڑہ پنجاب کے دو قریبی شہر ہیں جو تقریباً 37 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہیں جو ان دنوں خبروں کی زینت بنے ہوئے ہیں۔ یہ رجحان کسی سرحدی یا حقیقی اختلاف کا نتیجہ نہیں بلکہ طنز، میمز اور وائرل ویڈیوز پر مبنی ڈیجیٹل مقابلہ ہے جس نے دونوں شہروں کے صارفین کو متوجہ کیا ہے۔
اس غیر معمولی رجحان کا آغاز ایک انسٹاگرام اکاؤنٹ سے ہوا جو رواں سال مارچ میں بنایا گیا تھا۔ ابتدائی پوسٹ 2 مئی کو سامنے آئی جس میں ایک ویڈیو کو طنزیہ کیپشن کے ساتھ پیش کیا گیا۔ بعد ازاں صارفین نے اس کو مزاحیہ ’جنگی صورتحال‘ کے انداز میں پیش کرنا شروع کر دیا جس سے یہ سلسلہ تیزی سے مقبول ہوگیا۔
4 جون کو صورتحال نے مزید شدت اختیار کی جب آتش بازی کی ایک ویڈیو کو ’اوکاڑہ کی جانب سے ساہیوال پر میزائل حملہ‘ قرار دے کر شیئر کیا گیا۔ اس کے بعد اوکاڑہ کے حامیوں نے مختلف عام مناظر حتیٰ کہ مقامی سرگرمیوں کو بھی ’خصوصی افواج‘ اور ’لڑاکا کارروائیوں‘ کے طور پر پیش کرنا شروع کر دیا۔ ایک صارف نے تصویر پوسٹ کرتے ہوئے لکھا کہ اوکاڑہ کی جانب سے ساہیوال پر داغے گئے میزائل نظر آ رہے ہیں۔

صارفین نے مختلف خیالی صورتحال تخلیق کرتے ہوئے دونوں شہروں کو ’جنگی فریقین‘ کے طور پر پیش کیا۔ ایک صارف کی جانب سے اوکاڑہ کے جناح پارک میں مبینہ ’ٹینک کی تیاری‘ جبکہ ساہیوال کی جانب سے ’سپلائی لائن منقطع کرنے‘ جیسے مزاحیہ دعوے بھی شامل رہے۔

یہ آن لائن رجحان جلد ہی دیگر شہروں تک بھی پھیل گیا۔ فیصل آباد نے خود کو ’ثالث‘ کے طور پر پیش کیا جبکہ خانیوال، پاکپتن اور دیگر علاقوں کے صارفین بھی اس مزاحیہ سلسلے کا حصہ بن گئے۔ بعض پوسٹس میں ’فوجی مدد‘ جیسے طنزیہ تبصرے بھی دیکھنے میں آئے۔

متعدد افراد نے مزاحیہ تبصرے کرتے ہوئے خود کو دونوں شہروں سے جذباتی وابستگی کے باعث ’کنفیوژن‘ کا شکار قرار دیا، ایک صارف نے لکھا کہ کراچی سے فوج ساہیوال روانہ کر دی گئی ہے جبکہ دوسرے نے چین کی طرف سے J-35 طیاروں کی مدد” کا مذاق اڑایا۔ ساہیوال کی مشہور نسل کی گائے کو بھی ’جاسوس‘ بنا کر میمز میں خوب استعمال کیا گیا۔ J-35 طیاروں کی مدد کا مذاق اڑایا۔

ایک صارف نے لکھا کہ دونوں شہروں کے فریقین کو وزیراعطم شہباز شریف نے طلب کر لیا ہے تاکہ یہ تنازع ختم کیا جاسکے۔ ثوبیہ عابد لکھتی ہیں کہ وہ ساہیوال میں پیدا ہوئیں، بچپن وہیں گزارا اور نوکری اوکاڑہ میں ہے، اب فیصلہ نہیں ہو رہا کہ کس کا ساتھ دیں، اقرا نامی صارف نے سوال کیا کہ یہ اوکاڑہ اور ساہیوال کے درمیان جو آن لائن جنگی سلسلہ چل رہا ہے اس میں آپ کس شہر کو سپورٹ کر رہے ہیں؟
یہ اوکاڑہ اور ساہیوال کے درمیان جو آن لائن جنگی سلسلہ چل رہا ہے اس میں آپ کس شہر کو سپورٹ کر رہے ہیں؟🥲
— 𝐈𝐪𝐫𝐚 𝐒𝐚𝐲𝐬 (@hopelessiqra) June 7, 2026
قطرینہ نے کہا کہ بہترین میم بنانے والے کا ساتھ دوں گی ۔ ایک اور نے لکھا اوکاڑہ میرا شہر، ساہیوال میرا سسرال دونوں کا ساتھ دوں گا، راؤ فصیح نے ’سونک میزائلوں‘ کاذکر کرتے ہوئے جنگ بند کرنے کی اپیل کی۔
ایک صارف نے کہا کہ آج کل اوکاڑہ اور ساہیوال کی سوشل میڈیا پر انڈیا پاکستان سے بھی زیادہ سخت جنگ چل رہی ہے آپ کی نظر میں یہ جنگ کون جیتے گا؟
آج کل اوکاڑہ اور ساہیوال کی سوشل میڈیا پر انڈیا پاکستان سے بھی زیادہ سخت جنگ چل رہی ہے ۔۔ آپکی نظر میں یہ جنگ کون جیتے گا ؟؟
— Salaar wasiq (@Salaarwq) June 7, 2026
عائشہ سرفراز لکھتی ہیں کہ جو بھی ہو میں تو اوکاڑہ کے ساتھ ہی ہوں۔
جو بھی ہے میں اوکاڑہ کے ساتھ ہوں
— Aysha Sarfaraz (@SarfarazAysha) June 7, 2026
یہ رجحان پاکستانی سوشل میڈیا کلچر کی ایک منفرد مثال کے طور پر دیکھا جا رہا ہے جہاں میمز اور طنز کے ذریعے تفریح پیدا کی جاتی ہے اور اسی وجہ سے دونوں شہروں کی آن لائن مقبولیت میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔














