ساہیوال اور اوکاڑہ کی جنگ، فیصل آباد نے ثالثی کی پیشکش کیوں کی؟

پیر 8 جون 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

ساہیوال اور اوکاڑہ پنجاب کے دو قریبی شہر ہیں جو تقریباً 37 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہیں جو ان دنوں خبروں کی زینت بنے ہوئے ہیں۔ یہ رجحان کسی سرحدی یا حقیقی اختلاف کا نتیجہ نہیں بلکہ طنز، میمز اور وائرل ویڈیوز پر مبنی ڈیجیٹل مقابلہ ہے جس نے دونوں شہروں کے صارفین کو متوجہ کیا ہے۔

اس غیر معمولی رجحان کا آغاز ایک انسٹاگرام اکاؤنٹ سے ہوا جو رواں سال مارچ میں بنایا گیا تھا۔ ابتدائی پوسٹ 2 مئی کو سامنے آئی جس میں ایک ویڈیو کو طنزیہ کیپشن کے ساتھ پیش کیا گیا۔ بعد ازاں صارفین نے اس کو مزاحیہ ’جنگی صورتحال‘ کے انداز میں پیش کرنا شروع کر دیا جس سے یہ سلسلہ تیزی سے مقبول ہوگیا۔

4 جون کو صورتحال نے مزید شدت اختیار کی جب آتش بازی کی ایک ویڈیو کو ’اوکاڑہ کی جانب سے ساہیوال پر میزائل حملہ‘ قرار دے کر شیئر کیا گیا۔ اس کے بعد اوکاڑہ کے حامیوں نے مختلف عام مناظر حتیٰ کہ مقامی سرگرمیوں کو بھی ’خصوصی افواج‘ اور ’لڑاکا کارروائیوں‘ کے طور پر پیش کرنا شروع کر دیا۔ ایک صارف نے تصویر پوسٹ کرتے ہوئے لکھا کہ اوکاڑہ کی جانب سے ساہیوال پر داغے گئے میزائل نظر آ رہے ہیں۔

صارفین نے مختلف خیالی صورتحال تخلیق کرتے ہوئے دونوں شہروں کو ’جنگی فریقین‘ کے طور پر پیش کیا۔ ایک صارف کی جانب سے اوکاڑہ کے جناح پارک میں مبینہ ’ٹینک کی تیاری‘ جبکہ ساہیوال کی جانب سے ’سپلائی لائن منقطع کرنے‘ جیسے مزاحیہ دعوے بھی شامل رہے۔

 

یہ آن لائن رجحان جلد ہی دیگر شہروں تک بھی پھیل گیا۔ فیصل آباد نے خود کو ’ثالث‘ کے طور پر پیش کیا جبکہ خانیوال، پاکپتن اور دیگر علاقوں کے صارفین بھی اس مزاحیہ سلسلے کا حصہ بن گئے۔ بعض پوسٹس میں ’فوجی مدد‘ جیسے طنزیہ تبصرے بھی دیکھنے میں آئے۔

 متعدد افراد نے مزاحیہ تبصرے کرتے ہوئے خود کو دونوں شہروں سے جذباتی وابستگی کے باعث ’کنفیوژن‘ کا شکار قرار دیا، ایک صارف نے لکھا کہ کراچی سے فوج ساہیوال روانہ کر دی گئی ہے جبکہ دوسرے نے چین کی طرف سے J-35 طیاروں کی مدد” کا مذاق اڑایا۔ ساہیوال کی مشہور نسل کی گائے کو بھی ’جاسوس‘ بنا کر میمز میں خوب استعمال کیا گیا۔  J-35 طیاروں کی مدد کا مذاق اڑایا۔

ایک صارف نے لکھا کہ دونوں شہروں کے فریقین کو وزیراعطم شہباز شریف نے طلب کر لیا ہے تاکہ یہ تنازع ختم کیا جاسکے۔ ثوبیہ عابد لکھتی ہیں کہ وہ ساہیوال میں پیدا ہوئیں، بچپن وہیں گزارا اور نوکری اوکاڑہ میں ہے، اب فیصلہ نہیں ہو رہا کہ کس کا ساتھ دیں، اقرا نامی صارف نے سوال کیا کہ یہ اوکاڑہ اور ساہیوال کے درمیان جو آن لائن جنگی سلسلہ چل رہا ہے اس میں آپ کس شہر کو سپورٹ کر رہے ہیں؟

قطرینہ نے کہا کہ بہترین میم بنانے والے کا ساتھ دوں گی ۔ ایک اور نے لکھا اوکاڑہ میرا شہر، ساہیوال میرا سسرال دونوں کا ساتھ دوں گا، راؤ فصیح نے ’سونک میزائلوں‘ کاذکر کرتے ہوئے جنگ بند کرنے کی اپیل کی۔

ایک صارف نے کہا کہ آج کل اوکاڑہ اور ساہیوال کی سوشل میڈیا پر انڈیا پاکستان سے بھی زیادہ سخت جنگ چل رہی ہے آپ کی نظر میں یہ جنگ کون جیتے گا؟

عائشہ سرفراز لکھتی ہیں کہ جو بھی ہو میں تو اوکاڑہ کے ساتھ ہی ہوں۔

یہ رجحان پاکستانی سوشل میڈیا کلچر کی ایک منفرد مثال کے طور پر دیکھا جا رہا ہے جہاں میمز اور طنز کے ذریعے تفریح پیدا کی جاتی ہے اور اسی وجہ سے دونوں شہروں کی آن لائن مقبولیت میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

فاطمہ ثنا کی عالمی کرکٹ میں دھوم، کینیڈا سپر 60 کی فرنچائز سے معاہدہ

ماہرین آثارِ قدیمہ کا موئن جو دڑو میں نئی تحقیق اور شہر کی فصیل کی نقل تعمیر کرنے کا مطالبہ

ورلڈ کپ کے اہم معرکے سے قبل قومی ہاکی ٹیم کی قیادت میں بڑی تبدیلی، عماد شکیل بٹ کو کپتانی سے ہٹا دیا گیا

بی جے پی رہنما کی بیٹی نے بھارتی نوجوانوں کے احتجاج کی حمایت کی وجہ بتا دی

دوران سفر متلی کی شکایت: ازالے کے لیے آئی فون کی ایک خفیہ سیٹنگ استعمال کرکے دیکھیں

ویڈیو

جسٹن گریوز نے ٹیسٹ کرکٹ میں منفرد عالمی ریکارڈ قائم کرلیا، ’سہولت کار‘ پاکستان ٹیم

پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ن پھر آمنے سامنے، آخر اس لڑائی کی وجہ کیا ہے؟

اسحاق ڈار اور کویتی وزیر خارجہ کے درمیان اہم ملاقات، دوطرفہ تعلقات پر تبادلہ خیال

کالم / تجزیہ

ایک اور میچ، ایک اور شکست، اب تو عادت سی ہے ہم کو!

اے ٹی ایم مشین 

28 جولائی 2010: وہ دن جب میرے قدموں تلے زمین نکل گئی