نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار نے آٹو اور آٹو پارٹس پالیسی کے جائزے کے لیے ایک اعلیٰ سطحی اجلاس کی صدارت کی جس میں خاص طور پر پاکستان میں ای وی یعنی الیکٹرک وہیکلز کی جانب تیز رفتار منتقلی پر غور کیا گیا۔
اجلاس کو بتایا گیا کہ ای وی کے فروغ کے لیے مختلف اقدامات زیرِ غور ہیں جن میں مقامی سطح پر مینوفیکچرنگ کو مضبوط بنانا، صنعت کی ترقی کے لیے حکومتی معاون پالیسیوں کا نفاذ، روزگار کے نئے مواقع پیدا کرنا، برآمدات میں اضافہ اور ماحولیاتی تبدیلیوں کے اثرات میں کمی شامل ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: نئی 5 سالہ الیکٹرک وہیکلز پالیسی جاری، 2030 تک پاکستان میں الیکڑک گاڑیوں کی شرح کتنی ہوگی؟
نائب وزیراعظم اسحاق ڈار نے اس موقع پر ایک مسابقتی، جدت پر مبنی اور پائیدار آٹوموٹیو نظام کی ضرورت پر زور دیا، جو نہ صرف معاشی ترقی کو فروغ دے بلکہ صنعتی صلاحیت میں اضافہ کرے، ہنرمند روزگار کے مواقع پیدا کرے اور ماحول دوست ٹرانسپورٹ نظام کو آگے بڑھائے۔

اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ ایک سب کمیٹی تشکیل دی جائے گی جو تمام اسٹیک ہولڈرز سے مشاورت کے بعد پالیسی کے مسودے کو حتمی شکل دے گی۔
مزید پڑھیں: پاکستان میں الیکٹرک وہیکلز کا کیا فیوچر ہے؟
اجلاس میں وزیرِ توانائی، وزیرِ پیٹرولیم، وزیرِ موسمیاتی تبدیلی، وزیراعظم کے مشیر برائے صنعت و پیداوار، وزیر مملکت برائے خزانہ و ریلوے، ایس اے پی ایم طارق باجوہ، سیکریٹریز کامرس، صنعت و پیداوار اور پیٹرولیم سمیت دیگر اعلیٰ حکام اور ماہرینِ معیشت نے شرکت کی۔














