بھارت نے گزشتہ ماہ مغربی بنگال میں وزیر اعظم نریندر مودی کی ہندو قوم پرست جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کی انتخابی کامیابی کے بعد تقریباً 5 ہزار بنگلہ دیشی شہریوں کو ملک بدر کر دیا ہے۔
سرکاری اعداد و شمار کے مطابق بی جے پی نے 10 کروڑ سے زائد آبادی والی مشرقی سرحدی ریاست مغربی بنگال کے انتخابات میں بھاری کامیابی حاصل کی تھی۔
یہ بھی پڑھیں: بنگلہ دیش بھارت سرحد پر ہلاکتوں کے خلاف ڈھاکا میں احتجاج کا اعلان
انتخابی مہم کے دوران پارٹی نے غیر قانونی تارکین وطن کی ’شناخت، اخراج اور ملک بدری‘ کا وعدہ کیا تھا۔
بھارت اور مسلم اکثریتی ملک بنگلہ دیش کے درمیان طویل اور نسبتاً غیر محفوظ سرحد موجود ہے، ماضی میں معاشی مشکلات اور خاندانی روابط کے باعث سرحد پار ہجرت ہوتی رہی ہے۔
India has deported 5,000 Bangladeshis since BJP win in West Bengal https://t.co/jenSgbyTlw
— ST Foreign Desk (@STForeignDesk) June 8, 2026
اقتدار سنبھالنے کے بعد مغربی بنگال کی نئی حکومت نے غیر دستاویزی بنگلہ دیشی باشندوں اور روہنگیا پناہ گزینوں کے لیے حراستی مراکز قائم کرنے کا حکم دیا۔
روہنگیا ایک مسلم اقلیت ہے جو میانمار میں ظلم و ستم کے باعث نقل مکانی پر مجبور ہوئی تھی۔

ریاست کے وزیر اعلیٰ سوویندو ادھیکاری نے اتوار کے روز کولکتہ میں خطاب کرتے ہوئے کہا کہ تقریباً 5 ہزار بنگلہ دیشی شہریوں کو سرحد پار واپس بھیجا جا چکا ہے۔
’ہم نے ایسے بنگلہ دیشی دراندازوں کی ملک بدری کا عمل شروع کر دیا ہے جو شہریت ترمیمی قانون کے دائرۂ کار میں نہیں آتے۔‘
ادھیکاری کے مطابق حکومت نے مئی میں ریاست کے تمام اضلاع میں حراستی مراکز قائم کیے تھے اور اب تک ان مراکز سے 4,800 بنگلہ دیشی باشندوں کو ملک بدر کیا جا چکا ہے۔
مزید پڑھیں: بنگلہ دیشی بارڈر فورس نے 17 افراد کو زبردستی ملک میں دھکیلنے کی بھارتی کوشش ناکام بنا دی
انہوں نے مزید بتایا کہ اس وقت 836 افراد حراستی مراکز میں موجود ہیں اور انہیں بھی جلد بنگلہ دیش واپس بھیجنے کے انتظامات کیے جا رہے ہیں۔
یہ مہم ایک ایسے پس منظر میں جاری ہے جہاں سرحدی ریاست میں امیگریشن کا مسئلہ طویل عرصے سے سیاسی تنازع کا باعث رہا ہے۔
بھارت کے بعض اعلیٰ حکام ماضی میں تارکین وطن کو ’دیمک‘ اور ’درانداز‘ قرار دے چکے ہیں۔

بی جے پی کی پالیسیوں اور بیانات نے بھارت کے 20 کروڑ سے زائد مسلمانوں میں بے چینی اور احساسِ محرومی کو بڑھایا ہے، کیونکہ حکومت مذہبی شناخت اور غیر قانونی ہجرت کو ایک دوسرے سے جوڑ کر پیش کرتی ہے۔
انسانی حقوق کی تنظیمیں اس سے قبل بھی بھارت پر الزام عائد کر چکی ہیں کہ وہ قانونی کارروائی مکمل کیے بغیر سینکڑوں بنگالی زبان بولنے والے مسلمانوں کو بنگلہ دیش دھکیل چکا ہے۔
مزید پڑھیں: بھارت اور بنگلہ دیش کی سرحد پر کشیدگی، سینکڑوں افراد ہولڈنگ سینٹرز میں منتقل
دوسری جانب 2024 میں ڈھاکا میں آنے والے سیاسی انقلاب کے بعد، جس نے سابق وزیر اعظم اور نئی دہلی کی قریبی اتحادی شیخ حسینہ کی حکومت کا خاتمہ کر دیا تھا، بھارت اور بنگلہ دیش کے تعلقات میں کشیدگی پیدا ہو گئی ہے، شیخ حسینہ حکومت کے خاتمے کے بعد بھارت منتقل ہو گئی تھیں۔













