وزیر اعظم اور صدر مملکت کی اہم ملاقات، بجٹ منظوری اور سیاسی مفاہمت کی راہ ہموار

منگل 9 جون 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

صدر مملکت آصف زرداری اور وزیراعظم شہباز شریف کے درمیان ایوان صدر میں ہونے والی اہم ملاقات نے نہ صرف وفاقی بجٹ کی منظوری کی راہ ہموار کر دی ہے بلکہ حکومتی اتحاد، پاکستان پیپلز پارٹی اور گلگت بلتستان کی نئی سیاسی صورتحال کے تناظر میں بھی کئی اہم امکانات کو جنم دیا ہے۔

ذرائع کے مطابق اس ملاقات سے قبل حکومت اور پاکستان پیپلز پارٹی کے درمیان بجٹ کے حوالے سے دو ادوار پر مشتمل مذاکرات ہو چکے تھے، تاہم حکومت پیپلز پارٹی کا مکمل اعتماد حاصل کرنے میں کامیاب نہیں ہو سکی تھی۔

یہ بھی پڑھیں: وفاقی بجٹ کی تاریخ پھر تبدیل ہونے کا امکان، حکومت کی مختلف آپشنز پر مشاورت

پیپلز پارٹی کی جانب سے صوبوں کے حقوق، ترقیاتی منصوبوں، عوامی ریلیف اور بجٹ ترجیحات سے متعلق متعدد تحفظات سامنے آئے تھے جس کے باعث بجٹ کی منظوری کے حوالے سے غیر یقینی کیفیت پیدا ہو گئی تھی۔

تاہم ایوان صدر میں ہونے والی ملاقات میں دونوں جانب سے مفاہمت اور سیاسی لچک کا مظاہرہ کیا گیا، جس کے نتیجے میں وفاقی بجٹ اور پبلک سیکٹر ڈویلپمنٹ پروگرام سمیت متعدد تجاویز پر اتفاق رائے پیدا ہوا اور ذرائع کے مطابق پیپلز پارٹی نے بجٹ کی منظوری کے لیے گرین سگنل دے دیا ہے، بعض تکنیکی امور پر مشاورت کے لیے کمیٹیاں اپنا کام جاری رکھیں گی۔

ملاقات میں صدر آصف علی زرداری نے عوامی فلاح، معاشی استحکام اور صوبوں کے حقوق کو آئندہ بجٹ کا بنیادی محور بنانے پر زور دیا جبکہ وزیراعظم شہباز شریف اور پیپلز پارٹی کی قیادت نے ملکی معیشت، قومی سلامتی، آزاد کشمیر، گلگت بلتستان، امن و امان اور علاقائی صورتحال پر بھی تفصیلی تبادلہ خیال کیا۔

سیاسی مبصرین کے مطابق ملاقات کے دوران گلگت بلتستان کے حالیہ انتخابات اور وہاں حکومت سازی کا معاملہ بھی زیر غور آیا۔ یہ موضوع اس وقت مزید اہمیت اختیار کر گیا ہے جب مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی کے رہنماؤں نے اس حوالے سے نمایاں سیاسی مؤقف اختیار کیا ہے۔

مزید پڑھیں: بجٹ کی منظوری سے قبل بلاول بھٹو اور اسحاق ڈار کی اہم ملاقات، کن اہم امور پر گفتگو ہوئی؟

مسلم لیگ (ن) کے سینئر رہنما خواجہ سعد رفیق نے کہا ہے کہ گلگت بلتستان اسمبلی میں سب سے بڑی جماعت ہونے کے ناطے حکومت بنانے کا پہلا حق پاکستان پیپلز پارٹی کو حاصل ہے، ان کا کہنا تھا کہ اگر پیپلز پارٹی حکومت بناتی ہے تو مسلم لیگ (ن) کو اتحاد میں شامل ہونے کے بجائے اپوزیشن میں بیٹھنا چاہیے۔

انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ طاقت کی تقسیم کے بجائے آئینی کرداروں پر توجہ دی جانی چاہیے اور حکومت و اپوزیشن کو مل کر گلگت بلتستان کی ترقی کے لیے ایک طویل المدتی روڈ میپ تشکیل دینا چاہیے۔

خواجہ سعد رفیق نے خطے کی پائیدار ترقی کے لیے ’چارٹر آف گلگت بلتستان‘ کی تجویز بھی پیش کی، دوسری جانب پاکستان پیپلز پارٹی کی رہنما شازیہ مری نے کہا ہے کہ یہ پرانی اور فرسودہ روایت کہ وفاق میں جس جماعت کی حکومت ہو، گلگت بلتستان میں بھی حکومت اسی کی بنے، عوام نے مسترد کر دی ہے۔

ان کے مطابق گلگت بلتستان کے عوام نے اپنا فیصلہ دے دیا ہے اور اس فیصلے کا احترام ہونا چاہیے۔ شازیہ مری کا کہنا تھا کہ پیپلز پارٹی اس وقت سنگل لارجسٹ پارٹی ہے اور اپنے نمبرز کی بنیاد پر حکومت بنانے کی پوزیشن میں ہے۔

انہوں نے یاد دلایا کہ ماضی میں جب کسی دوسری جماعت کے پاس اکثریت تھی تو پیپلز پارٹی نے اس کے حکومت بنانے کے حق کو تسلیم کیا تھا، لہٰذا اب دیگر جماعتوں کو بھی بڑے دل کا مظاہرہ کرتے ہوئے پیپلز پارٹی کو حکومت بنانے کا موقع دینا چاہیے۔

سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ خواجہ سعد رفیق اور شازیہ مری کے بیانات اس بات کا اشارہ ہیں کہ وفاق میں تعاون اور مفاہمت کی سیاست کو گلگت بلتستان میں بھی نئی شکل دی جا سکتی ہے۔

مزید پڑھیں: پیپلز پارٹی کے تحفظات دور نہ ہونے پر وفاقی بجٹ میں تاخیر، اتحادی جماعت حکومت سے کیا چاہتی ہے؟

اگرچہ حکومت سازی کا حتمی فیصلہ سیاسی جماعتوں کی مشاورت سے ہوگا، تاہم دونوں بڑی جماعتوں کے نرم مؤقف سے سیاسی کشیدگی میں کمی اور جمہوری عمل کے استحکام کی توقع پیدا ہوئی ہے۔

ملاقات میں قومی سلامتی، داخلی صورتحال، خطے کی بدلتی ہوئی سیاسی صورت حال اور کشمیر کے معاملے پر بھی گفتگو ہوئی۔

ذرائع کے مطابق پیپلز پارٹی نے حکومت کو کشمیر کے مسئلے پر مذاکرات اور سفارتی رابطوں کا راستہ اختیار کرنے کی تجویز دی جبکہ وزیر داخلہ محسن نقوی نے صدر مملکت کو اپنے حالیہ دورۂ ایران اور علاقائی سفارتی سرگرمیوں سے آگاہ کیا۔

مزید پڑھیں: سندھ سے بلوچستان، کشمیر تا گلگت: کیا پیپلز پارٹی موجودہ نظام کی سب سے بڑی بینیفشری بن چکی ہے؟

مبصرین کے مطابق ایوان صدر میں ہونے والی یہ ملاقات صرف بجٹ مشاورت تک محدود نہیں بلکہ حکومتی اتحاد کے مستقبل، گلگت بلتستان میں حکومت سازی، پارلیمانی استحکام اور قومی معاملات پر مشترکہ حکمت عملی کی جانب ایک اہم پیش رفت ثابت ہو سکتی ہے۔

 اگر موجودہ مفاہمت برقرار رہتی ہے تو نہ صرف وفاقی بجٹ کی منظوری آسان ہوگی بلکہ آنے والے مہینوں میں سیاسی استحکام اور قانون سازی کے عمل کو بھی تقویت مل سکتی ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp