سندھ سے بلوچستان، کشمیر تا گلگت: کیا پیپلز پارٹی موجودہ نظام کی سب سے بڑی بینیفشری بن چکی ہے؟

منگل 9 جون 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

پاکستان پیپلز پارٹی ایک جانب خود کو موجودہ سیاسی نظام کی سب سے بڑی بینیفشری قرار دیے جانے کے تاثر کو مسترد کرتی ہے لیکن دوسری جانب ملک کے مختلف حصوں میں اس کی سیاسی موجودگی اور آئینی عہدوں پر اس کا اثرورسوخ ایک مختلف تصویر پیش کرتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: گلگت بلتستان میں شفاف اور پرامن انتخابات جمہوریت کی کامیابی ہیں، پیپلز پارٹی اکثریتی جماعت بن کر ابھری، وزیراعظم شہباز شریف

سندھ میں پیپلز پارٹی برسراقتدار ہے جبکہ بلوچستان میں بھی وہ حکومتی اتحاد کا حصہ ہے۔ پنجاب اور خیبرپختونخوا میں گورنرز کا تعلق اسی جماعت سے ہے۔ وفاق میں صدر مملکت کا اہم آئینی منصب پیپلز پارٹی کے پاس ہے جبکہ چیئرمین سینیٹ بھی اسی جماعت سے تعلق رکھتے ہیں۔

اس کے علاوہ آزاد کشمیر میں بھی پیپلز پارٹی کا سیاسی اثر نمایاں ہے اور اب گلگت بلتستان میں بھی پارٹی کی حکومت بننے کے امکانات روشن دکھائی دے رہے ہیں۔

سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ملک کے مختلف حصوں میں اقتدار، آئینی مناصب اور فیصلہ سازی کے مراکز میں موجودگی کے باوجود اگر پیپلز پارٹی خود کو اس نظام کی بینیفشری نہیں سمجھتی تو یہ ایک دلچسپ سیاسی مؤقف ضرور ہے۔

ہم اتحادی نہیں، صرف حکومت کی حمایت کر رہے ہیں، قمر زمان کائرہ

پاکستان پیپلز پارٹی کے سینیئر رہنما قمر زمان کائرہ کا کہنا ہے کہ پیپلز پارٹی مسلم لیگ (ن) کی اتحادی جماعت نہیں بلکہ صرف حکومت کی حمایت کر رہی ہے اور باضابطہ طور پر حکومت کا حصہ نہیں ہے۔

وی نیوز سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے قمر زمان کائرہ نے کہا کہ گورنرز کے عہدے انتظامی اختیارات کے حامل نہیں ہوتے اس لیے صرف گورنرز کی موجودگی کو حکومت میں شمولیت قرار نہیں دیا جا سکتا۔

انہوں نے کہا کہ صدر مملکت کا انتخاب آئینی اور جمہوری عمل کے تحت ہوا اور مسلم لیگ (ن) نے اس انتخاب میں پیپلز پارٹی کی حمایت کی تاہم اس کا مطلب دونوں جماعتوں کے درمیان باضابطہ سیاسی اتحاد نہیں۔

مزید پڑھیے: گلگت بلتستان میں پیپلز پارٹی سب سے بڑی جماعت بن کر ابھر رہی ہے، حکومت بنانے کی کوشش کریں گے، بلاول بھٹو

قمر زمان کائرہ نے کہا کہ ہم مسلم لیگ (ن) کے اتحادی نہیں صرف حکومت کو سپورٹ کر رہے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہم حکومت کا حصہ نہیں بلکہ حمایت کرنے والی جماعت ہیں اور جہاں ہمارے مؤقف سے اختلاف ہو وہاں ہم حکومت کی مخالفت بھی کرتے ہیں۔

انتخابی تنازعات اور فارم 45 کا معاملہ

قمر زمان کائرہ نے کہا کہ انتخابات کے دوران جن حلقوں میں دھاندلی اور فارم 45 سے متعلق شکایات سامنے آئیں ان کے بارے میں پارٹی نے پہلے چیف الیکشن کمشنر، پھر متعلقہ حکام اور بعد ازاں میڈیا کو آگاہ کیا۔

ان کے مطابق بعض حلقوں کے نتائج اور فارم 47 کے معاملات اب بھی زیر غور ہیں اس لیے مکمل تصویر سامنے آنے کے بعد ہی حتمی تبصرہ کیا جا سکتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی کو بعض حلقوں میں ری کاؤنٹنگ سے بہتر نتائج کی امید ہے اور پارٹی اپنی حکومت بنانے کی خواہاں ہے۔

آزاد ارکان اور حکومت سازی

قمر زمان کائرہ کے مطابق آزاد امیدوار عموماً حکومت کے ساتھ شامل ہونا پسند کرتے ہیں تاکہ اپنے حلقوں میں ترقیاتی کام بہتر انداز میں کرا سکیں اسی لیے پیپلز پارٹی بھی آزاد ارکان کے ساتھ مل کر حکومت سازی کی کوشش کرے گی۔

انہوں نے کہا کہ جمہوری نظام کے استحکام کے لیے ایک مضبوط حکومت کے ساتھ ایک مؤثر اپوزیشن کا ہونا بھی ضروری ہے۔

مزید پڑھیں: بعض حکمران عناصر بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کو ختم کرنا چاہتے ہیں، تاہم پیپلز پارٹی ایسا نہیں ہونے دے گی، بلاول بھٹو

ان کے بقول بہتر یہی ہوگا کہ ایک جماعت حکومت بنائے جبکہ دوسری اپوزیشن میں بیٹھ کر نگرانی اور احتساب کا کردار ادا کرے۔

بجٹ، مشاورت اور سیاسی رابطے

وفاقی بجٹ اور حکومت کے ساتھ جاری مشاورت کے حوالے سے قمر زمان کائرہ نے بتایا کہ مسلسل ملاقاتیں اور رابطے جاری ہیں۔

انہوں نے کہا کہ حالیہ دنوں میں وزیراعظم، صدر مملکت، بلاول بھٹو زرداری اور دونوں جماعتوں کی قیادت کے درمیان اہم ملاقاتیں ہوئیں تاہم وہ ان ملاقاتوں کی تمام تفصیلات سے مکمل طور پر آگاہ نہیں۔

گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر میں سیاسی امکانات

گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر میں حکومت سازی سے متعلق سوال پر قمر زمان کائرہ نے کہا کہ اگر کسی جماعت نے انتخابات میں کامیابی حاصل کی ہے تو حکومت بنانا اس کا جمہوری حق ہے۔

انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی نے اپنے ووٹوں اور عوامی حمایت کی بنیاد پر کامیابیاں حاصل کی ہیں اور اسے کسی کی مہربانی قرار دینا درست نہیں۔

پی ٹی آئی سے تعلق رکھنے والے آزاد امیدواروں کی ممکنہ شمولیت سے متعلق انہوں نے کہا کہ آزاد ارکان اپنی سیاسی حکمت عملی کے مطابق فیصلے کرتے ہیں اور اکثر حکومت کے قریب رہنے کو ترجیح دیتے ہیں۔

ان کے مطابق اگر آزاد ارکان پیپلز پارٹی میں شامل ہونا چاہیں گے تو پارٹی ان کا خیرمقدم کرے گی تاہم دیگر سیاسی جماعتیں بھی انہیں اپنی طرف راغب کرنے کی کوشش کریں گی اور حتمی فیصلہ خود آزاد ارکان ہی کریں گے۔

’پیپلز پارٹی عددی قوت سے زیادہ سیاسی طاقت حاصل کر چکی ہے‘

سینیئر تجزیہ کار ابصار عالم کا کہنا ہے کہ پاکستان پیپلز پارٹی محدود پارلیمانی نشستوں کے باوجود ملک کے سیاسی و انتظامی نظام میں غیرمعمولی اثرورسوخ حاصل کرنے میں کامیاب رہی ہے اسی لیے اسے موجودہ سیاسی سیٹ اپ کی سب سے بڑی بینیفشری قرار دیا جا رہا ہے۔

ابصار عالم کے مطابق اگر گلگت بلتستان کے انتخابات میں پیپلز پارٹی مطلوبہ نتائج حاصل کر لیتی ہے تو وہ مسلم لیگ (ن) کے بغیر بھی حکومت بنانے کی پوزیشن میں آ سکتی ہے اگرچہ ایسی حکومت نسبتاً کمزور ہوگی اور اسے اتحادی تعاون درکار رہے گا۔

یہ بھی پڑھیے: 28ویں آئینی ترمیم کب پیش ہوگی؟ ن لیگ اور پیپلز پارٹی سمیت تمام جماعتیں کھل کر بات کرنے سے گریزاں

انہوں نے کہا کہ سندھ میں پیپلز پارٹی کی حکومت قائم ہے جبکہ بلوچستان میں بھی وہ حکومتی اتحاد کا حصہ ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ خیبرپختونخوا اور پنجاب کے گورنرز، صدرِ مملکت اور چیئرمین سینیٹ سمیت متعدد اہم آئینی عہدے بھی پیپلز پارٹی کے پاس ہیں۔

ان کے مطابق گلگت بلتستان میں حکومت بننے کے امکانات روشن ہیں جبکہ آزاد کشمیر میں پہلے ہی پارٹی کی حکومت موجود ہے۔

ابصار عالم کا کہنا تھا کہ گلگت بلتستان چین کے ساتھ تجارتی روابط اور علاقائی اہمیت کے باعث ایک انتہائی اہم خطہ ہے جس سے پیپلز پارٹی کی سیاسی پوزیشن مزید مضبوط ہو سکتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ قومی اسمبلی میں نشستوں کی تعداد کے اعتبار سے پیپلز پارٹی ملک کی سب سے بڑی جماعت نہیں لیکن سیاسی حکمت عملی اور مفاہمتی سیاست کے ذریعے اس نے اپنے عددی وزن سے کہیں زیادہ سیاسی حصہ حاصل کیا ہے۔

مزید پڑھیں: امریکا ایران مذاکرات، پیپلز پارٹی کا کردار پسِ منظر میں کیوں؟

ان کے بقول ’حصہ بقدرِ جثہ‘ کے اصول کے برعکس پیپلز پارٹی نے اپنی سیاسی مہارت سے طاقت کے مراکز میں نمایاں جگہ بنائی ہے۔

این ایف سی ایوارڈ اور سیاسی بارگیننگ

ابصار عالم کے مطابق وفاقی حکومت اور پیپلز پارٹی کے درمیان تعلقات میں سب سے اہم عنصر سیاسی بارگیننگ ہے۔

انہوں نے کہا کہ موجودہ بجٹ کی منظوری کے لیے وفاقی حکومت کو پیپلز پارٹی کی حمایت درکار ہے کیونکہ اس کے بغیر بجٹ کی منظوری مشکل اور پیچیدہ عمل بن سکتا ہے۔

انہوں نے نیشنل فنانس کمیشن (این ایف سی) ایوارڈ کے معاملے کو بھی اہم قرار دیتے ہوئے کہا کہ وفاقی حکومت مالی دباؤ کا شکار ہے۔

ان کے مطابق وفاق یہ چاہتا ہے کہ صوبے اپنے وسائل میں سے تقریباً 1700 ارب روپے فراہم کریں تاکہ قرضوں اور دیگر اخراجات کا بوجھ کم کیا جا سکے، تاہم صوبے اس تجویز پر تحفظات رکھتے ہیں۔

ابصار عالم نے کہا کہ این ایف سی ایوارڈ کے تحت وفاق آئینی طور پر صوبوں کو ان کا حصہ دینے کا پابند ہے جس کے بعد وفاق کے پاس دفاعی اخراجات اور قرضوں کی ادائیگی کے لیے وسائل محدود رہ جاتے ہیں۔

مزید پڑھیے: پیپلز پارٹی کے تحفظات دور نہ ہونے پر وفاقی بجٹ میں تاخیر، اتحادی جماعت حکومت سے کیا چاہتی ہے؟

ان کے بقول یہی وجہ ہے کہ وفاقی حکومت کو مالی اور سیاسی دونوں محاذوں پر پیپلز پارٹی سمیت صوبائی حکومتوں کے تعاون کی ضرورت ہے۔

انہوں نے کہا کہ موجودہ سیاسی منظرنامے میں پیپلز پارٹی نہ صرف مختلف آئینی اور انتظامی عہدوں پر موجود ہے بلکہ وفاقی سیاست میں بھی ایک ایسی قوت بن چکی ہے جس کی حمایت کے بغیر اہم حکومتی فیصلوں کو آگے بڑھانا مشکل دکھائی دیتا ہے۔

حکومت سے فاصلہ رکھنے کی حکمت عملی فائدہ دے رہی ہے، احمد ولید

سینیئر تجزیہ کار احمد ولید کا کہنا ہے کہ گلگت بلتستان کے انتخابات میں پاکستان پیپلز پارٹی کو توقعات کے برعکس نمایاں کامیابی حاصل ہوئی ہے۔

ان کے مطابق سیاسی حلقوں میں یہ اندازہ نہیں لگایا جا رہا تھا کہ پیپلز پارٹی اس قدر بہتر نتائج حاصل کر سکے گی۔

احمد ولید نے کہا کہ پیپلز پارٹی نے وفاقی حکومت میں باقاعدہ شامل ہونے کے بجائے باہر رہ کر حمایت کرنے کا جو فیصلہ کیا تھا، اس کا سیاسی فائدہ اسے ملنا شروع ہو گیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ اگرچہ پارٹی کو وزارتوں کی پیشکش کی گئی تھی تاہم قیادت نے حکومت کا حصہ بننے کے بجائے الگ رہنے کو ترجیح دی اور اب اس حکمت عملی کے مثبت نتائج سامنے آ رہے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: بجٹ میں ریلیف یا مہنگائی کا طوفان؟ ن لیگ اور پیپلز پارٹی میں ڈیڈلاک برقرار

ان کے مطابق گلگت بلتستان کے نتائج ظاہر کرتے ہیں کہ حکومتی اتحاد سے فاصلہ رکھنے کی پالیسی پیپلز پارٹی کے لیے سودمند ثابت ہوئی ہے اور آئندہ آزاد کشمیر کے انتخابات میں بھی اسی نوعیت کے نتائج سامنے آنے کا امکان ہے۔

’مہنگائی، عوامی ناراضی اور سیاسی فائدہ‘

احمد ولید کا کہنا تھا کہ ملک بھر میں عوام مہنگائی، بے روزگاری، سرمایہ کاری میں کمی اور معاشی مشکلات سے پریشان ہیں جس کا سیاسی نقصان مسلم لیگ (ن) کو پہنچ رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ بڑھتی ہوئی مہنگائی اور پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے نے عوامی ناراضی میں اضافہ کیا ہے، جس سے اپوزیشن جماعتوں کو سیاسی فائدہ مل رہا ہے۔

پنجاب کی صورتحال پر تبصرہ کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اگرچہ وزیراعلیٰ مریم نواز مختلف ترقیاتی منصوبے متعارف کرا رہی ہیں تاہم عام شہریوں کو براہِ راست ریلیف محسوس نہیں ہو رہا۔

ان کے مطابق عوام کے بنیادی مسائل مہنگائی، روزگار اور معاشی مشکلات ہیں اسی وجہ سے حکومتی کارکردگی پر سوالات اٹھ رہے ہیں۔

مزید پڑھیے: بلاول بھٹو سے وزیراعظم آزاد کشمیر کی ملاقات، ترقیاتی امور اور سیاسی صورتحال پر تبادلہ خیال

انہوں نے مزید کہا کہ پنجاب سمیت ملک کے مختلف علاقوں میں مہنگائی اور معاشی دباؤ کے حوالے سے شدید تشویش پائی جاتی ہے جس کے سیاسی اثرات آنے والے انتخابات میں مزید نمایاں ہو سکتے ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

مغربی بنگال میں بی جے پی حکومت کا کریک ڈاؤن، تقریباً 5 ہزار بنگلہ دیشی شہری بے دخل

بھارت میں ’کاکروچ جنتا پارٹی‘ کی دھوم، نوجوانوں نے مودی کے ہندو مسلم بیانیے کو چیلنج کردیا

امریکی عدالت نے ٹرمپ کا ایک لاکھ ڈالر ’ایچ ون بی‘ ویزا فیس فیصلہ کالعدم قرار دے دیا

امریکا نے افریقہ کے بہترین صومالی ریفری کو ورلڈ کپ سے باہر کر دیا، فیفا کی تصدیق

بلوچستان کا کوئی بچہ اب ٹاٹ پر بیٹھ کر نہیں پڑھے گا، وزیراعلیٰ سرفراز بگٹی کے انقلابی اعلانات

ویڈیو

خیبرپختونخوا میں پی ٹی آئی حکومت کو مشکلات، کیا ناراض اراکین بجٹ میں رکاوٹ ڈال رہے ہیں؟

گلگت بلتستان کے انتخابات میں پیپلز پارٹی کامیاب، مسلم لیگ ن کو شکست کی وجہ کیا بنی؟

جان بھی چلی جاتی تو افسوس نہ ہوتا، لیڈی ڈاکٹر ماہ نور کو بچانے والے عبدالرزاق کی داستان

کالم / تجزیہ

میں انس عبیداللہ عابد کے جنازے میں کیوں نہیں گیا؟

کشمیر ایکشن کمیٹی کیا چاہتی ہے؟

فیض اور ایلس کا کتابوں سے اٹوٹ رشتہ