الیکشن کمیشن گلگت بلتستان نے 5 انتخابی حلقوں کے 26 پولنگ اسٹیشنز پر دوبارہ پولنگ کرانے کے احکامات جاری کرتے ہوئے حتمی نتائج کا اعلان عارضی طور پر روک دیا ہے۔
الیکشن کمیشن کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن میں کہا گیا ہے کہ ان حلقوں کے نتائج اس وقت تک حتمی قرار نہیں دیے جا سکتے جب تک متاثرہ پولنگ اسٹیشنز پر دوبارہ ووٹنگ مکمل ہو کر نتائج مرتب نہیں ہو جاتے۔
مزید پڑھیں: گلگت بلتستان الیکشن: تمام حلقوں کے ریٹرننگ افسران کو فارم 45 جاری کرنے کی ہدایت
چیف الیکشن کمشنر گلگت بلتستان راجا شہباز خان نے جی بی اے 8 اسکردو، جی بی اے 13 استور، جی بی اے 15 دیامر، جی بی اے 16 دیامر اور جی بی اے 17 دیامر کے 26 پولنگ اسٹیشنز پر 7 جون کو ہونے والی پولنگ کو کالعدم قرار دیتے ہوئے 15 جون کو دوبارہ پولنگ کرانے کی ہدایت جاری کی ہے۔
الیکشن کمیشن کے مطابق ان پولنگ اسٹیشنز پر نتائج کے حوالے سے شکایات موصول ہوئی تھیں۔
الیکشن کمیشن نے متعلقہ حلقوں میں دوبارہ پولنگ کے لیے تمام انتظامات یقینی بنانے کی بھی ہدایت کی ہے تاکہ ووٹرز پرامن ماحول میں اپنا حقِ رائے دہی استعمال کر سکیں۔
ابتدائی غیر سرکاری نتائج
گلگت بلتستان قانون ساز اسمبلی کی 24 عام نشستوں کے لیے 7 جون کو انتخابات ہوئے تھے۔ الیکشن کمیشن کے مطابق مجموعی طور پر کوئی بڑا ناخوشگوار واقعہ پیش نہیں آیا، تاہم حتمی نتائج کا اعلان ابھی نہیں کیا گیا۔
غیر سرکاری اور غیر حتمی نتائج کے مطابق پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) 9 نشستوں کے ساتھ سب سے آگے ہے۔ پاکستان مسلم لیگ (ن) اور آزاد امیدوار 5،5 نشستیں حاصل کرنے میں کامیاب رہے۔
ابتدائی نتائج کے مطابق پیپلز پارٹی نے جی بی اے 1، جی بی اے 4، جی بی اے 6، جی بی اے 7، جی بی اے 9، جی بی اے 10، جی بی اے 11، جی بی اے 12 اور جی بی اے 19 میں کامیابی حاصل کی ہے۔
مسلم لیگ (ن) نے جی بی اے 2، جی بی اے 14، جی بی اے 18، جی بی اے 20 اور جی بی اے 22 میں کامیابی حاصل کی، جبکہ آزاد امیدوار جی بی اے 3، جی بی اے 5، جی بی اے 21، جی بی اے 23 اور جی بی اے 24 سے کامیاب قرار پائے ہیں۔
الیکشن کمیشن گلگت بلتستان نے انتخابات کے مجموعی انعقاد پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ پولنگ پرامن ماحول میں ہوئی اور ٹرن آؤٹ تقریباً 70 فیصد رہا۔
وفاقی حکومت اور پاکستان مسلم لیگ (ن) کی جانب سے پیپلز پارٹی کو ممکنہ کامیابی پر مبارکباد دی گئی ہے۔ وزیرِاعظم نے بھی پیپلز پارٹی کو مبارکباد دی ہے۔
دوسری جانب بعض اپوزیشن جماعتوں نے نتائج کو مسترد کرتے ہوئے دھاندلی کے الزامات عائد کیے ہیں۔ جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے انتخابات میں بے ضابطگیوں کے الزامات لگاتے ہوئے نتائج کو تسلیم کرنے سے انکار کیا ہے۔
مجلس وحدت مسلمین کے سینیٹر اور قائد حزب سینیٹ اختلاف راجا ناصر عباس نے بھی نتائج میں تاخیر اور بعض حلقوں میں انتخابی عمل پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے شفافیت پر سنگین سوالات اٹھائے ہیں۔
مزید پڑھیں: گلگت بلتستان الیکشن: شہری دشوار گزار راستوں کے باوجود ووٹ کاسٹ کرنے نکل پڑے
واضح رہے کہ گلگت بلتستان اسمبلی کی 24 نشستوں پر 7 جون کو انتخابات ہوئے تھے۔ حتمی نتائج 15 جون کو ہونے والی دوبارہ پولنگ کے بعد ہی سامنے آئیں گے، جس کے بعد یہ واضح ہوگا کہ 24 رکنی ایوان میں حکومت سازی کے لیے کس جماعت کو برتری حاصل ہوتی ہے۔














