بلوچستان میں خواتین پر تشدد اور صنفی بنیادوں پر جرائم کے واقعات تشویشناک حد تک بڑھتے دکھائی دے رہے ہیں۔ سال 2026 کے دوران خواتین کے خلاف تشدد کے متعدد واقعات نہ صرف میڈیا کی توجہ کا مرکز بنے بلکہ صوبے میں خواتین کے تحفظ اور حقوق سے متعلق سنجیدہ سوالات بھی اٹھاتے رہے۔
یہ بھی پڑھیں: جان بھی چلی جاتی تو افسوس نہ ہوتا، لیڈی ڈاکٹر ماہ نور کو بچانے والے عبدالرزاق کی داستان
انسانی حقوق کی تنظیموں اور مختلف میڈیا رپورٹس کے مطابق رواں سال کے ابتدائی مہینوں میں غیرت کے نام پر قتل کے کم از کم 2 واقعات رپورٹ ہوئے جبکہ ایک خاتون کی جبری گمشدگی کا معاملہ بھی منظرِ عام پر آیا۔ اسی عرصے کے دوران صوبے کے مختلف اضلاع میں بدامنی، مسلح حملوں اور پرتشدد واقعات کے نتیجے میں خواتین شہری بھی متاثر ہوئیں۔
مئی 2026 میں تربت میں لیڈی کانسٹیبل شکیلہ کو فائرنگ کر کے قتل کر دیا گیا جس کے بعد خواتین کے تحفظ اور قانون نافذ کرنے والے اداروں میں خدمات انجام دینے والی خواتین کی سیکیورٹی کے حوالے سے تشویش مزید بڑھ گئی۔ اگرچہ سال 2026 کے مکمل اور مصدقہ سالانہ اعداد و شمار ابھی تک دستیاب نہیں ہیں تاہم سامنے آنے والے واقعات اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ بلوچستان میں خواتین کو درپیش خطرات اور صنفی بنیادوں پر تشدد ایک سنگین سماجی مسئلہ بنتا جا رہا ہے۔
حالیہ دنوں میں کوئٹہ کی رہائشی ڈاکٹر ماہ نور پر مبینہ تیزاب گردی کے واقعے نے ایک بار پھر بلوچستان میں خواتین کے تحفظ، انصاف کی فراہمی اور صنفی بنیادوں پر تشدد کے بڑھتے ہوئے رجحان پر سنگین سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ یہ واقعہ محض ایک فرد پر حملہ نہیں بلکہ اس وسیع تر سماجی مسئلے کی عکاسی کرتا ہے جس کا سامنا بلوچستان سمیت ملک بھر کی خواتین کو مختلف شکلوں میں کرنا پڑ رہا ہے۔
ماہرین اور انسانی حقوق کے کارکنوں کے مطابق خواتین کے خلاف تشدد، ہراسانی، جبری گمشدگیوں، غیرت کے نام پر قتل اور تیزاب گردی جیسے جرائم نہ صرف خواتین کی جان و مال کے لیے خطرہ ہیں بلکہ انصاف اور تحفظ کے ریاستی نظام کی مؤثریت پر بھی سوالیہ نشان بن رہے ہیں۔ ڈاکٹر ماہ نور کا واقعہ اسی تشویشناک صورتِ حال کی ایک تازہ مثال کے طور پر دیکھا جا رہا ہے جس نے خواتین کے تحفظ سے متعلق حکومتی اقدامات اور قانون کے نفاذ پر نئی بحث چھیڑ دی ہے۔
مزید پڑھیے: تیزاب گردی کی شکار ڈاکٹر ماہ نور کی حالت اب کیسی ہے؟
وزارت انسانی حقوق کے مطابق نیشنل پولیس بیورو کے پاس دستیاب اعداد و شمار ظاہر کرتے ہیں کہ سنہ 2021 سے سنہ 2024 کے دوران ملک بھر میں خواتین کے خلاف تشدد کے ہزاروں واقعات رپورٹ ہوئے۔ اس عرصے میں خواتین کے قتل کے 5 ہزار 948، جسمانی تشدد اور مارپیٹ کے 8 ہزار 799 جبکہ گھریلو تشدد کی مختلف اقسام کے 2 ہزار 304 مقدمات درج کیے گئے۔
اعداد و شمار کے مطابق انہی چار برسوں کے دوران غیرت کے نام پر قتل کے ایک ہزار 553 واقعات میں خواتین اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھیں جبکہ تیزاب گردی کے 127 اور چولہا جلنے یا آگ سے جھلسنے کے 300 واقعات بھی ریکارڈ کا حصہ بنے۔ ماہرین کے مطابق یہ اعداد و شمار خواتین کو درپیش خطرات اور صنفی بنیادوں پر تشدد کی سنگینی کو اجاگر کرتے ہیں جبکہ اس بات کی بھی نشاندہی کرتے ہیں کہ تحفظ اور انصاف کے نظام کو مزید مؤثر بنانے کی ضرورت بدستور موجود ہے۔
بلوچستان میں خواتین کے حقوق اور تحفظ کے لیے کام کرنے والی مختلف غیر سرکاری تنظیموں اور فاؤنڈیشنز کی رپورٹس بھی صورتحال کی سنگینی کی نشاندہی کرتی ہیں۔
دستیاب اعداد و شمار کے مطابق سال 2019 میں خواتین پر تشدد اور قتل کے 82 واقعات رپورٹ ہوئے، جن میں 30 خواتین کو قتل جبکہ 52 کو غیرت کے نام پر موت کے گھاٹ اتارا گیا۔ سال 2020 میں ایسے واقعات کی تعداد 84 رہی جن میں 33 خواتین قتل اور 51 غیرت کے نام پر قتل کی گئیں۔ سال 2021 میں مجموعی طور پر 36 خواتین جان سے ہاتھ دھو بیٹھیں جبکہ سنہ 2022 میں 76 خواتین تشدد اور قتل کے واقعات کا شکار بنیں۔ سال 2023 اور سال 2024 میں بھی صورتحال تشویشناک رہی اور دونوں برسوں میں 52، 52 خواتین مختلف پرتشدد واقعات میں اپنی جانوں سے محروم ہوئیں۔
مزید پڑھیں: کوئٹہ سول اسپتال میں خاتون ڈاکٹر پر تیزاب سے حملہ، مبینہ ملزم پولیس مقابلے میں ہلاک
تاہم انسانی حقوق کے کارکنوں اور مقامی تنظیموں کے مطابق سنہ 2025 خواتین کے خلاف تشدد کے حوالے سے حالیہ برسوں کا بدترین سال ثابت ہوا جس میں صنفی بنیادوں پر جرائم اور غیرت کے نام پر قتل کے واقعات میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا۔
صوبائی پولیس کے خواتین اور بچوں کے سہولت مرکز کی رپورٹ کے مطابق سال 2025 کے دوران خواتین اور کمزور طبقات کے خلاف مختلف نوعیت کے جرائم کے متعدد واقعات رپورٹ ہوئے۔ اعداد و شمار کے مطابق ہراسانی کے 35، گھریلو تشدد کے 37، خواتین کی گمشدگی کے 4، دھمکیوں کے 4 اور بلیک میلنگ کے 14 واقعات درج کیے گئے۔ اسی عرصے میں بینک ٹرانزیکشن فراڈ کے 8، دیگر مالیاتی فراڈ کے 8 جبکہ ڈیجیٹل تشدد کا ایک واقعہ بھی رپورٹ ہوا۔
رپورٹ کے مطابق 8 خواتین نے تحفظ اور قانونی معاونت کے لیے درخواستیں جمع کرائیں جبکہ ایک ٹرانس جینڈر فرد پر تشدد کا مقدمہ بھی درج کیا گیا۔ متاثرین کی معاونت کے لیے پولیس نے 18 خواتین کو مشاورتی خدمات اور 20 کو ابتدائی طبی امداد فراہم کی جبکہ مجموعی طور پر 38 متاثرین کے لیے کونسلنگ سیشنز کا انعقاد کیا گیا تاکہ انہیں نفسیاتی اور قانونی معاونت مہیا کی جا سکے۔
ماہرین کے مطابق بلوچستان میں خواتین کے خلاف تشدد کے بڑھتے ہوئے واقعات صرف قانون نافذ کرنے والے اداروں یا عدالتی نظام کا مسئلہ نہیں بلکہ ایک گہرا سماجی، ثقافتی اور رویّاتی چیلنج بھی ہیں۔
وہ کہتے ہیں کہ غیرت کے نام پر قتل، گھریلو تشدد، ہراسانی، جبری گمشدگیوں، ڈیجیٹل استحصال اور تیزاب گردی جیسے جرائم اس امر کی نشاندہی کرتے ہیں کہ خواتین کے تحفظ کے لیے بنائے گئے قوانین کے باوجود ان پر مؤثر عملدرآمد ایک بڑا سوال بنا ہوا ہے۔
یہ بھی پڑھیے: غیرت کے نام پر قتل خلاف اسلام قرار، اسلامی نظریاتی کونسل نے اہم قانونی معاملات پر رائے دیدی
ماہرین کا کہنا ہے کہ خواتین کے خلاف تشدد کے خاتمے کے لیے صرف قانونی کارروائیاں کافی نہیں بلکہ فوری اور مؤثر انصاف کی فراہمی، متاثرین کے لیے مضبوط حفاظتی نظام، عوامی آگاہی اور معاشرتی رویوں میں بنیادی تبدیلی ناگزیر ہے۔ ان کے مطابق جب تک خواتین کے حقوق، وقار اور تحفظ کو سماجی سطح پر تسلیم نہیں کیا جاتا ایسے واقعات کی روک تھام ایک مسلسل چیلنج بنی رہے گی۔
تجزیہ کاروں اور انسانی حقوق کے کارکنوں کا کہنا ہے کہ اگرچہ خواتین کے تحفظ کے لیے قوانین، پالیسی فریم ورک اور مختلف ادارے موجود ہیں تاہم متاثرہ خواتین کو بروقت انصاف، مؤثر قانونی معاونت اور سماجی تحفظ کی فراہمی اب بھی ایک بڑا چیلنج بنی ہوئی ہے۔ ان کے مطابق قانون سازی کے ساتھ ساتھ اس پر سختی سے عملدرآمد، متاثرین کی بحالی اور سماجی شعور اجاگر کرنے کی ضرورت ہے تاکہ خواتین کے خلاف تشدد کے واقعات میں حقیقی کمی لائی جا سکے۔
مزید پڑھیں: بلوچستان: غیرت کے نام پر قتل، ایف آئی آر میں کیا لکھا گیا؟
ماہ نور پر مبینہ تیزاب گردی کا واقعہ اور خواتین کے خلاف تشدد کے مسلسل سامنے آنے والے واقعات اس حقیقت کی یاد دہانی ہیں کہ بلوچستان سمیت پورے ملک میں خواتین کے تحفظ کو محض پالیسی دستاویزات تک محدود رکھنے کے بجائے عملی اور ترجیحی بنیادوں پر یقینی بنانا ہوگا۔ ماہرین کے مطابق جب تک خواتین کو محفوظ، بااختیار اور مساوی شہری کے طور پر قبول نہیں کیا جاتا تشدد کے یہ واقعات معاشرے کے لیے ایک سنگین چیلنج بنے رہیں گے۔













