وفاقی حکومت مالی سال 27-2026 کا بجٹ 12 جون کو پیش کرنے جا رہی ہے اور اس موقعے پر ملک کا سب سے بڑا آبادیاتی طبقہ یعنی نوجوان بجٹ سے خاصی توقعات وابستہ کیے ہوئے ہے۔
یہ بھی پڑھیں: بجٹ 27-2026: تنخواہ دار طبقے کو ٹیکس ریلیف دینے کا حکومتی منصوبہ، مگر ’آئی ایم ایف‘ کیا کہتا ہے؟
نوجوانوں کی نظریں اس بات پر مرکوز ہیں کہ حکومت ان کی تعلیم، روزگار، ہنر مندی، کاروباری مواقع اور ڈیجیٹل سہولیات کے فروغ کے لیے کون سی نئی تجاویز اور مراعات متعارف کراتی ہے۔
حکومت پہلے ہی یہ عندیہ دے چکی ہے کہ آئندہ بجٹ میں نوجوانوں کی ترقی، روزگار، فنی تعلیم اور کاروباری سرگرمیوں کے فروغ کو خصوصی ترجیح دی جائے گی۔
حکومتی مؤقف کے مطابق پاکستان کی آبادی کا بڑا حصہ نوجوانوں پر مشتمل ہے اس لیے قومی ترقی کے اہداف کے حصول کے لیے نوجوانوں کو معاشی دھارے میں شامل کرنا ناگزیر ہے۔
معاشی امور پر گہری نظر رکھنے والے سینیئر صحافی مہتاب حیدر کے مطابق بجٹ دستاویزات اور حکومتی اعلانات سے ظاہر ہوتا ہے کہ نوجوانوں کے لیے ہنر مندی، آئی ٹی تربیت، کاروباری قرضوں، اعلیٰ تعلیم اور بیرون ملک روزگار کے مواقع بڑھانے کے لیے متعدد اقدامات زیر غور ہیں۔
ان کے مطابق وزیراعظم یوتھ پروگرام کے تحت نوجوانوں کو روزگار اور خود روزگاری کی جانب راغب کرنے کے لیے قرضہ اسکیموں اور تربیتی پروگراموں کو مزید وسعت دینے کی تجاویز بھی شامل ہیں۔
مزید پڑھیے: بجٹ سے قبل سولر پینلز کی قیمتوں میں اچانک بڑے اضافے کی وجہ کیا ہے؟
مہتاب حیدر کا کہنا ہے کہ فی الحال تو یہی سننے میں آیا ہے، مزید حکومت کا کیا لائحہ عمل ہوگا اس کا واضح اندازہ بجٹ پیش ہونے کے بعد ہی ہو سکے گا۔
مختلف میڈیا رپورٹس کے مطابق حکومت نے تکنیکی اور پیشہ ورانہ تعلیم کے شعبے کے لیے 19 ارب روپے مختص کرنے کی تجویز دی ہے تاکہ نوجوانوں کو مارکیٹ کی ضروریات کے مطابق مہارتیں فراہم کی جا سکیں۔
ان پروگراموں میں آئی ٹی، مصنوعی ذہانت، فری لانسنگ، ڈیجیٹل مارکیٹنگ اور مختلف غیر ملکی زبانوں کی تعلیم شامل ہوگی جس کا مقصد پاکستانی نوجوانوں کے لیے ملکی اور بین الاقوامی سطح پر روزگار کے نئے مواقع پیدا کرنا ہے۔
معاشی ماہر راجہ کامران کے مطابق بجٹ میں نوجوانوں کی کاروباری صلاحیتوں کو فروغ دینے پر بھی خصوصی توجہ دی گئی ہے۔
ان کے مطابق وزیراعظم یوتھ پروگرام کے تحت آسان شرائط پر قرضوں کی فراہمی کا سلسلہ جاری رکھا جائے گا تاکہ نوجوان اپنے کاروبار شروع کر سکیں اور خود روزگار حاصل کرنے کے ساتھ ساتھ دوسروں کے لیے بھی ملازمتوں کے مواقع پیدا کر سکیں۔
مزید پڑھیں: بجٹ 27-2026: گزشتہ بجٹ کے مقابلے میں اس بار عوام کو کون سے ریلیف فراہم کیے جا سکتے ہیں؟
حکومتی حکام کا کہنا ہے کہ نوجوانوں کو صرف ملازمت کے متلاشی نہیں بلکہ کاروبار اور سرمایہ کاری کے ذریعے روزگار پیدا کرنے والے افراد بنانا حکومت کا بنیادی مقصد ہے۔
ان کے مطابق حکومت نوجوانوں کو ڈیجیٹل معیشت کا فعال حصہ بنانے کے لیے ’ڈیجیٹل یوتھ ہب‘ کو مزید مؤثر بنانے کا بھی ارادہ رکھتی ہے۔
یہ پلیٹ فارم پہلے ہی لاکھوں نوجوانوں اور ہزاروں کمپنیوں کو آپس میں جوڑ چکا ہے جہاں ملازمت، تربیت، انٹرن شپ اور کاروباری مواقع تک رسائی فراہم کی جاتی ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ اعلیٰ تعلیم کے شعبے میں بھی نوجوانوں کو سہولت دینے کے لیے بجٹ میں مختلف اقدامات شامل کیے جا رہے ہیں۔
تعلیمی ترقیاتی منصوبوں، ہائر ایجوکیشن اور مہارتوں کے فروغ کے لیے اربوں روپے مختص کیے جانے کی تجویز ہے تاکہ نوجوان جدید تعلیم، تحقیق اور جدت کے مواقع سے بھرپور فائدہ اٹھا سکیں۔
حکومت نے یہ بھی اعلان کیا ہے کہ مختلف ممالک میں پاکستانی افرادی قوت کے لیے نئے مواقع تلاش کیے جا رہے ہیں، جبکہ نوجوانوں کو جاپانی، جرمن، عربی، فرانسیسی، کورین اور انگریزی زبانوں کی تربیت دے کر بیرونِ ملک روزگار کے لیے تیار کیا جائے گا۔
یہ بھی پڑھیے: آئندہ بجٹ میں ٹیکسوں اور ڈیوٹی میں تبدیلی سے گاڑیاں کتنی مہنگی یا سستی ہوں گی؟
ماہرین کے مطابق اگر بجٹ میں اعلان کردہ منصوبوں پر مؤثر انداز میں عمل درآمد کیا گیا تو نہ صرف نوجوانوں میں بے روزگاری کی شرح کم ہو سکتی ہے بلکہ ملکی معیشت کو بھی مثبت نتائج حاصل ہو سکتے ہیں۔
تاہم ماہرین اس بات پر زور دیتے ہیں کہ صرف اعلانات کافی نہیں ہوں گے بلکہ عملی اقدامات، شفاف نگرانی اور مؤثر عمل درآمد ہی ان منصوبوں کی کامیابی کی ضمانت بن سکتے ہیں تاکہ نوجوان حقیقی معنوں میں ان پروگراموں سے مستفید ہو سکیں۔
مجموعی طور پر بجٹ 27-2026 میں نوجوانوں کے لیے ہنر مندی، آئی ٹی ٹریننگ، آسان قرضوں، اسکالرشپس، ڈیجیٹل مواقع، اعلیٰ تعلیم اور بیرون ملک روزگار کے امکانات بڑھانے پر توجہ دی گئی ہے جسے حکومت نوجوانوں کی معاشی خودمختاری کی جانب ایک اہم قدم قرار دے رہی ہے۔
مزید پڑھیں: وزیر اعظم اور صدر مملکت کی اہم ملاقات، بجٹ منظوری اور سیاسی مفاہمت کی راہ ہموار
اب دیکھنا یہ ہے کہ آنے والا بجٹ نوجوانوں کی امیدوں پر کتنا پورا اترتا ہے اور ان کے روشن مستقبل کے لیے کیا عملی اقدامات سامنے لاتا ہے۔













