کئی برس بعد راول جھیل میں نظر آنے والے نایاب مہاجر آبی پرندے فلیمنگوز کے غیر قانونی شکار کا افسوسناک واقعہ سامنے آیا ہے جس میں مبینہ طور پر 10 سے 12 فلیمنگوز کا شکار کیا گیا ہے۔
یہ واقعہ گزشتہ ہفتے راول جھیل کے اطراف پیش آیا جہاں بعض شکاریوں نے مقامی افراد کی مبینہ معاونت سے ان مہاجر پرندوں کو نشانہ بنایا۔
یہ بھی پڑھیں: F-6 کیفے کی مبینہ ڈانس پارٹی تنازعے کا شکار، ویڈیو وائرل ہونے کے بعد مقدمہ درج
واقعے کے بعد اسلام آباد وائلڈ لائف مینجمنٹ بورڈ نے فوری نوٹس لیتے ہوئے شواہد اکٹھے کیے۔ ابتدائی تحقیقات میں ایسے شواہد بھی ملے ہیں جن سے ظاہر ہوتا ہے کہ پرندوں کو موقع پر ہی پکایا اور استعمال کیا گیا۔
محکمے کے ایک سینیئر افسر کے مطابق جائے وقوعہ سے فلیمنگوز کے جسمانی باقیات برآمد ہوئی ہیں، جو اس بات کی ابتدائی تصدیق کرتی ہیں کہ یہاں غیر قانونی شکار اور ممکنہ طور پر ان کا استعمال بھی کیا گیا۔ حکام نے بتایا کہ واقعے کے وقت، مقام اور اس میں ملوث افراد کی شناخت کے لیے مزید تحقیقات جاری ہیں۔
یہ واقعہ جنگلی حیات کے تحفظ سے متعلق قوانین پر عملدرآمد پر ایک بار پھر سوالات اٹھا رہا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: گلگت: غیر قانونی شکار پر ملزم کو 2 سال قید اور 2 لاکھ روپے جرمانہ کی سزا
واضح رہے کہ فلیمنگوز دنیا کے خوبصورت اور نایاب مہاجر آبی پرندوں میں شمار ہوتے ہیں جو طویل فاصلے طے کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں اور عموماً جھیلوں اور دلدلی علاقوں میں قیام کرتے ہیں۔














