نیویارک کی ایک عدالت نے طالبان کے سابق کمانڈر حاجی نجیب اللہ کو امریکی صحافی ڈیوڈ روہڈ اور ان کے 2 ساتھیوں کے اغوا کے جرم میں 42 سال قید کی سزا سنائی ہے۔
امریکی وفاقی پروسیکیوٹرز نے منگل 9 جون کو اعلان کیا کہ نجیب اللہ نے 2008 میں امریکی صحافی ڈیوڈ روہڈ، ان کے افغان مترجم اور ڈرائیور کے اغوا میں براہِ راست کردار ادا کیا تھا۔
یہ بھی پڑھیں: امریکی عدالت نے ٹرمپ انتظامیہ کو اینتھروپک کے خلاف کارروائی سے روک دیا
عدالتی دستاویزات کے مطابق، تینوں افراد کو افغانستان اور پاکستان میں واقع مختلف ٹھکانوں میں 7 ماہ سے زائد عرصے تک قید رکھا گیا۔
اغوا کاروں نے رہائی کے بدلے تاوان اور متعدد طالبان قیدیوں کی رہائی کا مطالبہ کیا تھا۔
CASE UPDATE from @NewYorkFBI: Former Taliban Commander Sentenced to 42 Years in Prison for Hostage Taking and Providing Material Support for Acts of Terrorism Resulting in Death
Haji Najibullah was sentenced for terrorism charges based on his role in the hostage taking of an… pic.twitter.com/yanlw01d9w
— FBI (@FBI) June 9, 2026
پروسیکیوٹرز کے مطابق دورانِ قید مغویوں کو ’زندہ ہونے کے ثبوت‘ کے طور پر ویڈیوز ریکارڈ کرنے پر مجبور کیا گیا، جن میں طالبان جنگجو انہیں ہتھیاروں کے ساتھ دھمکاتے رہے۔
حاجی نجیب اللہ 2007 میں وردک صوبے میں طالبان کمانڈر کے طور پر سرگرم رہے اور امریکی حکام کے مطابق وہ امریکی افواج پر حملوں میں بھی ملوث تھے۔
مزید پڑھیں: امریکی عدالت نے پریس پر پابندیوں کو غیر آئینی قرار دے دیا، پنٹاگان پریشان
اغوا کے وقت ڈیوڈ روہڈ معروف امریکی اخبار دی نیویارک ٹائمز کے لیے کام کر رہے تھے۔
ڈیوڈ روہڈ اور ان کے مترجم بعد ازاں 7 ماہ کی قید کے بعد فرار ہونے میں کامیاب ہو گئے تھے۔
رپورٹس کے مطابق حاجی نجیب اللہ کو اکتوبر 2020 میں یوکرین سے گرفتار کیا گیا تھا اور بعد میں انہیں مقدمے کے لیے امریکا منتقل کیا گیا۔














