سیکیورٹی اور تحقیقاتی اداروں کی جانب سے سامنے آنے والے شواہد میں ایک مبینہ منظم ملک دشمن نیٹ ورک کی نشاندہی کی گئی ہے، جس میں فتنہ الخوارج، بھارتی خفیہ ایجنسی ’را‘ اور کالعدم ایکشن کمیٹی کے درمیان روابط کا دعویٰ کیا گیا ہے۔ ذرائع کے مطابق افغانستان میں موجود خارجی شہزاد کی ایک آڈیو اور ویڈیو منظر عام پر آئی ہے، جس کے بعد تحقیقات کا دائرہ مزید وسیع کر دیا گیا ہے، جبکہ مبینہ سہولت کاروں، رابطہ کاروں اور آلہ کاروں کے خلاف قانونی کارروائی جاری ہے۔
یہ بھی پڑھیں:آزاد کشمیر: مطالبات کی ریکارڈ منظوری کے باوجود احتجاج، جوائنٹ ایکشن کمیٹی کا ایجنڈا سامنے آگیا
سیکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ سامنے آنے والی آڈیو اور ویڈیو نے فتنہ الخوارج، بھارتی ’را‘ اور کالعدم ایکشن کمیٹی کے مبینہ گٹھ جوڑ کو بے نقاب کر دیا ہے، جس کا مقصد پاکستان میں بدامنی، انتشار اور ریاست مخالف بیانیے کو فروغ دینا تھا۔
ذرائع کے مطابق ویڈیو میں واضح طور پر دیکھا جا سکتا ہے کہ خارجی شہزاد افغانستان کی سرزمین پر بیٹھ کر بھارت کا تحریر کردہ پاکستان مخالف بیانیہ پڑھ رہا ہے۔ سیکیورٹی حکام کے نزدیک یہ امر اس بات کا واضح اشارہ ہے کہ معاملہ محض مقامی احتجاج تک محدود نہیں بلکہ بیرونی سرپرستی میں چلنے والی ایک منظم بیانیہ سازی کا حصہ ہے۔

شواہد کے مطابق خارجی شہزاد افغانستان سے براہ راست کالعدم جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کو پاکستان میں بے امنی، انتشار اور نقصِ امن پیدا کرنے کے لیے باقاعدہ ہدایات اور لائن آف ایکشن جاری کر رہا تھا۔
تحقیقاتی ذرائع کا کہنا ہے کہ کالعدم ایکشن کمیٹی کے ساتھ مبینہ روابط سے یہ پہلو بھی سامنے آیا ہے کہ عوامی مسائل کے نام پر بیرونی ایجنڈے کو آگے بڑھانے، ہجوم کو استعمال کرنے اور ریاستی رٹ کو چیلنج کرنے کی کوشش کی گئی۔
یہ بھی پڑھیں:جموں کشمیر جوائنٹ ایکشن کمیٹی کے متحرک رہنما شوکت نواز میر کون ہیں؟
ذرائع کے مطابق شواہد کی روشنی میں تحقیقات کا دائرہ وسیع کر دیا گیا ہے اور اس نیٹ ورک سے وابستہ مبینہ سہولت کاروں، رابطہ کاروں اور دیگر عناصر کے کردار کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔
سیکیورٹی حکام کا کہنا ہے کہ ریاست پاکستان ایسے ملک دشمن عناصر، ان کے سہولت کاروں اور بیرونی اشاروں پر کام کرنے والے نیٹ ورکس کے خلاف قانون کے مطابق فیصلہ کن کارروائی جاری رکھے گی تاکہ امن، استحکام اور قومی سلامتی کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔














