محکمہ موسمیات نے بدھ کے روز ملک کے بڑے حصوں میں 11 سے 13 جون کے دوران گرد آلود طوفان، تیز ہواؤں، بارش اور گرج چمک کے ساتھ طوفانی موسم کی پیشگوئی کی ہے۔
دوسری جانب محکمہ موسمیات نے شہری سیلاب، لینڈ سلائیڈنگ اور کمزور انفراسٹرکچر کو نقصان پہنچنے کا خدشہ بھی ظاہر کیا گیا ہے۔
محکمہ موسمیات کے مطابق 11 جون کو ملک کے بالائی علاقوں میں مغربی ہواؤں کا ایک سسٹم داخل ہونے کا امکان ہے جو 13 جون تک برقرار رہے گا۔
یہ بھی پڑھیں: شدید گرمی اور خشک موسم سے ایشیا کی فصلیں متاثر، طاقتور ’ایل نینو‘ کے خدشات بڑھ گئے
جبکہ اسی دوران بحیرۂ عرب سے مرطوب ہوائیں بھی ملک کے بالائی اور وسطی علاقوں میں داخل ہوں گی۔
اس موسمی نظام کے زیر اثر اسلام آباد، پنجاب، خیبر پختونخوا، آزاد جموں و کشمیر اور گلگت بلتستان میں وقفے وقفے سے گرد آلود طوفان، تیز ہوائیں اور بارش و گرج چمک کے ساتھ بعض مقامات پر شدید بارش اور ژالہ باری کا امکان ہے۔
شمال مشرقی بلوچستان میں بھی بارش اور گرج چمک کی پیشگوئی کی گئی ہے، جبکہ بالائی سندھ میں اس دوران گرد آلود طوفان اور تیز ہوائیں چلنے کا امکان ہے۔
مزید پڑھیں: عالمی موسمیاتی ادارے کی وارننگ، گرمی کی نئی لہر اور غیر معمولی بارشیں متوقع
محکمہ موسمیات نے خبردار کیا ہے کہ شدید ہوائیں، ژالہ باری اور بجلی گرنے کے واقعات کمزور ڈھانچوں، سولر پینلز، بجلی کے کھمبوں اور بل بورڈز کو نقصان پہنچا سکتے ہیں۔
مزید کہا گیا ہے کہ شدید بارش شہری علاقوں اسلام آباد، راولپنڈی، لاہور، گوجرانوالہ، سیالکوٹ اور فیصل آباد کے نشیبی علاقوں میں اربن فلڈنگ کا باعث بن سکتی ہے، جبکہ گلگت بلتستان، کشمیر اور بالائی خیبر پختونخوا کے پہاڑی علاقوں میں لینڈ سلائیڈنگ کا خطرہ ہے۔
پی ایم ڈی نے کسانوں کو ہدایت کی ہے کہ وہ اپنی فصلوں کے تحفظ کے لیے ضروری اقدامات کریں، جبکہ سیاحوں اور مسافروں کو احتیاط برتنے اور غیر ضروری سفر سے گریز کرنے کا مشورہ دیا گیا ہے۔














